30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اعظمیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں : مسجِدکو راستہ بنانا یعنی اس میں سے ہو کر گزرنا ناجائز ہے، اگر اس کی عادت کرے تو فاسق ہے، اگرکوئی اس نیت سے مسجِدمیں گیا وَسْط (درمیان) میں پَہُنچا کہ نادِم ہوا، تو جس دروازہ سے اس کو نکلنا تھا اُس کے سِوا دوسرے دروازہ سے نکلے یا وَہیں نماز پڑھے پھر نکلے اور وُضُو نہ ہو تو جس طرف سے آیا ہے واپس جائے۔([1])
ہاں!اگر کوئی مجبوری ہو جیسے راستہ بند ہے اورمسجِدکے راستے کے علاوہ دوسری جانب جانے کا کوئی راستہ ہی نہیں تو ضرورتاًاس کی اجازت دی گئی ہے جیسا کہ خلاصۃُ الفتاویٰ میں ہے : ایک شخص مسجِدسے گزرتا ہے اور اس کو راستہ بناتا ہے اگر عذر ہے تو جائز ہے، بلا عذر ہے تو ناجائز ہے پھر اگر اس کو گزرنا جائز ہو تو ہر روز ایک مرتبہ اس میں نماز پڑھے، نہ یہ کہ ہر بار جب بھی گزرے کہ ا س میں حرج ہے ۔([2])
اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنّت مولانا شاہ امام احمد رضاخانعَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : بضرورت مسجِدمیں ہو کر دوسری طرف کو نکل جانا جائز ہے کہ (عام حالات میں) مسجِدمیں دوسری طرف جانے کے لئے چلنا حرام ہے مگر بضرورت کہ راستہ گھِرا ہوا ہے اور مسجِدہی میں سے ہوکر جا سکتا ہے جیسے موسِمِ حج میں مسجِدُ الحرام شریف میں واقع ہوتا ہے اس کی اِجازت دی گئی ہے وہ بھی جُنب(جس پر غُسْل فرض ہو)یا حائِضْ(حیض والی)یا نُفساء(نِفاس والی)کو نہیں نیز گھوڑے یا بیل گاڑی کو نہیں، (مسجد میں سے )ہوکر نکل جانے کیلئےبھی ان کا جانا، لے جاناہرگزجائز نہیں۔([3])
عرض : پوری مسجد یا اس کے کسی حصّے کو شہید کرکے لوگوں کے لیےسڑک (Road)بنانا کیسا ہے ؟
ارشاد : پوری مسجِد یا اس کے کسی حِصّے کو شہید کرکے اُس پر سڑک(Road) بنانا حرامِ قطعی ہے، اس سے مسجد کی بے حرمتی اور اسے ویران کرنا لازم آتا ہےلہٰذا یہ سخت حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہےچنانچہ پارہ1سورۃُالبقرہ کی آیت نمبر 114 میں خدائے رحمٰنعَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے :
وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَاؕ
ترجمۂ کنزالایمان : اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللّٰہ کی مسجدوں کو روکے اُن میں نام ِ خدا لئے جانے سے اور اُن کی ویرانی میں کوشش کرے ۔
اسآیتِ مبارکہ کے تحت صدرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی فرماتے ہیں : مسجد کی ویرانی جیسے ذِکر و نَماز کو روکنے سے ہوتی ہے ایسے ہی اس کی عمارت کے نُقصان پہنچانے اور بے حُرمتی کرنے سے بھی ۔
فقہائے کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام فرماتے ہیں : اگر لوگوں نے ارادہ کیا کہ مسجِد کا کوئی ٹکڑا مسلمانوں کے لیے گزر گاہ (یعنی سڑک) بنادیں، تو کہا گیا ہے کہ انہیں ایسا کرنے کا اِختیار نہیں اور بلا شبہ یہی صحیح ہے۔([4])ایسے ہی ایک سوال کےجواب میں اعلیٰ حضرت، اِمام اَہلسنّت مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں : بے شک ایسا کرنا حرام ِ قَطعی اور ضرور حُقُوقِ مسجدپرتَعَدِّی(حَدْسےبڑھنا)اوروقفِ مسجدمیں ناحق دَسْت اَندازی(مداخلت) شرع مُطہر میں بلا شرط ِواقف کہ اُسی وقف کی مَصْلَحَت (خوبی یا بھلائی)کے لئے ہو وقف کی ہَیْأت(بناوٹ یا صورت) بدلنابھی نا جائز ہے اگرچہ اصل مقصودباقی رہے، توبالکل مقصدِ وقف باطل کر کے ایک دوسرے کام کے لئے دینا کیونکر حلال ہو سکتا ہے۔([5])
چھوٹے ناسمجھ بچّوں کو مسجِد میں لانا
عرض : چھوٹے چھوٹے بچے جو مسجِدمیں دَنْدَناتے اور شور مچاتے پِھر رہے ہوتے ہیں ، ان کا جُرم کس پرہے؟
ارشاد : چھوٹے بچوں اور پاگلوں کو مسجد میں لانے کی حدیثِ پاک میں ممانعت آئی ہے چنانچہ خَلْق کے رہبر ، شافعِ محشر ، محبوبِ داور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافرمانِ ہدایت نشان ہے : مسجِدوں کو بچّوں، پاگلوں، خریدوفروخت، جھگڑے، آواز بلند کرنے، حُدود قائم کرنے اور تلوار کھینچنے سے بچاؤ۔ان کے دروازوں پرطہارت خانے بناؤ اور جمعہ کے دن مساجد کو دھونی دیا کرو۔([6]) عموماً مشاہدہ یہی ہے کہ جب چھوٹے بچے مسجِدمیں جمع ہوتے ہیں تو آپس میں شرارتیں شروع کر دیتے ہیں ، نَمازیوں کے آگے سے گزرتے اور خوب اودھم مچاتے ہیں نیز دورانِ نماز بسااوقات رونا شروع کر دیتے ہیں جس سے نمازمیں زبردست خَلَل آتا اور مسجد کا تقدس پامال ہوتا ہے اورکبھی کبھار تو مسجد میں پیشاب پاخانے تک کر دیتے ہیں تو ان ساری باتوں کا وبال بچوں کو مسجد میں لانے والے پر آتا ہے جبکہ وہ لانے والا بالغ ہو لہٰذا چھوٹے بچوں کو ہر گز مسجِد میں نہ لایا جائے ۔
یاد رکھیے !ایسا بچّہ جس سے نَجاست (یعنی پیشاب وغیرہ کردینے) کا خطرہ ہو اور پاگل کو مسجِدکے اندرلے جانا حرام ہے اور اگر نَجاست کا خطرہ نہ ہو تو مَکرُوہ ہے۔([7])اسی طرح بچّے یا پاگل یا بے ہوش یا جس پر جِنّ آیا ہوا ہو ان سب کو دَم کروانے کے لیے بھی مسجِدمیں لے جانے کی شریعت میں اجازت نہیں ۔ اگر کوئی پہلے یہ بھول کرچکا ہے تو اسے چاہیے کہ فوراً توبہ کر کےآئندہ انہیں نہ لانے کاعَہد کر لے۔ہاں فِنائے مسجِد مثلاً امام صاحب کے حُجرے میں انہیں دم کروانے کے لیے لے جانے میں حرج نہیں جبکہ مسجِد کے اَندر سے گزرنا نہ پڑے۔
سوتے وقت عِما مے شریف کو تکیہ بنا نا
عرض : کیاسوتے وقت عِمامے یا مصلے کو تکیہ بناسکتے ہیں؟
[1] بہارِشریعت، ۱/۶۴۵، حصہ ۳
[2] خُلاصَةُ الْفتاویٰ، کتاب الصلٰوة، الفصل السادس والعشرون...الخ، ۱/ ۲۲۹
[3] فتاویٰ رضویہ، ۱۶/۳۵۲
[4] فتاویٰ ھنْدِیة، ۲/ ۴۵۷
[5] فتاویٰ رضویہ، ۱۶/۳۵۱
[6] اِبنِ ماجَہ، کتاب المساجد و الجماعات، باب مایکرہ فی المساجد، ۱/ ۴۱۵، حدیث : ۷۵۰
[7] دُرِّ مُختار، کتاب الصلاة، باب ما یفسد الصلاة...الخ، ۲/ ۵۱۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع