30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرو اوراے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بندو! بھائی بھائی ہو کر رہو۔(صحیح البخاری، کتاب الادب، ج۴، الحدیث : ۶۰۶۶، ص۱۱۷)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : یعنی بدگمانی ، حَسَد، بُغْض وغیرہ وہ چیزیں ہیں جن سے محبت ٹوٹتی ہے اور اسلامی بھائی چارہ محبت چاہتا ہے، لہٰذا یہ عیوب چھوڑو تاکہ بھائی بھائی بن جاؤ ۔(مراٰۃ المناجیح ج ۶، ۶۰۸)
تکبر ، رِیاکاری و جھوٹ ، غیبت
سے بھی اور حَسَد سے بچایاالٰہی
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
کسی کی دینی یا دُنیاوی نعمت کے زَوال (یعنی اس سے چھن جانے) کی تمنا کرنایا یہ خواہش کرنا کہ فُلاں شخص کو یہ یہ نعمت نہ ملے ، اس کا نام ’’حَسَد‘‘ ہے۔(الحدیقۃ الندیۃ، الخلق الخامس عشر ، ج۱، ص ۶۰۰، ۶۰۱) حَسَدکرنے والے کو ’’حاسِد ‘‘ اورجس سے حَسَد کیا جائے اُسے ’’محسود‘‘ کہتے ہیں ۔
٭کسی کو مالی طور پر خوشحال دیکھ کر جلنا کُڑھنا اور یہ تمنا کرنا کہ اس کے ہاں چوری یاڈکیتی ہوجائے یا اس کی دُکان ومکان میں آگ لگ جائے اور یہ کَوڑی کَوڑی کا محتاج ہوجائے، یا٭ کسی کو اعلیٰ دینی یا دنیاوی مَنصَب ومرتبے پر فائز دیکھ کر دل جلانا اور یہ تمنا کرنا کہ اس سے کوئی ایسی غَلَطی سَرزَدہو کہ یہ مقام ومرتبہ اس سے چِھن جائے اور یہ ذلیل ورُسوا ہوجائے ، یا٭ یہ خواہش رکھنا کہ فُلاں ہمیشہ تنگ دَسْت ہی رہے کبھی خوشحال نہ ہو، یا٭فُلاں کو کبھی کوئی عزت ومرتبہ نہ ملے وہ ہمیشہ ذِلّت کی چکی میں ہی پِستا رہے ، اِس مذموم خواہش کا نام حَسَد ہے ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
حَسَد کو حَسَد کیوں کہتے ہیں ؟
’’ حَسَد‘‘کا لفظ’’ حَسْدَلُ ‘‘سے بنا ہے جس کا معنی چیچڑی (جوں کے مشابہ قدرے لمبا کیڑا) ہے ، جس طرح چیچڑی انسان کے جِسم سے لپٹ کر اس کا خون پیتی رہتی ہے اسی طرح حَسَد بھی انسان کے دل سے لپٹ کر گویااس کا خون چُوستا رہتا ہے اس لئے اسے حَسَد کہتے ہیں ۔(لسان العرب، باب الحائ، ج۱، ص۸۲۶)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
حَسَد باطِنی بیماریوں کی ماں ہے
غصّے کی کَوکھ سے کینہ اور کینے کے بَطَن سے حَسَد جنم لیتا ہے کیونکہ جب انسان کو کسی پر غصّہ آتا ہے تو وہ زبان ہاتھ یا آنکھوں وغیرہ سے اس کا اِظہار کرتا ہے یا پھر رضائے الٰہی کے لئے اسے پی لیتا ہے لیکن اگر کسی رُکاوٹ کی وجہ سے اپنا غصہ سامنے والے پر ’’اُتار ‘‘ نہ سکے بلکہ اپنے دل میں بِٹھا لے تو وہ غصہ اندر ہی اندر کینے اور حَسَد میں تبدیل ہوجاتا ہے اور حَسَد سے بدگمانی وشماتت جیسی بہت سی ظاہری وباطِنی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں ، اسی لئے حَسَد کو’’اُمُّ الْاَمْرَاض(یعنی بیماریوں کی ماں )‘‘کہا گیا ہے ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
حضرتِ سیِّدُناامام محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی لکھتے ہیں : حاسد کی مثال اس شخص کی سی ہے جو دشمن کو مارنے کے لیے پتھر پھینکے لیکن وہ پتھر دشمن کو لگنے کے بجائے پلٹ کر پھینکنے والے شخص کی سیدھی آنکھ پر لگے اور وہ پُھوٹ جائے اب غصہ اور زیادہ ہو، دوسری بار اور زور سے پتھر پھینکا لیکن اس بار بھی دشمن کو نہ لگابلکہ پَلَٹ کر اسی کو لگا اور دوسری آنکھ بھی پُھوٹ گئی ، تیسری بار پھر پھینکا اس مرتبہ سر ہی پھٹ گیا اور دشمن سلامت رہا۔پتھر پھینکنے والے کے دوسرے دشمن اسے اس حال میں دیکھ کر اس پر ہنستے ہیں ، حاسد کا بھی یہی حال ہے شیطان اُس سے اِسی طرح مذاق کرتا ہے۔ (کیمیائے سعادت ، ج۲، ص۶۱۴) ؎
گناہوں سے مجھ کو بچا یاالٰہی
بُری عادتیں بھی چُھڑا یاالٰہی (وسائل بخشش ص ۷۹)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
ہر حَسَد ایک سا نہیں ہوتا بلکہ اس کی چارقسمیں ہیں جن کا الگ الگ شرعی حُکم ہے، لہٰذا جب بھی دل میں کسی کی نعمت چھن جانے کی خواہش پیدا ہو تو خوب اچھی طرح غور کر لیجئے کہ یہ خواہش حَسَد کی کونسی قِسْم کے تحت آتی ہے ۔ان اَقسام کی وضاحت کرتے ہوئے مُفَسِّرِشَہِیر، حکیمُ الْاُمَّت حضرت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان تفسیرِ نعیمی جلد1 صفحہ614 پرلکھتے ہیں : حَسَد کے چار دَرَجے ہیں : (پہلا)یہ ہے کہ حاسِددوسروں کی نعمت کا زَوال چاہے کہ خواہ مجھے نہ ملے مگر اس کے پاس سے جاتی رہے ، اس قسم کا حَسَد مسلمانوں پر گناہ ِکبیرہ ہے اور کافِرو فاسِق کے حق میں جائز مثلاًکوئی مالدار اپنے مال سے کُفْریا ظُلْم کر رہا ہے اُس کے مال کی اِس لئے بربادی چاہنا کہ دُنیا کُفر و ظُلم سے بچے ، ’’جائز ‘‘ ہے(اس کو غیرت بھی کہتے ہیں ) ۔ (دوسرا)دَرَجہ یہ ہے کہ حاسِد دوسرے کی نعمت خود لینا چاہے کہ فُلاں کا باغ یا اُس کی جائداد میرے پاس آجائے یا اُس کی رِیاست کا میں مالِک بنوں ، یہ حَسَد بھی مسلمانوں کے حق میں حرام ہے۔( تیسرا) درجہ یہ ہے کہ حاسِد اس نعمت کے حاصِل کرنے سے خود تو عاجِز ہے اس لئے آرزو کرتا ہے کہ دوسروں کے پاس بھی نہ رہے تاکہ وہ مجھ سے بڑھ نہ جائے یہ بھی منع ہے ۔(چوتھا)دَرَجہ یہ ہے کہ وہ تمنّا کرے کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع