30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مت دبا قرضہ کسی کا نابَکار
روئے گا دوزخ میں ورنہ زار زار
عرض : اگر کوئی شخص قرض لے اور اس کی نیت بھی ادا کرنے کی ہو مگر اس کے باوجود وہ ادا نہ کر پائے توایسے شخص کے بارے میں کیا حکم ہے ؟
ارشاد : اگر کوئی شخص ادا کرنے کی نیت سے قرض لے تواللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی اچھی نیت کی بدولت اس کے لیے اَسباب پیدا فرما دے گا جس سے اس کا قرض اُتر جائے گا۔حُضُورِ اکرم، نورِمجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ معظم ہے : جس شخص نے لوگوں کا مال( بطورِقرض )لیا او ر وہ اس کے ادا کرنے کی نیّت رکھتا ہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی طرف سے ادا کردیتا ہے اور جو ہضم کرنے کے لیے لیتا ہے اللہ تَعَالٰی اسے ادا کرنے کی توفیق نہیں دیتا۔([1])
اسحدیثِ پاک کے تحت شارحِ بخاری مفتی شریف الحق امجدی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں : یہ حسنِ نیت کی برکت اور بدنیتی کی نحوست کا بیان ہے کہ جو شخص انشراحِ صدر کے ساتھ ادا کرنا چاہے گااللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی مدد فرمائے گا تاکہ وہ آخرت کے مواخذہ سے بچ سکے اور جس کی نیت میں فتور ہوتا ہے اسے اس توفیق سے محروم رکھتاہے اور وہ قرض ادا نہ کرنے کے وبال میں گرفتار رہتاہے۔ ([2])
اچھی نیت سے قرض لینے والے کے قرض کی ادائیگی کے لیے فرشتے دعا کرتے ہیں جیساکہ حُجَّۃُالْاِسْلامحضرتِ سیِّدُنا امام محمدبن محمد غزالیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالوَالِی فرماتے ہیں : جو شخص قرض لیتا ہے اور یہ نیّت کرتاہے کہ میں اچھی طرح ادا کر دوں گا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّاُس پر چند فِرشتے مُقرّر فرمادیتا ہے جو اس کی حفاظت کرتے اور اس کے لیے دُعا کرتے ہیں کہ اس کا قرض ادا ہو جائے اور اگرقرضدار قرض ادا کرنے کی طاقت رکھتا ہے تو اب قرض خواہ کی مرضی کے بغیر ایک گھڑی بھربھی تاخیر کرے گا تو گنہگار ہوگا اور ظالِم قرار پائے گا۔ چاہے روزے کی حالت میں ہو یا سویا ہوا ہو اُس کے ذِمّے برابر گناہ لکھاجاتارہے گااور ہر حال میں اس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّکی لعنت پڑتی رہے گی۔یہ ایک ایسا گناہ ہے جو نیند کی حالت میں بھی اُ س کے ساتھ رہتاہے اور ادا کرنے کی طاقت کے لیےیہ شرط نہیں کہ نَقْد رقم ہو بلکہ اگر کوئی چیز(مثلاً گھر کے برتن، فرنیچر، فریزر وغیرہ) بیچ کرادا کرسکتا ہے تو ایسا بھی کرنا پڑے گا۔([3])
عرض : کیاقرضدار کو مہلت دینے کی بھی کوئی فضیلت ہے ؟
ارشاد : جی ہاں۔قرض دار کو مہلت دینے اور تقاضے میں نرمی برتنے کے قرآن و حدیث میں بَہُت فضائل بیان ہوئے ہیں چنانچہ پارہ 3سورۃُ البقرہ کی آیت نمبر 280میں ارشادِ ربّ العباد ہے :
وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)
ترجمۂ کنز الایمان : اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل چھوڑ دینا تمہارے لئے اور بھلاہے اگر جانو ۔
اس آیتِ مبارکہ کے تحت صدرُ الافاضل حضرتِ علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مُرادآبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِیفرماتے ہیں : ” قرضدار اگر تنگ دست یا نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یاقرض کا جزو یا کل معاف کردینا سببِ اجرِ عظیم ہے۔مُسلِم شریف کی حدیث ہے سیِّدِعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرضہ معاف کیا اللہ تَعَالٰی اس کو اپنا سایۂ رحمت عطا فرمائے گا جس روز اس کے سایہ کے سِوا کوئی سایہ نہ ہوگا۔“
سرکارِمدینۂ منوَّرہ، سردارِ مکۂ مکرَّمہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافرمانِ عالیشان ہے : جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ اللہ تَعَالٰی اسے قیامت کے دن غم سے بچائے، تو اُسے چاہیے کہ تنگدست قرضدار کومُہْلَت دے یا قر ض کا بوجھ اس کے اُوپر سے اُتاردے(یعنی معاف کردے)۔([4])
ہمارے بزرگانِ دینرَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِین نہ صرف اپنے قرضدار کو قرض کی ادائیگی میں مہلت دیتے ، تقاضے میں نرمی کا برتاؤ کرتے بلکہ بسااوقات قرض کی معافی سے بھی نواز دیا کرتے تھے جیساکہ حضرتِ سَیِّدُنا شقیق بن ابراہیمعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالکَرِیم فرماتے ہیں کہ میں ایک دن حضر تِ سَیِّدُنا امام اعظمعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْاَکرَم کے ساتھ کسی راستے سے گزر رہا تھا جبکہ آپ رَحمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کسی مریض کی عیادت کے لیے جا رہے تھے۔آپ رَحمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے دور سے ایک شخص آتا دیکھا لیکن اس نے فوراً اپنے آپ کو حضرتِ سَیِّدُنا امام اعظمعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْاَکرَم سے چھپاتے ہوئے راستہ بدل لیا۔آپ رَحمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اُسے نام لے کر پکارا اورفرمایا : تم جس راستے پر ہو اُسی پر چلتے آؤ، دوسری راہ اختیار نہ کرو۔اس نے دیکھا کہ امام صاحب رَحمَۃُ اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اسے پہچان لیا ہے اور بلالیا ہے تو بہت شرمندہ ہوا اور وہیں رُک گیا۔آپرَحمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے اس سے پو چھا : تم نے اپنا راستہ کیوں تبدیل کیا ؟اس نے بتایا : حضور! آپ کا میرے ذِمّے دس ہزار درہم قرض ہے اور اس بات کو عرصہ ہو چکاہے مگر میں آپ کا قرض ادا نہ کرسکا تو مجھے آپ کو دیکھ کر بہت شرم محسوس ہوئی۔(یعنی میں اس شرمندگی کی وجہ سے آپ کو منہ دکھانا نہیں چاہتا تھا)آپرَحمَۃُ اللّٰہِتَعَالٰی عَلَیْہِ نے اس سے فرمایا : سُبْحٰنَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ! تیرامعاملہ یہاں تک پہنچ گیا کہ تم نے مجھے دیکھا تو مجھ سے(قرض کے تقاضے کے خوف اور شرمندگی کی وجہ سے ) خود کو چھپا لیا، جاؤ! میں نےتمہیں اپنا تمام قرض معاف کیا اورمیں خود اس پر گواہ ہوں، آئندہ مجھ سے آنکھ نہ بچانا اور میری طرف سے جوچیز تمہارے دل میں داخل ہوئی ہے اس سے خودکو بری سمجھ کر مجھ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع