30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!خوفِ خدا سے لَرَزاُٹھئے !اور گھبرا کر اپنے مَعبودِ برحق عَزَّوَجَلَّ کو راضی کرنے کیلئے اُس کی بارگاہِ بے کس پناہ میں جُھک جایئے۔آہ ! چُغلی، حَسَد اور شراب نَوشی کے سبب ولیٔ کامل کا شاگرد کُفریہ کلمات بول کر مر ا ۔ صَدرُ الشَّریعہ، بَدرُ الطَّریقہحضرتِ علّامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں : مرتے وَقتمَعاذَاللّٰہ اُس کی زَبان سے کلمۂ کُفْرنکلا تو کُفْرکا حُکم نہ دیں گے کہ ممکن ہے موت کی سختی میں عَقْل جاتی رہی ہو اور بے ہوشی میں یہ کلمہ نکل گیا۔(بہار شریعت ج۱، حصہ۴، ص۸۰۹ بحوالہ درمختار ج۳، ص۹۶)
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمارے حالِ زار پر کرم فرمائے، نَزع کے وَقت نہ جانے ہمارا کیا بنے گا!آہ! ہم نے بَہُت گناہ کررکھے ہیں ، نیکیاں نام کو نہیں ہیں ، ہم دُعا کرتے ہیں : اے اللّٰہ! عَزَّوَجَلَّ نزع کے وَقت ہمارے پاس شَیاطین نہ آئیں بلکہ رحمۃٌ لِّلْعٰلمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کرم فرما ئیں ۔ (بُرے خاتمے کے اسباب، ص۲۹)
نَزع کے وَقت مجھے جلوئہ محبوب دکھا
تیرا کیا جائے گا میں شاد مروں گا یا رب
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۳) نیکیاں ضائع ہوجانا
آخِرت کی نعمتیں پانے کے لئے نیکیوں کا خزانہ پاس ہونا بے حد ضَروری ہے مگر اوّل توشیطان ہمیں نیکیاں کمانے نہیں دیتا اور اگر ہم اُسے پچھاڑ کر تھوڑی بَہُت نیکیاں جمع کر ہی لیں تو اس کی پوری کوشِش ہوتی ہے کہ کسی طرح ہماری نیکیاں ضائع ہوجائیں لہٰذا وہ ہمیں ایسے گناہوں میں مُبتلا کرنے کی کوشِش کرتا ہے جو نیکیوں کو نِگل جاتے ہیں ۔ انہی گناہوں میں سے ایک حَسَد بھی ہے ، حَسَد کی نُحوست سے نیکیوں کے خزانے کو گویاگُھن لگ جاتا ہے اور وہ ضائع ہونا شروع ہوجاتا ہے ۔ چنانچہ نبیِّ اکرم ، نورِ مجسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : اِیَّاکُمْ وَالْحَسَدَ فَاِنَّ الْحَسَدَ یَأْکُلُ الْحَسَنَاتِ کَمَا تَأْکُلُ النَّارُ الْحَطَبَیعنی حَسَد سے بچو وہ نیکیوں کو اس طرح کھاتا ہے جیسے آگ خشک لکڑ ی کو۔(سنن ابی داوٗد، ج۴، ص۳۶۰، الحدیث : ۴۹۰۳)
حضرت علامہ علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ البَارِی فرماتے ہیں : یعنی تم مال اور دُنیوی عزت وشہرت میں کسی سے حَسَد کرنے سے بچو کیونکہ حاسِد حسد کی وجہ سے ایسے ایسے گناہ کربیٹھتا ہے جو اس کی نیکیوں کو اسی طرح مٹا دیتے ہیں جیسے آگ لکڑی کو !مثلاً حاسِد محسود کی غیبت میں مبتلا ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے اس کی نیکیاں محسود کے حوالے کردی جاتی ہیں ، یوں محسود کی نعمتوں اور حاسد کی حسرتوں میں اِضافہ ہوجاتا ہے!(مرقاۃ المفاتیح ج۸ص ۷۷۲ملخصًا)
؎ تُلیں میرے اعمال مِیزاں پہ جس دم
پڑے اِک بھی نیکی نہ کم یا الٰہی (وسائل بخشش ص ۸۲)
(۴) مختلف گناہوں میں مبتلا ہوجانا
بعض بیماریاں ایسی ہوتی ہیں جن کا عِلاج اگر وَقت پر نہ کیا جائے تووہ مزید بیماریوں کا سبب بنتی ہیں اسی طرح کچھ گناہ ایسے ہوتے ہیں جن میں مبتلا ہوکر انسان گناہوں کی دَلْدَل میں پھنستا ہی چلا جاتا ہے ۔ حَسَد بھی انہی میں سے ایک ہے ۔ حَسَد کی وجہ سے انسان غیبت، تُہمت ، عیب دَری ، چُغلی، جھوٹ، مسلمان کو تکلیف دینا، قَطع رحمی، جادواورشماتت ( یعنی کسی کی پریشانی پر خوشی محسوس کرنا) جیسی مذموم وبے ہودہ حرکات میں مُلَوَّث ہوجاتا ہے بلکہ بعض اوقات تو محسود کو قتل تک کر ڈالتا ہے ۔آئیے دیکھتے ہیں کہ حاسِد ان برائیوں میں کیونکر مبتلا ہوتا ہے۔
چونکہ حاسِد کی دِلی خواہش ہوتی ہے کہ محسود سے اس کی نعمتیں چھن جائیں یا اس کے مقام ومرتبے میں کمی واقع ہوجائے، یا اسے فُلاں نعمت ملنے ہی نہ پائے۔ اس خواہش کی تکمیل کے لئے وہ محسودکو لوگوں کی نظروں سے گِرانے کی کوشِش کرتا ہے ، چنانچہ وہ لوگوں کے سامنے اس کی جُھوٹی سچی برائیاں بیان کرتا ہے اور اس پر کیچڑ اُچھالتا ہے لیکن اس کوشِش میں خود اس کے اپنے ہاتھ غیبت وتُہمت اور عیب دَرِی کی غَلاظَت سے گندے ہو جاتے ہیں اور اسے اِحساس تک نہیں ہوتا ہے کہ وہ خود کو ہلاکت کے لئے پیش کرچکا ہے۔
غیبت کی 20 تباہ کاریاں
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ504 صفحات پر مشتمل کتاب ’’غیبت کی تباہ کاریاں ‘‘کے صفحہ 26پرامیرِ اہلسنّت مدظلہ العالیلکھتے ہیں : قراٰن و حدیث اور اَقوالِ بُزُرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ المُبِینسے منتخب کردہ غیبت کی 20 تباہ کاریوں پر ایک سرسری نظر ڈالئے، شاید خائفین کے بدن میں جُھر جھری کی لہر دوڑ جائے! جگر تھام کر مُلاحَظہ فرمایئے : ٭غیبت ایمان کو کاٹ کر رکھ دیتی ہے ٭غیبت بُرے خاتمے کا سبب ہی٭ بکثرت غیبت کرنے والے کی دعا قبول نہیں ہوتی ٭ غیبت سے نَماز روزے کی نورانیَّت چلی جاتی ہے ٭ غیبت سے نیکیاں برباد ہوتی ہیں ٭غیبت نیکیاں جلا دیتی ہی٭ غیبت کرنے والا توبہ کر بھی لے تب بھی سب سے آخِرمیں جنَّت میں داخِل ہوگا، اَلغرض غیبت گناہِ کبیرہ، قطعی حرام اور جہنَّم میں لے جانے والاکام ہی٭ غیبت زنا سے سخت تر ہی٭ مسلمان کی غیبت کرنے والا سُود سے بھی بڑے گناہ میں گرفتار ہی٭ غیبت کو اگر سَمُندَر میں ڈال دیا جائے تو سارا سَمُندَر بدبُو دار ہو جائی٭ غیبت کرنے والے کو جہنَّم میں مُردار کھانا پڑے گا٭ غیبت مُردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مُترادِف ہی٭ غیبت کرنے والا عذابِ قبر میں گرفتار ہو گا٭ غیبت کرنے والاتانبے کے ناخنوں سے اپنے چہرے اور سینے کو بار بار چھیل رہا تھا٭ غیبتکرنے والے کو اُس کے پہلوؤں سے گوشت کاٹ کاٹ کر کِھلایا جا رہا تھا٭ غیبتکرنے والا قیامت میں کتّے کی شکل میں اٹھے گا ٭ غیبتکرنے والا جہنَّم کا بندر ہو گا٭ غیبت کرنے والے کو دوزخ میں خود اپنا ہی گوشت کھانا پڑے گا٭غیبت کرنے والا جہنَّم کے کھولتے ہوئے پانی اور آگ کے درمیان موت مانگتا دوڑرہا ہو گا اور اس سے جہنَّمی بھی بیزار ہوں گی٭ غیبتکرنے والا سب سے پہلے جہنَّم میں جائے گا۔
مجھے غیبتوں سے بچا یاالٰہی کبھی بھی لگاؤں نہ تہمت کسی پر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع