30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور میرا وَار کامیاب ہوگیا۔(تفسیر حقی، سورۂ ھود، تحت الآیۃ : ۴۰، ج۴، ص۱۲۷) ؎
نفس وشیطان ہوگئے غالب
ان کے چُنگل سے تُو چھڑا یاربّ (وسائل بخشش ص۸۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
حَسَد کی جو صورتیں ناجائز یا ممنوع ہیں ان کا دنیا یا آخِرت میں کچھ بھی فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہی نقصان ہے مگر حیرت ہے حاسِد کی نادانی پر کہ وہ پھر بھی اس رَوگ کو پالتا ہے!اعلیٰ حضرت ، مجدِّدِ دین وملت مولاناشاہ امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں : حَسَدکی برائی محتاج بیان نہیں ۔(فتاویٰ رضویہ، ج۲۴، ص۴۲۷) ایک اور جگہ لکھتے ہیں : حَسَد ایسا مرض ہے جس کو لاحِق ہوجائے ہلاک کردیتا ہے(فتاویٰ رضویہ، ج۱۹، ص۴۲۰)بہرحال حَسَد کرنے والے کو 11 نقصانات کا سامنا ہوسکتا ہے : (۱)اللّٰہ ورسول کی ناراضگی (۲) ایمان کی دولت چھن جانے کا خطرہ (۳) نیکیاں ضائع ہوجانا (۴) مختلف گناہوں میں مبتلا ہوجانا (۵) نیکیوں کے ثواب سے محروم رہنا(۶) دُعا قبول نہ ہونا(۷) نُصرتِ الٰہی سے محرومی (۸) ذِلّت ورُسوائی کا سامنا (۹) سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کم ہوجانا (۱۰) خود پر ظُلم کرنا (۱۱)بغیر حساب جہنم میں داخلہ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۱) اللّٰہ ورسول کی ناراضگی
اللّٰہ ورسول عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو راضی کرنا دنیا وآخِرت کی ڈھیروں بھلائیوں اور ناراض کرنا ہزار ہابربادیوں کا سبب ہے ۔ایسے میں کون سا مسلمان اللّٰہ ورسول عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ناراضی مَول لینے کی جرأت کرے گا مگر حاسِد کی بے وقوفی دیکھئے کہ وہ یہ اَحمقانہ کام کر گزرتا ہے اور حَسَد کرکے رب تَعَالٰی کی ناراضی کا شکار ہوجاتا ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اَحکام کی مخالفت کرکے گناہوں کا بوجھ اپنے اوپر لادتا ہے اور اس کی نعمتوں کا دشمن قرار پاتا ہے ، چنانچہ رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتوں کے بھی دشمن ہوتے ہیں ۔‘‘ عَرْض کی گئی : ’’وہ کون ہیں ؟‘‘ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : وہ جو لوگوں سے اس لئے حَسَد کرتے ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے فَضل وکَرَم سے اُن کو نعمتیں عطا فرمائی ہیں ۔(التفسیر الکبیر ، البقرۃ، تحت الاٰیۃ : ۱۰۹، ج۱، ص۶۴۵ والزواجر، ج۱، ص۱۱۴)
حاسِد اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے مقابلہ کرتا ہے
حضرتِ سیِّدُناابو اللّیث نَصر بن محمد سَمرقندی علیہ رحمۃ اللّٰہ القوی’’تنبیہ الغافلین‘‘ میں نقل کرتے ہیں : حاسِد ، اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ پانچ طرح سے مقابلہ کرتا ہے : (۱) ہر اس نعمت پر غصہ ہوتا ہے جو کسی دوسرے کو ملتی ہے (۲) وہ تقسیمِ الٰہی ( عَزَّوَجَلَّ ) پر ناراض ہوتا ہے یعنی اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے کہتا ہے کہ ایسی تقسیم کیوں کی؟(۳) وہ فَضلِ الٰہی ( عَزَّوَجَلَّ ) پر بخل کرتا ہے(۴) وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے دوست (یعنی محسود ) کو رُسوا کرنا چاہتا ہے اور چاہتا ہے کہ یہ نعمت اس سے چھن جائے(۵) وہ اپنے دوست یعنی اِبلیس کی مدد کرتا ہے۔ ( تنبیہ الغافلین، ص۹۷)
حاسِد گویا اللّٰہ تَعَالٰی پر اِعتراض کرتا ہے
حضرتِ سیِّدُناامام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی لکھتے ہیں : حَسَد اس لئے بہت بڑا گناہ ہے کہ حَسَد کرنے والا گویا اللّٰہ تَعَالٰی پر اِعتراض کررہا ہے کہ فُلاں آدمی اس نعمت کے قابل نہیں تھا اس کو یہ نعمت کیوں دی ہے؟ اب تم خود ہی سمجھ لو کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر کوئی اِعتراض کرنا کتنا بڑا گناہ ہوگا۔(احیاء علوم الدین ، کتاب ذم الغضب والحقد والحَسَد ، ج۳، ص۲۴۳)
؎ کس کے دَر پر میں جاؤں گا مولا
گر تُو ناراض ہوگیا یاربّ (وسائل بخشش ص ۸۸)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
حاسِد کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حاسِد سے اپنی بیزاری کا اِظہار ان اَلفاظ میں فرمایا ہے : لَیْسَ مِنِّیْ ذُوْحَسَدٍ وَلاَ نَمِیْمَۃٍ وَلاَ کَہَانَۃٍ وَلاَ اَنَا مِنْہُ یعنی حَسَد کرنے والے، چُغلی کھانے والے اور کاہِن کا مجھ سے اور میرا ان سے کوئی تعلُّق نہیں ۔(مجمع الزوائد، کتاب الادب، باب ماجاء فی الغیبۃ والنمیمۃ، الحدیث : ۱۳۱۲۶، ج۸، ص۱۷۲)
نہ اُٹھ سکے گا قیامت تلک خدا کی قسم
جسے نبی نے نظر سے گِرا کے چھوڑ دیا
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۲) ایمان کی دولت چھن جانے کا خطرہ
ایمان ایک اَنمول دولت ہے اور ایک مسلمان کے لئے ایمان کی سلامتی سے اہم کوئی شے نہیں ہوسکتی لیکن اگر وہ حَسَد میں مبتلا ہوجائے تو ایمان کو خطرات لاحِق ہوجاتے ہیں ، چنانچہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب ، حبیبِ لبیب، طبیبوں کے طبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عبرت نشان ہے : تم میں پچھلی اُمّتوں کی بیماری حَسَد اور بُغْض سرایت کر گئی ، یہ مونڈ دینے والی ہے، میں نہیں کہتا کہ بال مونڈتی ہے لیکن یہ دین کو مونڈ دیتی ہے ۔(سنن الترمذی، ج۴، ص۲۲۸، $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع