دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

عبارت الحاقی ہے ورنہ امام بخاری ضرور لیتے۔چوتھے یہ کہ حضرت ابوحمید نے بھی یہ نہ فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ عمل آخر تک رہا بلکہ اس فعل منسوخ کا ذکر کیا جسے حضور صلی اللہ علیہ و سلم پہلے کرتے تھے بعد میں چھوڑ دیا۔پانچویں یہ کہ یہ حدیث قیاس کے بھی خلاف ہے کیونکہ رکوع کی تکبیر سجدے کی تکبیر کے مشابہ ہے نہ کہ تکبیر تحریمہ کے کیونکہ تکبیرتحریمہ فرض ہے یہ سنت،وہ نماز میں ایک بار یہ بار بار،تو چاہیے کہ جیسے سجدے کی تکبیر میں رفع یدین نہیں ہوتا ایسے ہی اس میں بھی نہ ہو۔چھٹے یہ کہ فقہاءو صحابہ جیسے حضرت ابن مسعود،حضرت علقمہ،حضرت عبداﷲ ابن عباس،حضرت عبداﷲ ا بن زبیر،براء ابن عازب وغیرہم اس کے خلاف روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے صرف تکبیر تحریمہ پر ہاتھ اٹھائے پھر نہ اٹھائے۔وہ حضرات نماز میں بالکل حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے پیچھے رہتے تھے اس لیے ان کی روایت اس روایت سے قوی تر ہے۔اس کی بہت تحقیق ہماری کتاب"جاء الحق"حصہ دوم میں دیکھو۔

۸؎ یعنی ترمذی نے اس حدیث کو حسن صحیح نہیں کہا جو یہاں مذکور ہوئی،اس میں تویہ حدیث ہے ہی نہیں بلکہ اس کے ہم معنی کوئی اور حدیث ہے جسے حسن صحیح کہا ہے۔یہ حدیث تو بے حد ضعیف اور ناقابل عمل ہے۔چنانچہ فقیر نے ترمذی باب رفع یدین دیکھا وہاں ابن عمر کی روایت نقل کی۔حدیث ابوحمید کو فِی الْبَابِ کہہ کر بیان فرمایا اور پھر آخر میں فرمایا ابو عیسیٰ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے،ناظرین اس عبارت سے دھوکا نہ کھائیں اگر ترمذی کے نزدیک یہ حدیث ابوحمید صحیح ہوتی تو ا س کا ذکر فرماتے باقی روایتوں کی طرف فِی الْبَابِ کہ کر اشارہ فرماتے جیسا کہ ان کا قاعدہ ہے۔معلوم ہوا کہ ان کے نزدیک بھی یہ حدیث بالکل ضعیف ہے۔

۹؎  ابوداؤد میں یہ حدیث ابوحمید بہت روایتوں سے مروی ہے مگر سب میں عبدالحمید ابن جعفر یا محمد ابن عمرو عطا ہیں،یہ دونوں ضعیف ہیں۔امام ماروی نے جوہرنقیع میں فرمایا کہ عبدالحمید منکر حدیث ہے لہذا یہ ساری اسنادیں مجہول،مضطرب،مدلس قریبًا موضوع ہیں۔دیکھو حاشیہ ابوداؤد یہی مقام اور ہماری کتاب "جاءالحق"حصہ دوم۔

۱۰؎ یعنی بحالت رکوع ہیئات کمان کی سی ہوتی کہ ہاتھ سیدھے قدرے خم دار اور  پیٹھ ٹیڑھی۔ہاتھ کا یہ خم اس لیے ہوتا تھا کہ پہلوؤں سے دور ہیں۔

۱۱؎ یہ حدیث روایت مسلم کے خلاف ہے جو ابھی گزر چکی۔جس میں تھا کہ آپ سجدہ دو ہتھیلیوں کے بیچ میں کرتے،چونکہ یہ حدیث ہی ضعیف اور ناقابل عمل ہے اس لیے مسلم کی وہ حدیث قابل عمل ہوگی۔

۱۲؎ یعنی دوسری التحیات میں نہ تو بائیں پاؤں پر بیٹھتے نہ داہنا پاؤں کھڑا کرتے بلکہ دونوں پاؤں ایسے بچھاتے کہ داہنے پاؤں کا سینہ قبلہ کی طرف ہوجاتا،لہذا یہ حدیث شوافع کے بھی خلاف ہےکیونکہ وہ داہنا پاؤں کھڑا کرتے ہیں۔

۱۳؎ اس طرح کہ التحیات میں داہنے ہاتھ کی کلمے کی انگلی لَا اِلٰہَ پر اٹھاتے اور اِلَّا اﷲُ پر گراتے جیسا کہ آج کل عام عمل ہے۔

۱۴؎یعنی دونوں پاؤں داہنی جانب بچھادیتے اور زمین پر بیٹھتے،ہم ابھی عرض کرچکے ہیں کہ یہ حدیث نہ ہمارے موافق ہے نہ شوافع کےکیونکہ وہ حضرات اپنا داہنا پاؤں کھڑا کرتے ہیں جیسا کہ مسلم کی روایت میں گزر چکا ہے۔

802 -[13]

وَعَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ: أَنَّهُ أَبْصَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ  قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى كَانَتَا بِحِيَالِ مَنْكِبَيْهِ وحاذى بإبهاميه أُذُنَيْهِ ثُمَّ كَبَّرَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ: يَرْفَعُ إِبْهَامَيْهِ إِلَى شَحْمَةِ أُذُنَيْهِ

روایت ہے حضرت وائل ابن حجر سے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا کہ جب آپ نماز کو کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے حتی کہ ہاتھ تو کندھوں کے مقابل ہوگئے اور اپنے انگوٹھوں کو کانوں کے مقابل کردیا پھرتکبیر کہی۔ابوداؤد اور اس کی دوسری روایت میں ہے کہ اپنے انگوٹھے کانوں کی گدیوں تک اٹھاتے  ۱؎

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن