30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
997 -[20] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا بُنَيَّ إِيَّاكَ وَالِالْتِفَاتَ فِي الصَّلَاةِ فَإِنَّ الِالْتِفَاتَ فِي الصَّلَاةِ هَلَكَةٌ. فَإِنْ كَانَ لابد فَفِي التَّطَوُّع لَا فِي الْفَرْضِيَّة» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے میرے بچے نماز میں التفات سے بچو کیونکہ نماز میں التفات ہلاکت ہے اگر ضروری ہو تو نفل میں ہو نہ کہ فرض میں ۱؎(ترمذی) |
۱؎ کیونکہ نفل میں گنجائش ہے فرض میں تنگی،دیکھو نفل میں قیام پر قادر ہونے کے باوجود بیٹھ کر پڑھنا جائز ہے۔حدیث کا مطلب یہ ہے کہ فرض میں التفات زیادہ مکروہ ہے نفل میں کم،یہاں التفات سے وہی مراد ہوگا جو پہلے عرض کیا گیا یعنی منہ پھیر کر دیکھنا،ہلاکت سے مراد ثواب گھٹ جانا ہے۔قرآن شریف میں یہ لفظ تین معنے میں آیا ہے:(۱)اپنی چیز غیر کے پاس پہنچ جانا (۲)شے کا فنا ہوجانا(۳)موت۔
|
998 -[21] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَلْحَظُ فِي الصَّلَاةِ يَمِينًا وَشِمَالًا وَلَا يَلْوِي عُنُقَهُ خَلْفَ ظَهْرِهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ |
روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرماتے ہیں کہ رسول ا ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں دائیں بائیں کنکھیوں سے دیکھتے تھے اور اپنی گردن پیٹھ کے پیچھے نہ موڑتے تھے ۱؎ (ترمذی،نسائی) |
۱؎ یہ حدیث گزشتہ ان احادیث کی شرح ہے جن میں التفات سے منع کیا گیا اس نے بتایا کہ وہاں مراد سر پھیر کر دیکھنا تھا بغیر سر پھیر ے دیکھنا جائز اگر چہ خلاف مستحب ہے حضور علیہ السلام کا یہ فعل شریف بیان جواز کے لیے ہے حضور علیہ السلام کو بعض مکروہ فعلوں پر مستحب کا ثواب ملتا ہے کیونکہ آ پ کی یہ عملی تبلیغ ہے۔(مرقاۃ)
|
999 -[22] وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَفَعَهُ قَالَ: «الْعُطَاسُ وَالنُّعَاسُ وَالتَّثَاؤُبُ فِي الصَّلَاةِ وَالْحَيْضُ وَالْقَيْءُ وَالرُّعَافُ مِنَ الشَّيْطَانِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت عدی ابن ثابت سے ۱؎ وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی اسے مرفوع کیا فرماتے ہیں کہ نماز میں چھینک،اونگھ،جمائی،حیض،قے اور نکسیر شیطان سے ہیں ۲؎ (ترمذی) |
۱؎ تابعی ہیں،انصاری ہیں،کوفی ہیں،ابن حبان اور ابو حاتم نے انہیں ثقہ کہا،بعض محدثین نے کہا ہے کہ یہ غالی شیعہ تھا،شعیوں کی مسجد کا امام تھا انہی کا عالم وقاضی تھا اس کے دادا کا نام دینار ہے جو صحابی تھے۔
۲؎ یعنی یہ وہ چیزیں ہیں کہ جب یہ نماز میں آجائیں تو شیطان ان سے خوش ہوتا ہے کہ میں نے اس کی نماز میں خلل ڈال دیا،ورنہ یہ چیزیں ممنوع ہیں نہیں،قدرتی ہیں بلکہ چھینک تو خدا کی نعمت ہے جب کہ بیماری سے نہ ہو۔
|
1000 -[23] وَعَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي وَلِجَوْفِهِ أَزِيزٌ كَأَزِيزِ الْمِرْجَلِ يَعْنِي: يَبْكِي وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَفِي صَدْرِهِ أَزِيزٌ كَأَزِيزِ الرَّحَا مِنَ الْبُكَاءِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرَوَى النَّسَائِيُّ الرِّوَايَةَ الْأُولَى وَأَبُو دَاوُدَ الثَّانِيَة |
روایت ہے حضرت مطرف ابن عبداﷲ ابن شخیر سے ۱؎ وہ اپنے والد سے راوی فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نماز پڑھ رہے تھے اور آپ کے پیٹ میں ہانڈی کی سی کھولن تھی یعنی رو رہے تھے ۲؎ اور ایک روایت میں ہے فرماتے ہیں میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا حالانکہ آپ کے سینے میں رونے سے چکی کی سی گڑگڑاہٹ تھی۔(احمد)اور نسائی نے پہلی روایت اور ابوداؤد نے دوسری روایت کی۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع