30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دوسروں کی نعمتوں کے بارے میں زیادہ سوچنا چھوڑ دیجئے کیونکہ اپنے سے زیادہ نعمتوں والے کے بارے میں سوچتے رہنے سے اکثر اِحساسِ کمتری پیدا ہوتا ہے جس سے حَسَد جَنَم لیتا ہے، لہٰذا اِس حدیثِ پاک کوحِرْزِ جان بنا لیجئے کہ سرکارِنامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافرمانِ نصیحت نشان ہے : اپنے سے نیچے کے دَرَجے والوں کی طرف دیکھا کرو اوپر کے دَرَجے کے لوگوں کی طرف نظر مت کرو ، اگر تم اس طرح کرو گے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی کسی بھی نعمت کو حقیر نہ جانو گے۔(سنن ابن ماجہ، حدیث ۴۱۴۲ج۴ ص۴۴۳ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۸) حَسَدسے بچنے کے فضائل پرنظر رکھئے
حَسَد سے بچنے کے فضائل وفوائد پرنظر رکھنے کی بَرَکت سے عِلاج میں اِستقامت نصیب ہوگی ۔بطورِ ترغیب پانچ فضائل ملاحظہ کیجئے :
(1) سب سے افضل کون؟
حضورنبی ٔ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں عَرْض کی گئی : ’’لوگوں میں سب سے افضل کون ہے؟ ‘‘ ارشاد فرمایا : ’’ زبان کاسچا اورمَخْمُوْمُ الْقَلْب مسلمان۔‘‘ عرض کی گئی : ’’ یارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ یہ تو ہم جانتے ہیں کہ زبان کا سچا کون ہوتا ہے لیکن ’’مَخْمُوْمُ الْقَلْب‘‘سے کیا مراد ہے؟ ‘‘ارشاد فرمایا : اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرنے والا، ہر قسم کے گناہ ، سرکشی ، دھوکا دہی اور حسد سے بچنے والا۔(سنن ابن ماجہ، ج۴، ص۴۷۵، الحدیث : ۴۲۱۶)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(2) تم جنت میں میرے ساتھ رہو گے
ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہو کر عَرْض کی : یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں صِرف ایک مہینے کے روزے رکھتا ہوں اس پر اِضافہ نہیں کرتا ، اور صِرف پانچ نَمازیں پڑھتا ہوں اس سے زیادہ نہیں پڑھتا اور میرے مال میں زکوٰۃ فَرْض نہیں اور نہ ہی مجھ پر حج فَرْض ہے اور نہ ہی نَفل حج کرتا ہوں ، میں مرنے کے بعد کہاں جاؤں گا؟رسولُاللّٰہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے تبسُّمفرماتے ہوئے ارشاد فرمایا : تم جنَّت میں میرے ساتھ ہوگے جب کہ تم اپنے دل کو دو باتوں یعنی خِیانت اور حَسَد سے بچاؤ اور اپنی زَبان کو دو باتوں یعنی غیبت اور جھوٹ سے اور دوباتوں سے آنکھوں کو بچاؤ یعنی جس کی طرف نظر کرنا اللّٰہ تَعَالٰی نے حرام قرار دیا ہے اُس کی طرف نہ دیکھو اور کسی مسلمان کو حقارت سے نہ دیکھو۔ (قُوتُ الْقُلُوب ج۱ ص۴۳۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(3)سایہ عرش میں کس کو دیکھا!
حضرت سیِّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے ایک شخص کو عَرْش کے سایہ میں دیکھا ۔عَرْض کی : مولیٰ عَزَّوَجَلَّ ! اس کو یہ درجہ کس عمل سے حاصِل ہوا ؟ارشادِ الٰہی ہوا کہ تین عملوں سے : ایک یہ کسی پر حَسَد نہ کرتا تھا ، دوسرا یہ اپنے ماں باپ کا فرمانبردار تھا، تیسرا یہ چُغل خوری سے محفوظ تھا۔(مکارم الاخلاق، ص۱۸۳، الحدیث : ۲۵۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(4)جنتی شخص
حضرتِ سیِّدُنا اَنس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ارشاد فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم سرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بار گاہِ اقدس میں حاضر تھے کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’ابھی اس دروازے سے ایک جنتی شخص داخل ہو گا۔‘‘ تو ایک انصاری شخص داخل ہوا جس کی داڑھی وضو کی وجہ سے تَر تھی اور اس نے اپنے جوتے بائیں ہاتھ میں لٹکا رکھے تھے، اس نے حاضرِ بارگاہ ہو کر سلام عَرْض کیا۔ پھر جب دوسرا دن آیا تو اللّٰہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے وہی بات ارشاد فرمائی کہ’’ ابھی اس دروازے سے ایک جنتی مرد داخل ہو گا۔‘‘ تو وہی شخص پہلے کی طرح حاضرِ بارگائہ اقدس ہوا، پھر جب تیسرا دن آیاتوآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے یہی بات اِرشاد فرمائی تو حسبِ معمول وہی شخص داخل ہوا، پھر جب دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تشریف لے گئے تو حضرت سیدنا عبداللّٰہ بن عمروبن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اس شخص کے پیچھے چل دیئے اورکسی ترکیب سے اس کے پاس تین رات قیام فرمایا۔ حضرت سیدنا عبداللّٰہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : میں نے وہ تین راتیں اس کے ساتھ گزاریں لیکن رات کے وَقت اسے کوئی عِبادت کرتے ہوئے نہ دیکھا، ہاں ! مگر جب وہ بیدار ہوتا یاکروٹ بدلتا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذِکر کرتا اور اَللّٰہُ اَکْبَرُکہتا اور جب نمازکا وقت ہوجاتا تو بستر سے اٹھ جاتا اورمیں نے اسے اچھی بات کے علاوہ کچھ کہتے ہوئے نہ سنا، پھر جب تین دن گزرگئے تو میں نے اسے بشارتِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بارے میں بتایا کہ میں نے مَدَنی آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تمہارے بارے میں تین مرتبہ یہ کہتے ہوئے سنا : ’’ ابھی تمہارے پاس ایک جنتی شخص آئے گا ۔‘‘تو تینوں مرتبہ تم ہی آئے تومیں نے سوچا کہ تمہارے پاس رہ کر دیکھوں کہ تمہارا عمل کیا ہے؟ تا کہ میں بھی تمہاری پیروی کر سکوں مگر میں نے تو تمہیں کوئی خاص بڑا عمل کرتے ہوئے نہیں دیکھا، پھر تمہیں اس مقام تک کس عمل نے پہنچایا ؟‘‘ تو اس نے کہا : ’’میرا عمل تو وہی ہے جو تم نے دیکھ لیا مگر میں اپنے دل میں کسی مسلمان سے بددیانتی نہیں پاتا اورنہ ہی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عطا کردہ بھلائی پر کسی سے حَسَد کرتاہوں ۔‘‘ یہ سن کر میں نے کہا : بس یہی وہ ا عمال ہیں جنہوں نے تجھے اس مقام تک پہنچا دیا۔
(شعب الایمان ، الحدیث : ۶۶۰۵، ج۵، ص۲۶۴، ۲۶۵، بتغیرٍقلیلٍ)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(5)لمبی عمر کا راز
امام اَصْمَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی سے مَروِی ہے کہ میں نے ایک دیہاتی شخص کو دیکھاجس کی عمر ایک سو بیس سال تھی ۔میں نے حیرت کا اِظہار کیا کہ تم نے بہت طویل عمر پائی ہے! تو اس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع