دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Masajid kay Aadab | مساجد کے آداب

book_icon
مساجد کے آداب

ارشاد : سوتے وقت عمامے اور مصلے کو تکیہ نہیں بنانا چاہیے کہ یہ خِلافِ ادب ہے جیسا کہ صَدْرُالشَّریعہ، بَدْرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی  فرماتے ہیں : پاجامہ کا تکیہ نہ بنائے کہ یہ ادب کے خلاف ہے اور عِمامَہ کا بھی تکیہ نہ بنائے۔([1])حیاتِ اعلیٰ حضرت میں ہے :  سر کے نیچے عمامہ یا مصلیٰ یا پاجامہ رکھنا ممنوع کہ عمامہ ومصلیٰ رکھنے سے عمامہ اور مصلیٰ کی اور پاجامہ رکھنے سے سر کی بے حرمتی ہے نیز عمامہ کے شملہ سے ناک یا منھ پوچھنا نہ چاہیے۔([2])

منچ کے بجائے سیڑھیوں پر بیٹھنے میں حکمت

عرض : (ربیع الاوّل  ۱۴۱۸ھ کی۱۲ویں شب تقریباً۱۲بجے اجتماعِ میلاد میں بیان کرنے کے لیے جب شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ تشریف لائے تو تِلاوت شروع ہو چکی تھی چنانچِہ آپدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ مَنچ پر جلوہ گر ہونے کے بجائے حاضرین سےنظر بچاکرمنچ کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر تلاوت سننے میں مشغول ہوگئے۔ تلاوت ختم ہونے کے بعد جب آپدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  منچ پر تشریف لائے تو آپ کی خدمت میں یہ عرض کی گئی : )حضور یہ ارشاد فرمائیے کہ اجتماعِ میلاد میں آپ براہِ راست منچ پر تشریف لانے کے بجائے سیڑھیوں پر بیٹھ گئے، اس میں کیاحکمت تھی؟

ارشاد : جس وقت قرآنِ کریم کی تلاوت کی جائے تو اسے توجہ سے سُننا اور خاموش رہنا وا جِب ہے جیساکہ قرآنِ مجیدکے پارہ 9 سورۃُ الاعراف کی آیت نمبر 204 میں خدائے رحمٰنعَزَّوَجَلَّ کافرمانِ عالیشان ہے :

وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ(۲۰۴)

ترجمۂ کنز الایمان : اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور خاموش رہو کہ تم پر رحم ہو۔

اس آیتِ مبارکہ کے تحت صدرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِیفرماتے ہیں :

” اِس آیت سے ثابت ہوا جس وقت قرآنِ کریم پڑھا جائے خواہ نماز میں یا خا رجِ نماز ، اس وقت سُننا اور خا موش رہنا وا جِب ہے ۔“

فقہائے کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَامفرماتے ہیں : جب بلند آواز سے قرآن پڑھا جائے تو تمام حاضرین پر سُننا فرض ہے جبکہ وہ مجمع بغرض سُننے کے حاضر ہو ورنہ ایک کا سُننا  کافی ہے اگرچہ اور اپنے کام میں ہوں۔([3])میں چونکہ اجتماعِ میلاد میں حاضری کی سعادت پانے کے لیے حاضر ہوا تھا اور میرے ساتھ آنے والے اور اجتماعِ میلاد میں موجود اسلامی بھائی بھی اسی نیت سے حاضر ہوئے تھے اس لیے ہم سب پر تلاوت ِ قرآن کا سُنناواجب تھا۔دورانِ تلاوت اگر میں منچ پر آجاتا تو عین ممکن تھا کہ لوگ کھڑے ہو جاتے اور کوئی نعرہ لگا دیتا ، میں نہیں چاہتا تھا کہ میری وجہ سے کوئی اِسلامی بھائی تلاوت ِ قرآن نہ سُننے کے گناہ میں پڑ جائے  اس لیے میں منچ کے اوپر آنے کے بجائے  نیچے  سیڑھیوں پر ہی بیٹھ گیا۔

بلند آواز سے تلاوت کرنے کی ممانعت

عرض :  بلندآواز سے قرآنِ مجید کی تلاوت کرنا کب  منع  ہے؟

ارشاد : قرآنِ پاک کی تِلاوت کرنا اورسُننا بِلاشبہ بڑے اجروثواب کا کام ہے، تلاوتِ قرآن کرنے والے کو ہر ہر حرف کے بدلے ایک ایک نیکی عطا کی جاتی ہے جو دس نیکیوں کے برابر ہوتی ہے  مگر  چند  ایسی صورتیں ہیں جن میں بلند آواز سے تلاوت کرنے کی فقہائے کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام نے ممانعت  بیان فرمائی ہے۔

 مجمع میں سب لوگ بُلند آواز سے پڑھیں یہ حرام ہے، اکثر تیجوں میں سب بلند آواز سے پڑھتے ہیں یہ حرام ہے، اگر چند شخص پڑھنے والے ہوں تو حکم ہے کہ آہستہ پڑھیں۔([4])

جہاں کوئی شخص علمِ دین پڑھ رہا ہے یا طالبِ علم علمِ دین کی تکرار کرتے یا مُطالَعہ کرتے ہوئے دیکھیں ، وہاں بھی بلند آواز سے قرآنِ پاک پڑھنا مَنْع ہے۔اسی طرح  بازاروں میں اور جہاں لوگ کام میں مَشْغول ہوں بلند آواز سے پڑھنا ناجائز ہے، لوگ اگر نہ سُنیں گے تو   گناہ پڑھنے والے پر ہے۔ اگر کام میں مَشْغُول ہونے سے پہلے اس نے پڑھنا شروع کر دیا ہو اور اگر وہ جگہ کام کرنے کے لیے مُقرّر نہ ہو تو اگر پہلے پڑھنا اس نے شروع کیا اور لوگ نہیں سنتے تو لوگوں پر گناہ اور اگرکام شروع کرنے کے بعد اس نے پڑھنا شروع کیا تو اس پر گناہ۔([5])   

قرآنِ پاک پڑھ کر بُھلا دینے کا گناہ

عرض : بعض لوگ قرآنِ پاک حفظ کر کےبھُلا دیتے ہیں ان کے بارے میں کیا حکم ہے؟

ارشاد : قرآنِ مجید حفظ کر کے بھلا دینے والےاحادیثِ مُبارَکہ میں بیان کردہ    وعیدوں کےمستحق ہیں چنانچہ ہادیٔ راہِ نَجات، سرورِکائنات، شاہِ موجودات  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کافرمانِ عبرت نشان ہے :  میری اُمت کے ثواب مجھ پر پیش کیے گئے یہاں تک کہ تِنکا کہ آدمی جسے مسجد سے نکالتا ہے اور میری اُمّت کے گناہ میرے حُضُور پیش کیے گئے تو میں نے اِس سے بڑا گناہ نہیں  دیکھا کہ آدمی کو قرآن کی ایک سُورت یا آیت یاد ہو اورپھر وہ اُسے بُھلا دے۔([6])

حضرتِسیِّدُنا سعد بن عبادہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ عبرت نشان ہے : جس نے قرآنِ پاک پڑھ کر یاد کیا اور



[1]       بہارِشریعت، ۳/۶۶۰، حصہ۱۶

[2]       حیاتِ اعلیٰ حضرت، حصہ۳، ص ۹۰

[3]       غُنْیَة الْمُتَمَلِّی، القراءة  خارج الصلوة، ص۴۹۷  ملخصاً

[4]       بہارِشریعت، ۱/۵۵۲، حصہ ۳

[5]       غُنْیَةُ الْمُتَمَلِّی، القراءة  خارج الصلوة، ص۴۹۷  ملخصاً

[6]       تِرْمِذی، کتاب فضائل القرآن، باب(ت : ۱۹)، ۴/ ۴۲۰، حدیث : ۲۹۲۵

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن