30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تو میرے ہاتھ میں بیان کی کیسٹ آگئی ۔ میں نے سوچا کہ سنوں تو سہی کہ حضرت کیا فرماتے ہیں ؟ میں نے بیان سننا شروع کیا تو اپنے اردگرد سے بے خبر ہوگیا اور بیان کے الفاظ میرے ضمیر کو جھنجھوڑنے لگے ، کچھ ہی دیر بعد مجھے اپنے رُخساروں پر آنسوؤں کی نَمی محسوس ہوئی ۔ اس بیان کو سننے کے بعد ایک دَم میری زندگی کا رُخ تبدیل ہوگیا ، دیگر گناہوں کے ساتھ ساتھ میں نے داڑھی منڈانے سے بھی توبہ کی اور سر پر عمامہ شریف سجا لیا ۔ہرشخص حیران پریشان تھا کہ اچانک اسے کیا ہوگیا ہے ! بعض تو کہتے تھے کہ یہ ڈرامہ باز ہے کوئی نیا ڈرامہ کررہا ہے ، کوئی کہتا تھا : اتنی جلدی نہ کرو، جلدی بھاگ جاؤ گے ۔الغرض جتنے منہ اتنی باتیں ! لیکن میں نے سُدھرنے کا پختہ اِرادہ کرلیا تھا کہ میں نے زیادہ سے زیادہ نیکیاں کما کر اپنے گناہوں کا گویا کفارہ ادا کرنا ہے ۔اَ لْحَمْدُللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ! دعوتِ اسلامی کے مَدَنی کاموں میں میری غیرمعمولی دلچسپی کی وجہ سے میں تنظیمی طور پر آگے بڑھتا چلا گیا ، تقریباً20سال تک مختلف ذمہ داریاں نبھانے کی کوشش کے بعد تادَمِ تحریر رُکنِ کابینہ کی حیثیت سے دعوتِ اسلامی کی ترقی کے لئے کوشاں ہوں ۔
تِرا شُکْر مولا دیا مَدَنی ماحول نہ چُھوٹے کبھی بھی خدا مَدَنی ماحول
سلامت رہے یاخدا مَدَنی ماحول بچے بد نظر سے سدا مَدَنی ماحول (وسائل بخشش ص۶۰۲)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
حُجَّۃُ الاسلامحضرتِ سیِّدُنا امام محمد بن محمد بن محمد غزالی علیہِ رَحمۃُ اﷲِ الوالی اِحیا ئُ الْعُلُوم میں فرماتے ہیں : اگر تم اپنے ظاہِر کو بھی حَسَد سے روک دو اور دل میں پیدا ہونے والے جذبۂ حَسَد کو بھی ناپسند کرو اور دوسروں سے نعمت کے زَوال کی دل میں پیدا ہونے والی تمنّا کو بھی پسند نہ کرو یہاں تک کہ اپنے نَفْس پر بھی اِس سبب سے غصّہ کرو تو تم نے اپنے اِختیار کے مطابِق اپنی ذمّہ داری پوری کی۔ یعنی اتنا کر چکنے کے بعد مجبوراً پیدا ہونے والے حَسَد کا گناہ نہیں ملے گا۔(احیاء العلوم ، ج۳ ، ص ۲۴۶)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
اگر کسی کو آپ سے حَسَد ہوتو ؟
پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ایک فرمانِ عالیشان میں یہ بھی ہے : کُلُّ ذِیْ نِعْمَۃٍ مَحْسُوْ دٌ یعنی ہر ذی نعمت حَسَد کیا جاتا ہے۔(المعجم الکبیر ج۲۰ص۹۴حدیث ۱۸۳ملخصًا)اس حدیث پاک کے پیشِ نظر ہر اس شخص کے حاسِدین کی کچھ نہ کچھ تعداد ضرور ہوگی جسے اللّٰہ تَعَالٰی نے مال ودولت ، عزت وشہرت اوردیگر فضائل وکمالات سے نوازا ہے لیکن شرعی دلیل کے بغیر کسی کو مُعَیَّن کرکے کہنا کہ’’ یہ مجھ سے حَسَد کرتا ہے‘‘جائز نہیں ہے کیونکہ یہ بدگمانی ہے اور بدگمانی حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ۔
مجھے غیبت و چُغلی و بدگمانی
کی آفات سے تُو بچا یاالٰہی (وسائلِ بخشش ، ص۸۰)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
شیخ سعدی کے استاذ نے کیا خوب ٹوکا
حضرتِ سیِّدُنا شیخ سعدی علیہ رَحمَۃُ اللّٰہِ الھادیفرماتے ہیں : میں نے ایک بار اپنے استادِ محترم حضرتِ علّامہ اَبُو الْفَرَجعَبْدُ الرَّحمٰن بِن جَوزِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی سے عَرْض کی : میں لوگوں میں دَرسِ حدیث پیش کرتا ہوں تو فُلاں شخص حَسَد کرتا اور جلتا ہے! استادِ محترم نے فرمایا : اے سعدی ! تَعَجُّب ہے کہ تم حَسَد کو توبُری چیز تسلیم کرتے ہو مگر میرے سامنے کسی کو ’’ حاسِد‘‘ کہہ کر اُس کی بلا تکلُّف غیبت کر رہے ہو !آخِر تمہیں یہ کس نے کہہ دیا کہ صِرف حَسَد ہی حرام ہے کیا غیبت حرام نہیں ؟ یاد رکھو! اگر حاسِد جہنَّم کا حقدار ہے تو غیبت کرنے والا بھی عذابِ نار کا سزا وار ہے۔(بوستانِ سعدی ص۱۸۸ مُلَخَّصاً )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!سُبحٰنَ اللّٰہ! اَساتِذہ ہوں تو ایسے! صِرف مخصوص اَسباق پڑھانے ہی سے غرض نہ ہو ، بلکہ طَلَبہ کی اَخلاقی تربیت پربھی دھیان رکھیں ، ایک استاذ ہی کیا ہر مسلمان اپنی اس ذِمّے داری کو سمجھے اور نیکی کی دعوت اور گناہ سے مُمانَعَت کی ترکیب وصورت بناتا رہے۔’’بوستانِ سعدی ‘‘کی حکایت سے یہ بھی سیکھنے کو ملا کہ ’’ فُلاں مجھ سے حَسَد کرتا ہے‘‘ کہنا غیبت ہے، بلکہ یہ جملہ غیبت سے بھی سخت گناہ تہمت کی طرف جا رہا ہے کیوں کہ ’’ حَسَد ‘‘باطِنی امراض میں سے ہے اور اس کا تعلُّق دل سے ہے اگر چِہ کبھی کبھارواضح قَرائن( یعنی بالکل صاف علامتوں ) سے بھی حَسَد کا اظہار ہو جاتا ہے مگر اکثر لوگ قِیاس ہی سے کسی کو حاسِد کہہ دیا کرتے ہیں ۔ حَسَد کے مُتَعَلِّق غیبت کے مزید سات فِقرات مُلاحَظہ ہوں : ٭ جل کُکَّڑہے ٭ مجھ سے جلتا ہے ٭ میری ترقّی دیکھ نہیں سکتا ئمیری خوشی سے خوش نہیں ہوا ٭میرا نقصان چاہتا ہی٭ میری بھلائی میں راضی نہیں ٭ مجھے دیکھ کر اُس کے تن بدن میں آگ لگ گئی ۔
(غیبت کی تباہ کاریاں ، ص۳۳۱)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
نظرِ بد اونٹ کو دیگ میں اتار دیتی ہے
حَسَد کے اثرات کانظرِ بد کی صورت میں ظاہر ہونا ممکن ہے ، حضرتِ سیِّدُنا جابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ شہنشاہِ خوش خصال، پیکرِ حُسن وجمال، دافِعِ رنج و مَلال، صاحبِ جُودو نوال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : اَلْعَیْنُ تُدْخِلُ الرَّجُلَ الْقَبْرَ وَ تُدْخِلُ الْجَمَلَ الْقِدْرَبے شک نظر مرد کو قبر میں اور اونٹ کو دیگ میں داخل کر دیتی ہے ۔
(جمع الجوامع ، ج ۵، ص۲۰۴، الحدیث : ۱۴۵۵۸ )
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع