دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Hasad | حَسَد

book_icon
حَسَد

’’جنت کا رُخ کر لیجئے ‘‘کے چودہ حروف کی نسبت سے حَسَد کے 14 عِلاج

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کچھ بیماریاں وَقت کے ساتھ ساتھ خود ہی خَتم ہوجاتی ہیں جبکہ بعض تھوڑے بہت عِلاج سے جاتی رہتی ہیں لیکن بعض اَمراض ایسے خطرناک ہوتے ہیں جن کے خاتمے کے لئے باقاعدہ اور طویل عِلاج کی ضرورت ہوتی ہے ، انہی میں سے ایک ’’حَسَد‘‘بھی ہے ۔اس کا عِلاج مشکل ضرور ہے ناممکن نہیں ، دَرجِ ذیل تدابیر اِختیار کرکے حَسَد سے جان چُھڑائی جاسکتی ہے :

        ٭توبہ کرلیجئی٭دُعا کیجئی٭رضائے الٰہی پر راضی رہیی٭ حَسَد کی تباہ کاریوں پر نظر رکھئی٭اپنی موت کو یاد کیجئی٭حَسَد کا سبب بننے والی نعمتوں پر غور کیجئی٭لوگوں کی نعمتوں پر نگاہ نہ رکھئے ٭حَسَدسے بچنے کے فضائل پرنظر رکھئے ٭اپنی خامیوں کی اِصلاح میں لگ جائیی٭حَسَد کی عادت کو رشک میں تبدیل کرلیجئی٭نفرت کو محبت میں بدلنے کی تدبیریں کیجئی٭دوسروں کی خوشی میں خوش  رہنے کی عادت بنالیجئے ٭رُوحانی عِلاج بھی کیجئی٭  مَدَنی انعامات پر عمل کیجئے۔(ان سب کی تفصیل آگے آرہی ہے)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !             صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۱)  توبہ کرلیجئے

        سب سے پہلے اپنے رب  عَزَّوَجَلَّ  کی بارگاہ میں حَسَد بلکہ ہر گناہ سے توبہ کرلیجئے کہ ’’یااللہ عَزَّ وَجَلَّ ! میں تیرے سامنے اقرار کرتا ہوں کہ میں اپنے فلاں اسلامی بھائی سے حَسَد کرتا تھا ، مجھے معاف کردے، میں پُختہ ارادہ کرتا ہوں کہ تیری عطا سے تادَمِ حیات حَسَد ودیگر گناہوں سے بچتا رہوں گا۔‘‘ اِنْ    شَآءَاللہ    عَزَّوَجَلَّ اس توبہ کی  بَرَکت سے اَعمال نامہ صاف ہوجائے گا کیونکہ سچی توبہ ہر قسم کے گناہ کو انسان کے نامۂ اعمال سے دَھوڈالتی ہے، چنانچہ سَروَر ِ عالَم ، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اِرشاد فرمایا :  اَ لتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لَّا ذَنْبَ لَــــہٗ یعنی گناہوں سے توبہ کرنے والا اس شخص کی طرح ہے جس کے ذمّے کوئی گناہ نہ ہو۔(السنن الکبریٰ للبیہقی ، الحدیث :  ۲۰۵۶۱، ج۱۰، ص ۲۵۹)

؎   مجھے سچّی توبہ کی توفیق دیدے

                       پئے تاجدارِ حرم یاالٰہی    (وسائل بخشش ص۸۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

    (۲)  دعا کیجئے

        سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عظمت نشان ہے :  اَلدُّعَائُ سِلَاحُ الْمُؤْمِنِ یعنی دعا مومن کا ہتھیار ہے۔(مسند ابویعلیٰ، ج۲، ص۲۰۱، الحدیث :  ۱۸۰۶ ) ہمیں چاہئے کہ اس ہتھیار کو حَسَد کے خلاف اِستِعمال کریں اور حَسَد سے نَجات کیلئے بارگاہِ ربِّ کائنات  عَزَّوَجَلَّ میں گِڑگِڑا کر دعا مانگیں کہ یا رب العٰلمین  عَزَّوَجَلَّ ! میں تیری رضا کے لئے حَسَد سے چھٹکارا پانا چاہتا ہوں ، تُو مجھے اس باطِنی بیماری سے شفا دے دے اور مجھے حَسَد سے بچنے میں استقامت عطا فرما،    اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

؎   گناہوں سے مجھ کو بچا یاالٰہی

                               بُری عادتیں بھی چھڑا یاالٰہی          (وسائل بخشش ص۷۹)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۳)  رضائے الٰہی پر راضی رہیے

        تمام جہانوں کے خالق ومالک   عَزَّوَجَلَّ  نے جس کو جو نعمت عطا کی ہے ، اس کی تقسیم پر راضی رہنے کی عادت ڈالئے اور اپنا یہ ذہن بنالیجئے کہ اس کو یہ نعمتیں ربِّ کریم نے دی ہیں اور وہ اس پرقادِر ہے کہ جس کو جس وَقت جتنا چاہے عطا کرے ! مجھے اِعتراض کا کوئی حق نہیں پہنچتا! سورۃ النساء کی آیت 32میں اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ    کا فرمانِ عالیشان ہے :

    وَ لَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ بِهٖ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍؕ              ( پ۵، النساء :  ۳۲)

ترجمۂ کنز الایمان : اور اس کی آرزو نہ کرو جس سے اللّٰہ نے تم میں ایک کو دوسرے پر بڑائی دی ۔

         اس آیتِ پاک کے تحت ’’ تفسیر خزائن العرفان‘‘ میں صدرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی لکھتے ہیں : ( یہ آرزو کرنا) خواہ دنیا کی جہت( یعنی جانب) سے ہو یا دین کی ! تاکہ آپس میں بُغْض و حَسَد پیدا نہ ہو۔حَسَد نہایت بُری صِفَت ہے۔حَسَد والا دوسرے کو اچھے حال میں دیکھتا ہے تو اپنے لئے اس کی خواہش رکھتا ہے اور ساتھ میں یہ بھی چاہتا ہے کہ اس کا بھائی اس نعمت سے محروم ہو جائے، یہ ممنوع ہے، بندے کو چاہئے کہ اللّٰہ   تَعَالٰی کی تقدیر پر راضی رہے ، اس نے جس بندے کو جو فضیلت دی ، خواہ دولت و غنا کی یا دینی مناصِب و مدارِج کی ، یہ اس کی حکمت ہے۔ (خزائن العرفان، ص۱۶۳)

        تھوڑا ملے یا زیادہ !ہمیں ہر حال میں اللّٰہ  تَعَالٰی کی تقسیم پر راضی رہنا چاہئے۔ اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  ارشاد فرماتا ہے :  مَنْ لَّمْ یَرْضَ بِقَضَائِیْ وَقَدَرِیْ فَلْیَلْتَمِسْ رَ بًّا غَیْرِیْ یعنی جو میرے فیصلے اور میری تقدیر پر راضی نہیں اسے چاہئے کہ میرے علاوہ دوسرا رب تلاش کر لے۔

(شعب الایمان، ج۱، ص۲۱۸، الحدیث :  ۲۰۰)

؎  سدا کیلئے ہو جا راضی خدایا

                       ہمیشہ ہو لُطف و کرم یاالٰہی   (وسائل بخشش ص۸۲)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن