30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چودھویں کے چاند کی طرح چمکے گا *نابالغ بچّے کا خرچ باپ پر واجِب ہے،اگرچہ وہ باپ کے پاس نہ رہیں *مَعذُور بیٹا جو کمانے کی طاقت نہیں رکھتا، اس کا خرچ باپ پر لازِم ہے *کنواری بیٹی کا خرچ بھی باپ کے ذِمَّہ ہے۔(1)
تيسرا حق :اچھا رشتہ ملنے پر شادی کروانا
وضاحت: رسولِ ذِیشان،مکی مدنی سلطان صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:بیٹا جوان ہو اور والد (استطاعت کے باوجود ) اس کی شادِی نہ کروائے، اگر بیٹا گُنَاہ ( مثلا بدکاری وغیرہ) میں پڑا تو اس کا گُنَاہ والد پر (بھی) ہو گا۔(2)
نوٹ: عموماً شادِیوں میں دَیر اخراجات کے سبب ہوتی ہے، اِسْلام نے نِکاح کو بہت آسان رکھا ہے۔ اگر ہم شادِی کے معاملے میں بھی سنّت اپنائیں تو بہت ساری فضول خرچیوں، قرضوں اور ناچاقیوں (لڑائی جھگڑوں)سے بچ سکتے ہیں، ساتھ ہی مُعَاشرہ بدکاری جیسے گُنَاہوں سے پاک بھی ہو سکتا ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے: کم خرچ والا نِکاح بابرکت ہے۔
دہرائی
آج ہم نے اولاد کے 3 حقوق سیکھے ہیں،ذہن میں بِٹھا لیجیے: (1): اَوْلاد کے درميان برابری کرنا (2): نفقہ پورا کرنا(3): اچھا رشتہ ملنے پر شادی کروانا۔
سیکھنے سکھانے کے حلقوں میں یاد کروائی جانے والی دُعا
سوتے وقت کی دُعا
اَللّٰھُمَّ بِاسْمِکَ اَمُوْتُ وَاَحْیَا
[1] ... فتاوی رضویہ جلد24،صفحہ:348،ملخصًا۔
[2] ...شعب الایمان،باب فی حقوق الاولاد واھلین،صفحہ:401،حدیث:8666۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع