30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت، امامِ اہلِسنّت ، مجدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن کی بارگاہ میں سُوال کیاگیا کہ مسجِدکی کوئی چیز خراب ہو جائے ، اسے بیچ کر اس کی قیمت مسجِدمیں دیں پھر دُوسرا آدمی قیمت دے کر مسجِدکی وہ چیز اپنے مکان میں رکھے تو اس کے لئے جا ئز ہے یا نہیں ؟تو اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت نے جواباً اِرشاد فرمایا : جا ئز ہے مگر اسے بے اَدَبی کی جگہ نہ لگائے۔([1])
عرض : مسجِدکی نئی تعمیر کی وجہ سے پچھلی تعمیر کا مَلْبہ اگربچ جائے تو اس مَلْبے کے بارے میں کیا حکم ہے ؟
ارشاد : مسجد کی پچھلی تعمیر کے بچ جانے والے ملبے کا حکم بیان کرتے ہوئے میرے آقااعلیٰ حضرتعَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت فرماتے ہیں : مسجد کا عملہ(ملبہ) جوبچ رہے اگر کسی دوسرے وقت مسجد کے کام میں آنے کا ہو اور رکھنے سے بگڑے نہیں تو محفوظ رکھیں ورنہ بیع(فروخت) کردیں اور اس کے دام(قیمت) مسجد کی عمار ت ہی میں لگائیں لوٹے، بوریہ، تیل بتی وغیرہ میں صرف نہیں ہو سکتا۔ یہ سب کام متولی اور دیانت دار اہلِ محلہ کی زیرِ نگرانی ہو۔ بیع کسی ادب والے مسلمان کے ہاتھ ہو کہ وہ اسے کسی بے جا یا ناپاک جگہ نہ لگائے۔ لکڑی کہ جلنے کے سوا کسی کام کی نہ رہی سقایہ مسجد کے صرف میں لائیں اور اگر بیع کر دیں تو خریدنے والا بھی اس کو جلاسکتا ہے مگر اپلے کی معیت سے بچائیں۔([2])
ایکاور مقام پر ارشادفرماتے ہیں : حاکم ِاسلام اور جہاں وہ نہ ہو تو مُتولّیٔ مسجِدو اہلِ محلہ کو جائز ہے کہ وہ چھپّر کہ اب حاجتِ مسجِدسے فارِغ ہے کسی مسلمان کے ہاتھ مناسب داموں میں بیچ ڈالیں اور خریدنے والا مسلمان اُسے اپنے مکان، نِشَسْت یا باروچی خانے یا ایسے ہی کسی مکان پر جہاں بے تعظیمی نہ ہو، ڈال سکتا ہے۔ پاخانہ(بیت الخلا) وغیرہ مَواضِع بے حُرمَتی پر نہ ڈالنا چا ہئے کہ علما ء نے اُس کُوڑے کی بھی تعظیم کا حکم دیا ہے جو مسجِدسے جھاڑ کر پھینکا جاتا ہے۔([3])
عرض : مسجِدمیں بعض لوگ کھڑے ہوکر اپنی مجبوری اور بیماری وغیرہ کابیان کرکے مدد کی اَپیل کرتے ہیں اگر وہ واقعی حقدار ہوں ، توکیا اُنہیں کچھ دے سکتے ہیں یانہیں؟
ارشاد : مسجِدمیں اپنی ذات کے لیے سوال کرنا منع ہے اور ایسے سائل کو دینا بھی جائز نہیں جیساکہ صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں : مسجِدمیں سُوال کرناحرام ہے اور اس سائِل کو دینا بھی مَنْع ہے۔([4])اعلیٰ حضرتعَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت فرماتے ہیں : اَئمہ دین(رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِین ) نے فرمایا ہے : جو مسجِد کے سا ئل کو ایک پیسہ دے وہ ستّر پیسے راہِ خدا میں اور دے کہ اس پیسہ کے گناہ کا کفّا رہ ہوں۔([5])اس کا حل یہ ہے کہ اگر وہ واقعی حاجت مند ہوں تو خود مسجد میں سوال کرنے کے بجائے امام صاحب سے رابطہ کر کے اپنی حاجت بیان کریں ، اب امام صاحب ان کی مدد کے لیے نمازیوں سے درخواست کریں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
مسجِد یا مدرسے کیلئے چندہ کرنا
عرض : کیا مسجد میں، مسجد ، مدرسے یا کسی حاجت مند مسلمان کے لیے بھی چندہ نہیں کرسکتے ؟
ارشاد : مسجِدمیں اپنی ذات کے لیے سوال کرنا منع ہے، کسی اور حاجت مند مسلمان یادینی کام مثلاً مسجد یا مدرسے کے لیے سوال کرنے کی ممانعت نہیں جیساکہ فتاویٰ رضویہ جلد16صفحہ 418 پر
ہے : مسجِدمیں اپنے لئے مانگناجائز نہیں اور اسے دینے سے بھی علماء نے مَنْع فرمایاہےیہاں تک کہ امام اسمٰعیل زاہد رَحمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ نے فرمایا : جومسجِدکے سا ئل کو ایک پیسہ دے اُسے چا ہئے کہ ستّر 70 پیسے اللّٰہ تعالیٰ کے نام پر اور (یعنی مزید) دے کہ اس پیسہ کا کفّا رہ ہوں اور(مسجِدمیں)کسی دوسرے کے لئے مانگا یا مسجِدخواہ کسی اور ضرورتِ دینی کے لئے چندہ کرنا جائز اور سُنَّت سے ثابت ہے ۔([6])
اَحکامِ شریعت میں ہے : محتاج کے لئے اِمداد کو کہنا یا کسی دینی کام کے لئے چندہ کرنا جس میں نہ غُل نہ شور، نہ گردن پھلانگنا، نہ کسی کی نماز میں خَلَل (خرابی) ، یہ بلا شبہ جائز بلکہ سُنَّت سے ثابت ہے اور بے سُوال کسی محتاج کو دینا بہت خوب اور مولیٰ علیکَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے ثابت ہے۔ ([7]) معلوم ہوا کہ مسجِدمیں، مسجِد یامدرسے یا کسی حاجت مند مسلمان کے لیے چندہ کرنا جائز ہے۔عموماً مساجد میں جمعۃ المبارک کے روزمساجد کے لیے چندہ کیا جاتا ہے اس میں کچھ نہ کچھ دے دیناچاہیے کہ ” جمعہ کا دن تمام دنوں سے افضل ہے اس میں ایک نیکی کا ثواب ستّر (70)گنا ہے ۔“ ([8])
عرض : مسجِدکوراستہ بنانا کیساہے؟
ارشاد : مسجِدکو راستہ بنانا یعنی اس کے کسی حصے میں سے ہو کر گزرنا جائز نہیں ہے۔ فقہائےکِرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَامنے بلاضرورت ایسا کرنے کو ناجائز فرمایاہے۔([9]) صدرُالشریعہ، بدرُالطریقہ مفتی محمد امجد علی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع