30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہ نعمت اوروں کے پاس بھی رہے مجھے بھی مل جائے یعنی اوروں کا زَوال نہیں چاہتا اپنی تَرقّی کا خواہش مند ہے اسے غِبْطَہ (یعنی رشک)یا تَنافُس (یعنی للچانا)کہتے ہیں ۔(تفسیر کبیرج۱، ص۶۴۹ تا۶۵۱ملخصًا )
رَشک (یعنی غِبطہ)کبھی واجِب ہوتا ہے کبھی مستحب اورکبھی جائز ۔ اس سلسلے میں تفصیل یہ ہے کہ رشک دینی نعمتوں پر ہوگا یا دنیاوی نعمتوں پر !پھر اگر یہ دینی نعمت ایسی ہو جس کا حاصِل کرنا اِس شخص پر بھی واجِب ہے تب تواِسے اُس نعمت پر رشک کرنا واجب ہے جیسے باجماعت نمازاوررمضان کے روزوں کی پابندی کرنا ، کیونکہ اگر یہ بھی اس جیسا نمازی وروزہ دار نہ ہونا چاہے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ بے نمازی وروزہ خور رہنے پر خوش ہے جس سے گناہ پر راضی رہنا لازم آئے گا اور یہ حرام ہے ، اور اگر اس دینی نعمت کا تعلُّق فرائض وواجبات سے نہیں فضائل سے ہو تو اس صورت میں رشک مستحب ہے جیسے ذِکرُ اللّٰہ کرنا، دُرود پاک پڑھنا ، نوافِل ادا کرنا ، راہِ خدا میں خَرچ کرنا اور سنتوں بھرے اِجتماعات میں شرکت کرنا وغیرہ ، اور اگر وہ نعمت ایسی ہے جسے حاصِل کرنا جائز ہے جیسے نکاح تو اس میں رشک کرنا جائز ہے ، پھراگر یہ رشک دنیاوی نعمتوں میں ہو جیسے خوبصورت مکانات، کپڑے ، گاڑیاں اور زیورات وغیرہ توایسا رشک معاف ہے ۔
(احیاء علوم الدین، کتاب ذم الغضب، ج۳، ص۲۳۶ ملخصاً و الزواجر عن اقتراف الکبائر، الباب الاول، ج۱، ص۱۲۵ملخصاً)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ کیسے پتا چلے گا کہ ہمارے دل میں کسی کے لئے رشک ہے یا حَسَد ؟ کیونکہ ممکن ہے جسے ہم رشک سمجھیں وہ حَسَد ہو جو ہمیں برباد
کردے! تو اس کی کَسوٹی (یعنی پرکھنے کامعیار)یہ ہے کہ اگر کسی اسلامی بھائی کے پاس کوئی نعمت دیکھ کرآپ کے دل میں آئے کہ کاش ایسی ہی نعمت مجھے بھی مل جائے لیکن یہ بھی اس سے محروم نہ ہو تو یہ رَشک ہے لیکن اگر ساتھ ہی ساتھ یہ بھی دل میں آئے کہ اگرمجھے نہ ملے تو اس کے پاس بھی نہ رہے تو سنبھل جائیے کہ یہ حَسَد ہے جو حرام اور جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے ۔
(احیاء العلوم ، کتاب ذم الغضب ، ج۳، ص ۲۳۶)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
حضرتِ سیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مَروِی ہے کہ سرکارِنامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : حَسَد نہیں ہے مگر دو شخصوں پرایک وہ شخص جسے خدا عَزَّوَجَلَّ نے قرآن سکھایا وہ رات اور دن کے اوقات میں اس کی تِلاوت کرتا ہے، اس کے پڑوسی نے سنا تو کہنے لگا : کاش! مجھے بھی ویسا ہی دیا جاتا جو فُلاں شخص کو دیا گیا تو میں بھی اُس کی طرح عمل کرتا۔ دوسرا وہ شخص کہ خدا عَزَّوَجَلَّ نے اسے مال دیا وہ حق میں مال کو خَرچ کرتا ہے، کسی نے کہا : کاش! مجھے بھی ویسا ہی دیا جاتا جیسا فُلاں شخص کو دیا گیا تو میں بھی اُسی کی طرح عمل کرتا۔
(صحیح البخاری، کتاب فضائل القرآن، ج۳، ص۴۱۰، الحدیث : ۵۰۲۶)
صَدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہحضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القویاِرشاد فرماتے ہیں : (یہاں ) حَسَد سے مراد غِبطہ ہے جس کو لوگ رشک کہتے ہیں ، جس کے یہ معنی ہیں کہ دوسرے کو جو نعمت ملی ویسی مجھے بھی مل جائے اوریہ آرزو نہ ہو کہ اسے نہ ملتی یا اس سے جاتی رہے اور حَسَد میں یہ آرزو ہوتی ہے، اسی وجہ سے حَسَد مذموم ہے اور غبطہ مذموم نہیں ۔(مزید لکھتے ہیں : ) یہی دوچیزیں غبطہ کرنے کی ہیں کہ یہ دونوں خدا عَزَّوَجَلَّ کی بہت بڑی نعمتیں ہیں غبطہ اِن پر کرنا چاہیے نہ کہ دوسری نعمتوں پر، واﷲُ تعالٰی اَعْلَمُ بِالصّواب۔ (بہارِ شریعت، ج۳، حصہ۱۶، ص۵۴۱)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
اللّٰہ تَعَالٰی نے ہمارے مَدنی آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ایسی شانِ رِفْعَت عطافرمائی ہے کہ میدانِ محشر میں اس کی ایک جھلک دیکھ کر سب رشک کریں گے ، چنانچِہ خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحمَۃٌ لِّلْعٰلمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے قیامت کے حالات بیان کرتے ہوئے یہ بھی اِرشاد فرمایا : میں اُس مقام پر کھڑا ہوں گا کہ مجھ پر اگلے اور پچھلے رشک کریں گے ۔
(سنن الدارمی، کتاب الرقائق، ج۲، ص۴۱۹، الحدیث : ۲۸۰۰)
یعنی مقامِ محمود عرشِ اعظم کے داہنے طرف ، وہ خاص ہمارا مقام ہے جس پر سارے انبیاء واولیاء رشک فرمائیں گے۔ خیال رہے کہ دینی عظمت پر رشک کرنا اچھی چیز ہے حَسَد بُری چیز۔
( مرقاۃ المفاتیح ج۹ص۵۶۲ ملخصاً ومراٰۃ المناجیح، ج۷، ص۴۶۱)
دکھائی جائے گی محشر میں شانِ محبوبی
کہ آپ ہی کی خوشی آپ کا کہا ہوگا
صحابہ کرام نیکیوں میں رشک کیا کرتے تھے
حضرتِ سیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ مہاجرفقراء نے سرکارِمدینۂ منوّرہ ، سردارِمکّۂ مکرّمہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہو کر عَرْض کی : مالدار بڑے درجے اور دائمی نعمت لے گئے ! فرمایا : وہ کیسے ؟ عَرْض کی : جیسے ہم نمازیں پڑھتے ہیں وہ بھی پڑھتے ہیں اور جیسے ہم روزے رکھتے ہیں وہ بھی رکھتے ہیں مگر وہ خیرات کرتے ہیں ہم نہیں کرتے ، وہ غلام آزاد کرتے ہیں ہم نہیں کرتے ۔ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : کیا میں تمہیں وہ چیز نہ سکھاؤں جس سے تم آگے والوں کو پکڑلو اور پیچھے والوں سے آگے بڑھ جاؤ اور تم سے کوئی افضل نہ ہوسوائے اس کے جو تمہارے جیسا عمل کرے ! عَرْض کی : ہاں ! یارسولَ اللّٰہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! فرمایا : ہر نماز کے بعد ۳۳ ‘ ۳۳ بار تسبیح‘ تکبیر اور حمد کرو (یعنی سُبْحٰنَ اللّٰہ، اَ للّٰہُ اَکْبَراور اَ لْحَمْدُللّٰہکہو)۔ حضرتِ سیِّدُنا ابو صالح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں کہ پھر مہاجر فقراء حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں لَوٹے اور عَرْض کی : ہمارے اس عمل کو ہمارے مالدار بھائیوں نے سُن لیا تو انہوں نے بھی یونہی کیا ! تب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَاءُ یعنی یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فَضل ہے جسے چاہے دے۔
(صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب استحباب الذکر۔۔۔الخ، ص۳۰۰، الحدیث : ۵۹۵)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع