30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان حدیثِ پاک کے اس حصے کہ ’’مالدار بڑے درجے اور دائمی نعمت لے گئے !‘‘کے تحت فرماتے ہیں : یعنی ہمارے مُقابِل درجات میں بڑھ گئے اور جنت کی اعلیٰ نعمتوں کے مُستَحِق ہوگئے ، اس میں نہ تو رب عَزَّوَجَلَّ کی شکایت ہے اور نہ مالداروں پر حَسَدبلکہ اُن پر رشک ہے، دینی چیزوں میں رشک جائز ہے یعنی دوسروں کی سی نعمت اپنے لئے بھی چاہنا، حَسَد حرام ہے یعنی دوسروں کی نعمت کے زَوال کی خواہش۔(مراٰۃ المناجیح، ج۲، ص۱۱۹)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
نیکیوں پر رَشک کی ایک اور روایت ملاحظہ کیجئے، چنانچہ حضرتِ سیِّدُنا عبدُاﷲ بن عَمْرورَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عَرْض کی : یارسولَ اللّٰہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مُؤذِّنِین (یعنی اذان دینے والے)ہم سے (ثواب میں )بڑھ جائیں گے ! سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : جیسے وہ (اذان کے کلمات)کہتے ہیں تم بھی کہہ لیا کرو ، جب فارِغ ہوجاؤ تو دُعا کرو دیئے جاؤ گے۔ (سنن ابی داوٗد، کتاب الصلاۃ، باب ما یقول اذا سمع المؤذن، ج۱، ص۲۲۱، الحدیث : ۵۲۴)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : یعنی قیامت میں ہم ان کے درجے تک نہ پہنچ سکیں گے کیونکہ تمام عبادات میں ہم اور وہ برابر ہیں اور اذان میں وہ ہم سے بڑھے ہوئے (ہیں )، معلوم ہوا کہ دینی کاموں میں رشک جائز بلکہ کبھی عبادت ہے ۔(مراٰۃ المناجیح، ج۱، ص۴۱۹)
حضرتِ سیِّدُناابو امامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبیِّ آخر الزّمان ، شَہَنْشاہِ کون و مکانصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’میرے دوستوں میں زیادہ قابل رشک میرے نزدیک وہ مسلمان ہے جو کم سامان والا نماز کے بڑے حصہ والا ہو ، اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی عِبادت خوب اچھی طرح کرے اور خُفیہ اس کی اِطاعت کرے اور لوگوں میں چُھپا ہوا رہے کہ اس کی طرف انگلیوں سے اِشارے نہ کئے جائیں ، اس کا رِزق بقدر ضرورت ہو اس پر صبر کرے ۔‘‘پھرفرمایا : اس کی موت جلد آجائے ، اس پر رونے والیاں کم ہوں اوراس کی مِیراث تھوڑی ہو۔
(سنن الترمذی، کتاب الزہد، ج۴، ص۱۵۵، الحدیث : ۲۳۵۴)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : لَا تَغْبِطَنَّ فَاجِرًا بِنِعْمَتِہٖ فَاِ نَّکَ لَا تَدْرِیْ مَا ہُوَ لَاقٍ بَعْدَ مَوْتِہٖ یعنی تم کسی بَدکار پر کسی نعمت کی وجہ سے رشک نہ کرو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ وہ مرنے کے بعد کس چیز سے ملے گا ۔ (شرح السنۃ للبغوی، کتاب الرقاق، ج۷، ص۳۲۴، الحدیث : ۳۳۹۸)
یہاں نعمت سے مراد دنیاوی نعمت ہے جیسے اولاد، مالِ ظاہری، دنیاوی عزت اور حکومت وغیرہ یعنی اگر کسی بدکار سیاہ کار کو یہ نعمتیں مل جائیں تو تم اس پر رشک نہ کرو یہ خیال نہ کرو کہ اللّٰہ تَعَالٰی اس سے راضی و خوش ہے ۔اس کے لیے یہ نعمتیں بعدِ موت مصیبت بن جائیں گی جن سے اس کے عذاب میں اور زیادتی ہوگی لہٰذا یہ نعمت راحت کی شکل میں عذاب ہے ۔
(مراٰۃ المناجیح، ج ۷، ص۷۱ملخصًا)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
ہمارا رَشک کن چیزوں میں ہوتا ہے؟
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ بالا روایات وحکایات سے ہمیں یہ دَرس ملا کہ رشک تقویٰ وپرہیز گاری پر ہونا چاہیے نہ کہ مالداری پر !اب ہمیں خود پر غور کرنا چاہئے کہ ہم کن چیزوں میں رشک کرتے ہیں ؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ کسی کا عالیشان بنگلہ ، شاندار گاڑی، بینک بیلنس، نوکر چاکر اوردیگر سہولیات وآسائشات اور تعیشات دیکھ کر ہمارے دل میں بھی ان چیزوں کے حُصُول کی خواہش بیدار ہوجاتی ہے؟بلکہ ہم تَن مَن دَھن سے ان چیزوں کے حُصُول میں کوشاں بھی ہوجاتے ہیں ؟لیکن ذرا سوچ کر بتائیے کہ کیا کبھی ایسا بھی ہوا کہ کسی مسلمان کو نماز، روزے اور دیگرفرائض وواجِبات کی پابندی کرتے دیکھ کر ہمارے دل میں بھی اُس جیسا بننے کی تمنا پیدا ہوئی ہو ؟ کسی اسلامی بھائی کو سُنَن ومستحبات مثلاً تِلاوتِ قراٰن، تہجُّد، اِشراق وچاشت اور اَوَّابین کے نوافِل کی پابندی کرتا دیکھ کر ہمیں اس کی پَیروی کرنے کا جذبہ ملا ہو ؟کسی کو دُرود پاک کی کثرت کرتا دیکھ کر ہمارا بھی دُرود شریف پڑھنے کو جی چاہا ہو ؟کسی کو صدقہ وخیرات کرتے دیکھ کر ہمارا بھی راہِ خدا میں خَرچ کرنے کا ذہن بنا ہو ؟کسی عاشقِ رسول کو دعوتِ اسلامی کے مَدنی قافلے کا مسافر بنتے دیکھ کر ہم نے بھی راہِ خدا میں سفر کرنے کی نیت کی ہو ؟ یاد رکھئے! دنیا کا مال واَسباب اس لائق ہی نہیں کہ اس پر رشک کیا جائے کیونکہ یہ تو یہیں دنیا ہی میں رہ جائے گا ، آخِرت کی عالیشان نعمتیں اسی کو ملیں گی جس نے دنیا میں نیکیوں کا خزانہ جمع کیا ہوگا ۔اس لئے ہمیں چاہئے کہ دنیاوی نعمتوں پر لَلْچانے کے بجائے انعاماتِ آخِرت پانے کے لئے کمربستہ ہو جائیں ۔ ؎
کچھ نیکیاں کما لے جلد آخِرت بنا لے
کوئی نہیں بھروسہ اے بھائی زندگی کا
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !گناہوں سے بچنے اورنیکیوں کا خزانہ اکٹھا کرنے کا مَدَنی ذہن بنانے کے لئے تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مشکبار مَدَنی ماحول سے ہردم وابستہ رہئے ، سنّتوں بھرے اجتماعات میں شرکت ، عاشِقان رسول کے ہمراہ ہر مہینے تین دن کے مَدَنی قافلے میں سفر کو اپنا معمول بنا لیجئے اور نیک بننے کے نُسخے یعنی مَدَنی انعامات کا رسالہ مکتبۃ المدینہ سے ہدیۃً حاصِل کر کے ان انعامات پر پابندی سے عمل کے ساتھ ساتھ روزانہ فِکر مدینہ کرتے ہوئے مَدَنی انعامات کا رسالہ پُر کیجئے اور ہر ماہ کی دس تاریخ سے پہلے پہلے اپنے یہاں کے مَدَنی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع