دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Masajid kay Aadab | مساجد کے آداب

book_icon
مساجد کے آداب

پھر اُس کو بھول جائے تو قیامت کے دن اللہ   عَزَّ وَجَلَّ کے پاس کوڑھی ہو کرآئے گا۔ ([1])

ایکاورمقام پرارشاد فرمایا : قیامت کے دن میری اُمَّت کو جس گناہ کا پورا پو را بدلہ دیاجائے گاوہ یہ ہے کہ ان میں سے کسی کو قرآنِ پاک کی کوئی سورت یاد تھی پھر اس نے اسے بھلا دیا۔([2])

اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنّت، مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن  فرماتے ہیں : اس(یعنی قرآنِ مجید کو یاد کرکے بھول جانےوالے)سے زیادہ نادان کون ہے جسے خدا ایسی ہمت بخشے اور وہ اسے اپنے ہاتھ سے کھودے۔ اگر قدر اِس کی جانتا اور جو ثواب اور دَرَجات اس پر مَوْعُود ہیں(یعنی جن کا وعدہ کیا گیا ہے) ان سے واقف ہوتا تو اسے جان و دل سے زیادہ عزیز رکھتا۔ مزید فرماتے ہیں : جہاں تک ہو سکے اس کے پڑھانے اور حِفظ کرانے اور خود یادرکھنے میں کوشِش کرے تا کہ وہ ثواب جو اس پرمَوعُود ہیں حاصِل ہوں اور روزِ قیامت اَندھا کوڑھی ہوکر اُٹھنے سے نَجات پائے۔ ([3])حُفّاظ کِرام کو سخت محنت اور احتیاط کی ضَرورت ہے۔انہیں چاہیے کہ دِن رات کوشش کریں اور قرآنِ پاک کو یاد رکھیں تاکہ  ثواب کے حقدار بنیں اور قیامت کے دن کوڑھی ہوکر اٹھنے سے نجات پائیں۔

قرض کی ادائیگی میں بلاوجہ تاخیر کرنا

عرض : قرض کی ادائیگی میں بلاوجہ  تاخیر کرنا یا  قرض ہی دبالیناکیسا ہے ؟

ارشاد : فقہائے کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام نے بلاحاجتِ شرعی ادائے قرض میں تاخیر کو بھی ظلم قرار دیاہے تو کسی سے قرض لے کر سرے سے واپس ہی نہ کرنا تو اس سے بھی سخت ترمعاملہ ہے۔ اس بارے  میں چند احادیثِ مبارکہ ملاحظہ فرمائیے اور اس سے بچنے کی کوشش کیجیے :

سرکارِعالی وقار ، مدینے کے تاجدار، حبیبِ پروردگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : (قرض کی ادائیگی میں) صاحبِ استطاعت کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔([4])استطاعت والےکا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا، اس کی آبرو (عزّت) اور اس کی سزا کو حلال کر دیتا ہے۔([5])یعنی اُسے بُرا کہنا اُس پر طعن و تشنیع کرنا جائز ہو جاتا ہے۔ ([6])

تاجدارِ مدینہ، راحتِ قلب وسینہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا : شہید(یعنی وہ شخص جس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں جان دی ہے اس ) کا ہر گناہ مُعاف ہوجائے گا سوائے قرض کے۔([7])

حضرتِ سَیِّدُنا ابُو سعید خُدریرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ نبیٔ کریم،  رَءُوْفٌ رَّحیمعَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰو ۃِ  وَ التَّسْلِیْم کی خدمت میں نماز پڑھانے کے لیے جنازہ لایا گیا تو حضور سیِّد دوعالم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے پوچھا : اس مرنے والے پرکوئی قرض تو نہیں ہے ؟ عرض کی گئی ، جی ہاں! اس پر قرض ہے۔حُضُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے استفسار فرمایا : اس نے کچھ مال بھی چھوڑا ہے کہ جس سے یہ قرض ادا کیاجاسکے ؟ عرض کی گئی :  نہیں ۔ تو حُضُور سیِّد دو عالَم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’تم لوگ اس کی نمازِ جنازہ پڑھ لو(میں نہیں پڑھوں گا)۔“حضرتِ سیِّدُنا مولیٰ علیکَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے یہ دیکھ کر عرض کی : یارسولَ اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ !میں اس کے قرض کو ادا کرنے کی ذِمّہ داری لیتا ہوں۔حُضُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  آگے بڑھے اور نمازِ جنازہ پڑھائی اور فرمایا : ’’اے علی(رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ)! اللہ تَعَالٰی تجھے جزائے خیردےاورتیری جاں بخشی ہو جیسے کہ تُو نے اپنے اس مسلمان بھائی کے قر ض کی ذِمّہ داری لے کر اس کی جان چھڑائی ۔ کوئی بھی مسلمان ایسا نہیں ہے جو اپنے مسلمان بھائی کی طر ف سے اس کا قرضہ اداکرے مگر یہ کہ اللہ تَعَالٰی قِیامت کے دن اس کو رِہائی بخشے گا۔‘‘ ([8])

میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت  مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن  سے قرضے کی ادائیگی  میں سُستی اورجُھوٹے حِیَل و حُجّت کرنے والے شخص زید کے بارے میں اِستِفسار ہواتوآپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ نے اِرشاد فرمایا : زید فاسِق وفاجِر، مُرتَکِبِ کَبائر، ظالِم، کذّاب، مُستحَقِ عذاب ہے ۔ اس سے زِیادہ اور کیا اَلقاب اپنے لئے چاہتا ہے؟اگراِس حالت میں مر گیا اوردَین(قرض) لوگوں کا اِس پر باقی رہا ، اِس کی نیکیاں اُن(قرض خواہوں ) کے مُطالَبہ میں دی جائیں گی اورکیونکر دی جائیں گی(یعنی کس طرح دی جائیں گی۔یہ بھی سُن لیجیے)تقریباً تین پیسہ دَین(قرض)کے عِوَض(یعنی بدلے) سات سو نَمازیں باجماعت(دینی پڑیں گی)۔ جب اِس (قرضہ دبا لینے والے) کے پاس نیکیاں نہ رہیں گی اُن(قرض خواہوں) کے گناہ اِس (مقروض) کے سر پر رکھے جائیں گے اور آگ میں پھینک دیا جائے  گا ۔([9])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حُقُوقُ العباد کا مُعامَلہ نہایت ہی سخت ہے۔ اگر آپ نے کسی سے قرض لیا اور ادائیگی کے لیے رقم پاس نہیں ہے مگر گھر کے اَسباب ، فرنیچروغیرہ بیچ کر قرض ادا کیا جاسکتا ہے تویہ بھی کرنا پڑے گا۔قرض ادا کرنے کی ممکن صُورت ہونے کے باوُجُود قرضدار سے مہلت لیے بغیر آپ قرض کی ادائیگی میں جب تک تاخیر کرتے رہیں گےگنہگار ہوتے رہیں گے۔خواہ آپ جاگ رہے ہوں یا سو رہے ہوں آپ کے گناہوں کا مِیٹرچلتا رہے گا، اَلْاَمَان وَالْحَفِیْظ۔جب قرض کی ادائیگی میں تاخیر کا یہ وَبال ہےتو جو کوئی پُورا قرض ہی دبالے اُس کا کیا حال ہوگا؟

 



[1]      اَبوداود، کتاب الوتر، باب التشدید فیمن حفظ القرآن ثم نسیہ، ۲/ ۱۰۷، حدیث : ۱۴۷۴

[2]      کنزالعُمّال، کتاب الاذکار، الفصل الثالث...الخ، الجزء : ۱، ۱ /  ۳۰۶، حدیث : ۲۸۴۳

[3]       فتاویٰ رضویہ، ۲۳/۶۴۵-۶۴۷

[4]       بخاری، کتاب فی الاستقراض...الخ، باب مطل الغنی ظلم، ۲/ ۱۰۹، حدیث : ۲۴۰۰

[5]       بخاری، کتاب فی الاستقراض...الخ، باب لصاحب الحق مقال، ۲/ ۱۰۹، حدیث : ۲۴۰۰

[6]       فتاویٰ رضویہ، ۲۵/۶۹

[7]        مُسْلِم، کتاب الاِمارة، باب من قتل فی سبیل اللّٰہ...الخ، ص۱۰۴۶، حدیث : ۱۸۸۶

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن