30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
970 -[12] وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَأَنْ أَقْعُدَ مَعَ قَوْمٍ يَذْكُرُونَ اللَّهَ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ أَرْبَعَةً مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ وَلَأَنْ أَقْعُدَ مَعَ قَوْمٍ يَذْكُرُونَ اللَّهَ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ أَرْبَعَة» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے کہ میرا ان لوگوں سے بیٹھنا جو فجر کی نماز سے سورج نکلنے تک اﷲ کا ذکر کرتے ہیں مجھے اس سے زیادہ پیارا ہے کہ اولاد اسماعیل کے چار غلام آزاد کروں ۱؎ اور میرا اس قوم کے ساتھ بیٹھنا جو عصر کی نماز سے سورج ڈوبنے تک اﷲکا ذکر کریں مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ چار غلام آزاد کردوں ۲؎(ابوداؤد) |
۱؎ چونکہ اس بیٹھنے میں چار عبادتیں ہیں:اچھوں کی صحبت اﷲ کا ذکر،مسجد کی حاضری اور نماز اشراق کا انتظار،ان میں سے ہر عبادت ایک غلام آزاد کرنے سے افضل اس لیے چار غلاموں کا ذکر فرمایا گیا،نیز اولا د اسماعیل دوسرے لوگوں سے افضل ہے اس لیے ان کے چار غلام آزاد کرنا دوسرے غلام کے آزاد کرنے سے افضل۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز اشراق تک مسجد میں ٹھہرنا اور صالحین کے ساتھ بیٹھنا اور اﷲ کا ذکر کرنا بہت بہتر ہے۔اﷲ کے ذکر میں دعا، تلاوت قرآن،علم دین اور صالحین کا ذکر سب شامل ہے۔(ازمرقاۃ) اکثر لوگ اس وقت تلاوت قرآن کرتے ہیں ان کا ماخذ یہی حدیث ہے۔بعض فقہاء نے سورج طلوع ہوتے وقت تلاوت کو غیر مستحب فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت سجدہ نہیں ہوسکتا اور کبھی تلاوت کے دوران سجدے کی آیت بھی آجاتی ہے۔
۲؎ بعض صوفیاء عصر سے مغرب تک مسجدوں میں مراقبے کرتے ہیں کسی سے کلام نہیں کرتے،ان کی اصل یہ حدیث ہے۔ اس سے معلوم ہورہا ہے کہ فجر کے بعد مسجد میں بیٹھنا اس بیٹھنے سے افضل ہے کیونکہ وہاں چار اسمعیلی غلاموں کا ذکر تھا، یہاں مطلقًا چار فرمائے۔خیال رہے کہ احناف کے نزدیک عرب غلام نہیں بنائے جاسکتے لہذا اولاد اسمعیل سے مراد غیر عرب مراد ہوں گے یا یہ حکم فرضًا ہے(ازمرقاۃ)
|
971 -[13] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى الْفَجْرَ فِي جَمَاعَةٍ ثُمَّ قَعَدَ يَذْكُرُ اللَّهَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَانَتْ لَهُ كَأَجْرِ حَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ» . قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَامَّةٍ تَامَّةٍ تَامَّةٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فجر جماعت سے پڑھے پھر سورج نکلنے تک بیٹھ کر اﷲ کا ذکر کرے ۱؎ پھر دو رکعتیں پڑھے تو اسے حج اور عمرے کا ثواب ملے گا ۲؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول ا ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے کا پورےکا پورے کا ۳؎ (ترمذی) |
۱؎ سورج نکلنے سے مراد آفتاب بلند ہونا یعنی چمکنے سے دو منٹ بعد کیونکہ چمکتے وقت نماز ممنوع ہے اور بیٹھنے سے مراد مسجد میں رہنا ہے لہذا اس وقت طواف یا وعظ یا طلب علم کے لیے مسجد کے کسی گوشہ میں منتقل ہونا مضر نہیں بلکہ مرقاۃ نے فرمایا کہ جو فجر کے بعد اپنے گھر آجائے مگر اﷲ کے ذکر میں مشغول رہے پھر دو نفل پڑھ لے وہ بھی اس میں داخل ہے۔
۲؎ حج فرض ہے عمرہ سنت،ایسے ہی نماز فجر فر ض اور رکعتیں سنت اس لیے ان دونوں کے جمع کرنے میں حج و عمرے کا ثواب ہے۔ظاہر یہ ہے کہ ان نفلوں سے مراد نفل اشراق ہیں جن کا وقت طلوع آفتاب سے شروع ہوجاتا ہے نماز چاشت کا وقت شروع اسی وقت سے ہوتا مگر ختم نصف النہار پر۔
۳؎ یعنی کامل حج و عمرہ کا ثواب ملے گا جو فرائض،واجبات،سنتوں اور مستحبات کے ساتھ ادا کیے جائیں۔خیال رہے کہ حج و عمرے کا ثواب ملنا اور ہے انکا ادا ہونا کچھ اور لہذا س کا مطلب یہ نہیں کہ مسلمان حج چھوڑدیں صرف اشراق پڑھ لیا کریں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع