دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Hasad | حَسَد

book_icon
حَسَد

نے جواب دیا : میں حَسَدسے بچتا رہا ، یہ اسی کی بَرَکت ہے ۔(الرسالۃ القشیریۃ، ص۱۹۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۹)  اپنی خامیوں کی اِصلاح میں لگ جائیے

        انسان کی ذات خوبیوں اور خامیوں کا مجموعہ ہوتی ہے ، اپنی خامیوں پر قابو  پاکر ہی خوبیوں کی حفاظت وآبیاری کی جاسکتی ہے مگر دوسروں کی خوبیوں پرجلنے کُڑھنے والا اپنی خامیوں کی اِصلاح سے محروم رہ جاتا ہے اور نقصان اٹھاتا ہے ۔اگر ہم اپنی اِصلاح کی کوشِش میں لگ جائیں تو حَسَد جیسے بُرے کام کے لئے ہمیں فرصت ہی نہیں ملے گی یوں ہم اس سے بچنے میں کامیاب ہوجائیں گے ۔ مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان فرماتے ہیں :  نفس میں سات عیب ہیں :  (۱) خود پسندی (۲) غُرور (۳) رِیاکاری (۴) غصّہ (۵) حَسَد (۶) مال کی محبَّت اور (۷) عزّت کی چاہت، اور دوزخ کے دروازے بھی سات ہیں جو اِن سات عَیبوں کو نکالے اس پر اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ ! یہ دروازے بند ہوں گے۔ (تفسیرنعیمی ج۱، ص۵۲۰ )

؎ ہر بھلے کی بھلائی کا صدقہ

مجھ بُرے کو بھی کر بھلا یارب

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !             صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۱۰)  حَسَد کی عادت کو رشک میں تبدیل کرلیجئے

        حَسَد کو رشک میں تبدیل کرکے بھی اس کے نقصانات سے بچا جاسکتا ہے مثلاً کسی سے اس کے مضبوط حافظے کی وجہ سے حَسَد ہے تواللّٰہ  تَعَالٰی سے دعا کیجئے کہ اُس کے حافظے میں مزید  بَرَکتیں دے اور ایسا حافظہ مجھے بھی عطا فرمادے ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

    (۱۱)  نفرت کو محبت میں بدلنے کی تدبیریں کیجئے

        حاسِد کو چُونکہ ’’مَحْسُوْد‘‘ ( یعنی جس سے حَسَد کیا جائے اُس  )سے سَخْت نفرت ہو جاتی ہے لہٰذا اِس نفرت کو مَحَبّت سے بدلنے کی یہ تدبیریں کرے : ٭ اُس سے سلام میں پہل کرے ٭ملاقات ہو تو گرمجوشی کا مظاہَرہ کرے ٭ ممکن ہو تو کبھی کبھی تحائف پیش کرے ٭ اس کی جس نعمت کے باعث حَسَد ہوتا ہواُس میں بَرَکت کی دعا کرے ٭ اُسکی بد گوئی سے بچے بلکہ دوسرا بھی بُرائی کرے تو نہ سُنے ٭ بیماری یا مصیبت میں اس کی تعزیت کرے ٭ خوشی کے موقع پر مُبارکباد پیش کرے ٭ضَرورت کے موقع پر اُس کی مدد کرے ٭ لوگوں کے سامنے اُس کی بکثرت جائز تعریف کرے ٭ دوسرا اُس کی جائز تعریف کرے تو خوشی کا اِظہار کرے ٭ اپنی طرف سے جس قَدَر فائدہ پہنچا سکتا ہو مَحْسُوْد کو پہنچائے۔

   عین ممکن ہے کہ شروع شروع میں مذکورہ بالا تدبیریں نَفْس پر بہت گراں ہوں لیکن بہ تکلُّف بار بار کرنے سے ان کی عادت ہوجائے گی اور اِنْ شَآءَاللہ  عَزَّوَجَلَّ   حَسَد سے جان چھوٹ جائے گی۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

سر کا بوسہ لے لیا

        قاضی تَنُوْخِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی کا بیان ہے :  ایک مرتبہ جمعہ کے دن نمازِ جمعہ سے کچھ دیر قبل میں ’’جامع منصور‘‘ میں موجود تھا، میری سیدھی طرف حضر تِ سیِّدُنا  علی بن طَلحہ بَصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی  تھے، میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو میرے بہت ہی قریبی دوست عبدُ الصَّمَد بھی کچھ فا صلے پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک دم وہ اٹھے اور میری طرف بڑھنے لگے ۔میں بھی اٹھ کھڑا ہوا۔ یہ دیکھ کر کہنے لگے : ’’ قاضی صاحب! آپ تشریف رکھئے، میں آپ کے لئے نہیں بلکہ علی بن طلحہ (رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ) کی خاطِر اُٹھ کر آیا ہوں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ میرے نَفْس نے مجھے ان کے متعلِّق حَسَد میں مبتلا کر نے کی کوشِش کی اور انہیں دیکھ کر میرے نَفْس کو ناگواری محسوس ہوئی تومیں نے ٹھان لی کہ میں اپنے نَفْس کی بات نہ مان کر اس کو ذلیل ورُسوا کروں گا اورعلی بن طلحہ (رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہکے پاس ضَرور جاؤں گا ۔‘‘ یہ سن کر حضرت سیِّدُناعلی بن طلحہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کھڑے ہوگئے اورپیار سے اُن کا ماتھا چوم لیا۔(عیون الحکایات، ص۳۳۸ )

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۱۲)  دوسروں کی خوشی میں خوش رہنے کی عادت بنالیجئے

         خالقِ کائنات کی مخلوقات پر غور کیا جائے تو صاف دکھائی دیتا ہے کہ چَرِند ہوں یا پَرِند ، حیوانات ہوں یا نباتات اسی طرح انسان کو اللّٰہ  تَعَالٰی نے ہوبہو ایک جیسا نہیں بنایا بلکہ ان میں مختلف اِعتبارات سے فرق رکھا ہے مثلاً ہرچوپایہ گھاس نہیں کھاتا ، ہر پرندہ اونچا نہیں اُڑتا، ہر درخت پھل نہیں دیتا ، یونہی انسانو ں کو بھی ایک دوسرے پر فوقیت حاصِل ہوتی ہے ان میں سے کوئی خوبصورتی و حُسن کا شاہکار تو کوئی بدصورتی کا نمونہ، کوئی خوبیوں کا مُرقع تو کوئی خامیوں کا پیکر، کوئی عِلم کا سَمُندَر تو کوئی  جہالت کا جوہڑ، کوئی صنعت و حرفت میں ماہر تو کوئی اناڑی وپھوہڑ، کوئی خوش اِلحان تو کوئی بھونڈا، کوئی ذہنی قوت کا حامِل تو کوئی جسمانی !اب جو شخص دوسرے کو فوقیت ملنے پر واویلا مچائے اور اپنا دل جلائے نقصان اُسی کا ہوگا ۔ذرا سوچئے کہ کسی کی خوبصورتی پر حَسَد کرنے سے آپ حسین وجمیل بن جائیں گے ! کسی کی ذہانت چھن جانے سے آپ ذہین وفطین ہوجائیں گے ! کسی کی دولت چھن جانے سے آپ امیر ہوجائیں گے !اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ وہ چیز اس سے چھن کر آپ کو مل جائے گی تو پھر کیا وجہ ہے کہ آپ اسے آگے بڑھتا دیکھ نہیں سکتے؟ کیوں کسی کی نعمتوں کی پامالی کے خواہاں ہیں ؟ کیوں حَسَد جیسے خطرناک مرض کو اپنے اندر جگہ دیتے ہیں ؟اگر ان تمام باتوں کی جگہ آپ دوسروں کی نعمتوں پر خوش ہونا سیکھ لیں تو حَسَدآپ کے دل کا راستہ بھول جائے گا ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۱۳)  رُوحانی عِلاج بھی کیجئے

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن