دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Hasad | حَسَد

book_icon
حَسَد

حاسِد کے اَوسان خطا ہو گئے، بڑی عاجِزی سے بولا :  ’’یقین کرو کہ یہ خط تو کسی دوسرے شخص کے لئے لکھا گیا تھا، تم بادشاہ سے معلوم کروا لو۔‘‘عامِل نے جواب دیا :  ’’ بادشاہ سلامت کے حُکم میں کسی’’ اگر مگر‘‘ کی گنجائش نہیں ہوتی ۔‘‘ یہ کہہ کر اسے قتل کروا دیا۔

         دوسرے دن مُقَرَّب آدمی، حسبِ معمول دربار میں پہنچا اور نصیحت بیان کی۔ بادشاہ نے مُتَعجِّب ہو کر اپنے خط کے بارے میں پوچھا۔اُس نے کہا : ’’ وہ تو مجھ سے فُلاں درباری نے لے لیا تھا۔‘‘ بادشاہ نے کہا :  ’’ وہ تو تمہارے بارے میں بتاتا تھا کہ تم مجھے گندہ دَہَن(یعنی بدبودارمنہ والا) کہا کرتے ہو !‘‘ مقرَّب شخص نے عَرض کی :  ’’میں نے تو کبھی ایسی کوئی بات نہیں کی ۔ ‘‘ بادشاہ نے منہ پر ہاتھ رکھنے کی وجہ دریافت کی، تو اِس نے عَرض  کی :  ’’ اس شخص نے مجھے بہت سا کچّالَہسن کھلا دیا تھا ، میں نہیں چاہتا تھا  کہ اس کی بُو آپ تک پہنچے۔‘‘ بادشاہ سارا معاملہ سمجھ گیا اور اسے تاکید کی :  اب تم نصیحت کرتے ہوئے روزانہ یہ بات بھی کہا کرو : انسان کی تباہی کے لئے اس کا بُرا ہونا ہی کافی ہے جیسا کہ اس حاسِد کا حال ہوا۔  (احیاء العلوم، ج۳، ص۲۳۳ )

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے حَسَد ولالچ کے مَذْمُوم(یعنی بُرے)  جذبے نے دَرباری کو کیسی خطرناک اور شَرمناک سازِش کرنے پر تیار کیا لیکن ’’خود آپ اپنے دام میں صیاد آگیا‘‘ کے مِصْدَا ق وہ اپنے ہی پھیلائے ہوئے جال میں پھنس کر موت کے منہ میں جاپہنچا ۔ نیزاِس حِکایت سے یہ دَرس بھی ملا کہ کسی کی نعمتیں یا فضیلتیں دیکھ کر دل نہیں جلانا چاہئے اورنہ ہی اُس سے نعمتوں کے چِھن جانے کی تمنّاکرنی چاہئے کیونکہ اسے یہ سب کچھ دینے والا ہمارا خالِق ومالِک  عَزَّوَجَلَّ  ہے اوروہ بے نیاز ہے جس کو چاہے جتنا چاہے نَواز دے، ہم کون ہوتے ہیں اس کی تقسیم پر اِعتراض یا شکوہ کرنے والے!    ؎

رِہائی مجھ کو ملے کاش ! نفس وشیطاں سے

   تِرے حبیب کا دیتا ہوں واسطہ یاربّ     (وسائل بخشش ص ۹۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                 صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

باطِنی گناہوں کی تباہ کاریاں

         میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو!ہم میں سے ہر ایک کو اس دنیا میں اپنے اپنے حصے کی زندگی گزار کرجہانِ آخِرت کے سفر پر روانہ ہوجانا ہے ۔اس سفر کے دوران  ہمیں قبروحشر اور پُلْ صِراط کے نازُک مرحلوں سے گزرنا پڑے گا، اس کے بعد جنت یا دوزخ ٹھکانہ ہوگا ۔ اس دنیا میں کی جانے والی نیکیاں دارِ آخِرت کی آبادی جبکہ گناہ بربادی کا سبب بنتے ہیں ۔جس طرح کچھ نیکیاں ظاہِری ہوتی ہیں جیسے نماز اورکچھ باطِنی مثلاً اِخلاص، اسی طرح بعض گناہ بھی ظاہری ہوتے ہیں جیسے قتل اوربعض باطِنی مثلاً تکبُّر !اس پُر فِتَن دور میں اَوَّل تو گناہوں سے بچنے کا ذہن بہت ہی کم ہے اور جوخوش نصیب اسلامی بھائی گناہوں کے عِلاج کی کوشِشیں کرتے بھی ہیں تو ان کی زیادہ تَر توجُّہ ظاہری گناہوں سے بچنے پر ہوتی ہے، ایسے میں باطِنی گناہوں کا عِلاج نہیں ہوپاتا حالانکہ یہ ظاہری گناہوں کی نسبت زیادہ خطرناک ہوتے ہیں کیونکہ ایک باطِنی گناہ بے شمار ظاہری گناہوں کا سبب بن سکتا ہے مثلاً قتل، ظُلم ، غیبت ، چُغلی ، عیب دَری جیسے گناہوں کے پیچھے کینے اور کینے کے پیچھے غصے کا ہاتھ ہونا ممکن ہے ۔ چنانچہ اگر باطِنی گناہوں کا تسلّی بَخْش عِلاج کرلیا جائے تو بہت سے ظاہِری گناہوں سے بچنا اِنْ  شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ بے حد آسان ہوجائے گا ۔حُجَّۃُ الْاِسْلام حضرت سیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی  لکھتے ہیں : ظاہری اَعمال کا باطنی اَوصاف کے ساتھ ایک خاص تعلُّق ہے۔ اگر باطن خراب ہو تو ظاہری اَعمال بھی خراب ہوں گے اور اگر باطن حَسَد، رِیا اور تکبُّر وغیرہ عیوب سے پاک ہو تو ظاہری اعمال بھی دُرُست ہوتے ہیں ۔(منہاج العابدین، ص۱۳ ملخصًا)چنانچِہ ہر اسلامی بھائی پرظاہری گناہوں کے ساتھ ساتھ باطِنی گناہوں کے عِلاج پر بھی بھر پور  توجُّہ دینا لازم ہے تاکہ ہم اپنے دارِ آخِرت کو ان کی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھ سکیں ۔باطِنی گناہوں میں سے ایک گناہ   حَسَد بھی ہے جس کے بارے میں عِلم ہونا فَرْض ہے چنانچہ اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت ، مجدّدِ دین وملّت ، پروانۂ شمع رِسالت مولیٰنا شاہ امام اَحمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن  فتاویٰ رضویہ جلد 23 صفحہ 624 پر لکھتے ہیں :

’’ مُحَرَّمَاتِ باطِنِیَّہ(یعنی باطِنی ممنوعات مَثَلاً) تَکَبُّرو رِیا وعُجب وحَسَد وغیرہا اور اُن کے مُعَالَجَات(یعنی عِلاج) کہ ان کا عِلم (یعنی جاننا)بھی ہر مسلمان پر اہم فرائض سے ہے ۔‘‘

(فتاوٰی رضویہ مخرجہ، ج۲۳، ص۶۲۴)

          اِس وَقت جو کتاب آپ کے سامنے ہے اس کا نام شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطّاؔر قادِری مدظلہ العالی نے ’’حَسَد‘‘ رکھا ہے، ہم نے اس کتاب میں حَسَد کی تعریف، اَقسام ، نقصانات، اَسباب، علامات اور عِلاج وغیرہ کے بارے میں ضروری معلومات دلچسپ پیرائے میں فراہم کرنے کی کوشِش کی ہے ۔ 10قرآنی آیات، 39احادیثِ مبارکہ ، 39بُزُرگانِ دین کے فرامین ، 10حکایات، دومَدَنی بہاریں  اور بے شمار مَدَنی پھول اس کتاب کی زینت ہیں ۔ آخر میں حَسَد کی معلومات کا خلاصہ بھی دیا گیا ہے تاکہ پڑھنے والوں کو یاد رکھنے میں آسانی ہو ۔ اس کتاب کو ترتیب دینے میں بُزُرگانِ دین  رَحِمَہُمُ اللّٰہُ المُبِین  کی تالیفاتِ بابرکات بالخصوص اِمام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی کی تصنیف احیا ء العلوم سے بھر پور اِستفادہ کیا گیا ہے ۔ بعض مقامات پر شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطّاؔر قادِری مدظلہ العالی کی کُتُب ورسائل سے ضَرورتاً مواد نَقْل کیا ہے جس کا حتی المقدور حوالہ بھی دے دیا ہے ۔ اَ لْحَمْدُ للّٰہ عَزَّوَجَلَّ !یہ کتاب اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں دونوں کے لئے یکساں  مُفِید ہے ۔ اسے نہ  صِرف خود پڑھئے بلکہ دوسروں کو بھی اس کے مطالعہ کی ترغیب دلا کر ثوابِ جاریہ کے حق دار بنئے ۔

         اللّٰہ  تَعَالٰی سے دعا ہے کہ ہمیں ’’اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اِصلاح کی کوشِش‘‘ کرنے کے لئے مَدَنی انعامات پر عمل اور مَدَنی قافلوں کا مسافر بنتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

شعبہ اِصلاحی کُتُب (مجلس المدینۃ العلمیۃ )

۹رجب المرجب ۱۴۳۳ھ ۳۱ مئی 2012ء

    آپس میں حَسَد نہ کرو

         مدینے کے سلطان، رحمتِ عالمیان ، سَرْوَرِذیشان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : آپس میں حَسَد نہ کرو، آپس میں بُغض وعَداوَت نہ رکھو، پیٹھ پیچھے ایک دوسرے کی برائی بیان نہ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن