30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
انعامات کے ذمہ دار کو جمع کروا دیجئے ، آپ کی ترغیب وتحریص کے لئے ایک مَدَنی بہار پیش کی جاتی ہے ، چنانچہ
لَودھراں (پنجاب ) کے نَواحی علاقے کے ایک اسلامی بھائی( عمر تقریباً 25سال) نے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہونے کی تفصیل کچھ یوں بیان کی کہ میں بے نمازی تھا، میرا کوئی کام ڈَھنگ کا نہ تھا، سارادن مذاق مَسْخری کرتے اور قہقہے مارتے ہوئے گزر جاتا ۔ غَلَط دوستوں کی صُحبت نے مجھے ایسا بگاڑا کہ میں چَرْس اور شراب کے نشے کا عادِی ہوگیا ۔صبح اُٹھتے ہی شراب حاصِل کرنے کے لئے کوشاں ہوجاتا ۔میری بُری عادتوں نے مجھے کہیں کا نہ چھوڑا ، پولیس بھی میری تلاش میں رہتی ۔اس صورت حال سے میرے گھر والے سخت پریشان تھے لیکن مجھے کب کسی کی پرواہ تھی!اتنا ضرور تھا کہ رمضان کے مہینے میں بہت سارے لوگوں کی طرح میں کم از کم جمعہ کی نماز توپڑھ ہی لیتاتھا ۔ایک دن نمازِ جمعہ کے بعد ایک اسلامی بھائی نے مجھے دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے دس دن کے اِعتکاف میں بیٹھنے کی دعوت پیش کی ۔ میری خوش نصیبی کہ میں نے وہ دعوت قبول کر لی اور فیضانِ مدینہ (جلال پورپیر والا) میں ہونے والے اِعتکاف میں شریک ہوگیا ۔جب مجھے عاشقانِ رسول کی صحبت میّسر آئی اور مبلغینِ دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے بیانات سننے کا موقع ملا تو مجھے بڑی شِدّت سے یہ اِحساس ہوا کہ میں کتنا بُرا انسان ہوں ۔ضمیر کی مَلامت نے مجھے توبہ پر مائل کیا اور میں نے دورانِ اعتکاف ہی نشے ودیگر گناہوں سے توبہ کر لی ، چہرے پر داڑھی شریف سجا نے کی نیت کرلی اور سبزعمامے سے سرسبز کرلیا ۔مَدَنی کام کرتے کرتے آج اَ لْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ ! ڈویژن مُشاوَرَت میں حفاظتی امور کے خادِم کی ذِمّہ داری نبھانے کے لئے کوشاں ہوں ۔
بھائی گر چاہتے ہو نَمازیں پڑھوں ، مَدَنی ماحول میں کر لو تم اِعتکاف
نیکیوں میں تمنّا ہے آگے بڑھوں ، مَدَنی ماحول میں کر لو تم اِعتکاف
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
اگر حاسِدکو طاقت مل جائے تو وہ محسود کو برباد کرکے رکھ دیتا ہے اور اگر اس کا بس نہ چلے تو حسد کی مَشَقَّت اور بیماری کی وجہ سے خود کو برباد کرلیتا ہے ۔بہرحال حَسَدمیں مبتلاہونے والوں کی بنیادی طور پر چار قسمیں ہیں : (ایک) وہ شخص جو محسود سے اُس نعمت کے زائل ہونے کی تمنا اپنے دل میں بٹھا لے اور اپنے سینے کو حَسَد سے پاک کرنے کے لئے کوئی کوشِش نہ کرے تو ایسا شخص حَسَد کو اپنے دل پر جمالینے کی وجہ سے گناہ گار ہوگا ، (دوسرا)وہ جو محسود سے اُس نعمت کو زائل کرنے کی کوشِش بھی کرے ، ایسا شخص حاسِد کے ساتھ ساتھ ظالِم بھی ہوگا اور اسے دُگنا (Double) گناہ ہوگا، (تیسرا ) وہ شخص جو صِرف اپنی بے بسی کی وجہ سے محسود سے زوالِ نعمت کے لئے کوئی کوشِش نہ کرسکے لیکن اگر اُس کا بس چلتا تو ضرور کوشِش کرتا ، ایسا شخص بھی گناہ گار ہے اور (چوتھا) وہ شخص جو خوفِ خدا وفِکرِ آخِرت کی وجہ سے محسود کے بارے میں ہر اُس کام سے باز رہے جس سے شریعت نے روکا ہے اور نہ ہی اپنے حَسَد کو ظاہر کرے بلکہ زوالِ نعمت کی تمنا کو بُرا جانتے ہوئے اپنے دل سے حَسَد کو خَتم کرنے کے لئے کوشاں رہے تو ایسا شخص معذور ہے کیونکہ وہ اپنے نفسانی جذبات کو مکمل طور پر خَتم کرنے پر قدرت نہیں رکھتا ۔(ماخوذ از فتح الباری، ج۱۱، ص۴۰۸)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
سب سے پہلے شیطان نے حَسَدکیا تھا
حَسَدشیطانی کام ہے کیونکہ سب سے پہلا آسمانی گناہ حَسَد ہی تھا اور یہ شیطان نے کیا تھا جیسا کہ حضرت علّامہ جلالُ الدین سُیوطی شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی نَقْل کرتے ہیں : رب تَعَالٰی کی پہلی نافرمانی جس گناہ کے ذریعے کی گئی وہ حَسَد ہے ، اِبلیس مَلْعُون نے حضرتِ سیِّدُنا آدم عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کو سجدہ کرنے کے معاملے میں اُن سے حَسَد کیا، لہٰذا اِسی حَسَد نے اِبلیس کو اللّٰہ رب العٰلمین کی نافرمانی پراُبھارا۔(الدرالمنثورفی التفسیر المأثور، سورۃ البقرۃ… تحت الآیۃ ۳۴، ج۱، ص۱۲۵)
حضرتِ علامہ عبدُ الوہاب شَعرانی قدس سرہ النورانی فرماتے ہیں کہ جسے اللّٰہ تَعَالٰی نے تجھ پربرتری دی ہے اس سے حَسَد کرنے سے پرہیز کر ورنہ تجھے حق تَعَالٰی اس طرح مَسْخ کردے گا جس طرح اس نے اِبلیس کو صورتِ ملکی سے صورتِ شیطانی میں مَسْخ کردیا جب اس نے حضرتِ سیِّدُنا آدم عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام سے حَسَد کیا اور سجدے سے اِنکار کیااور اُن پراپنی بڑائی ظاہر کی۔
(الطبقات الکبریٰ للشعرانی، الجزء الثانی، ص۶۷)
اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی کرکے شیطان خود تو تباہ وبرباد ہوچکا ، اب وہ دوسروں کی تباہی وبربادی کے دَرپے ہے اور حَسَد اس کا ایک اہم ہتھیار ہے ، چنانچہ جب حضرتِ سیِّدُنا نوح عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے اپنی قوم پر پانی کا عذاب آنے سے پہلے بحکمِ خداوند ی ہر جنس کا ایک ایک جوڑا کشتی میں سوار کیا اور خود بھی سوار ہوئے تو آپ نے ایک اجنبی بوڑھے کو دیکھ کر پوچھا : تمہیں کس نے کشتی میں سوار کیا ہے؟ اس نے کہا : میں اس لئے آیا ہوں کہ لوگوں کے دلوں میں وَسْوَسے ڈالوں تا کہ اس وَقت ان کے دل میرے ساتھ اوربدن آپ کے ساتھ ہوں ۔آپ (عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام) نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے دشمن! سفینے سے اُتر جا کیونکہ تو مَرْدُود ہے۔‘‘ تو شیطان نے کہا : ’’میں لوگوں کو پانچ چیزوں سے ہلاکت میں ڈالتا ہوں ، تین چیزیں تو آپ(عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام) کو ابھی بتا سکتا ہوں مگر دو نہیں بتاؤں گا۔‘‘اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرتِ سیِّدُنا نوح (عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام) کی طرف وحی فرمائی : ’’ آپ اس سے کہئے کہ مجھے تین سے آگاہی کی ضرورت نہیں تُو مجھے صِرف وہی دو بتادے۔‘‘ شیطان کہنے لگا : وہ دو ایسی ہیں جو مجھے کبھی جھوٹا نہیں کرتیں اور نہ ہی کبھی ناکام لوٹاتی ہیں اور انہیں سے میں لوگوں کو تباہی کے دَہانے پر لاکھڑا کرتا ہوں ۔ ان میں سے ایک حَسَد ہے اور دوسری حِرص ! اسی حَسَد کی وجہ سے تومیں راندئہ دَرگاہ اور ملعون ہوا ہوں اور حِرص کے باعث آدم( علیہ السلام) کوممنوعہ چیز کی خواہش پیدا ہوئی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع