30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بعض اوقات انسان اپنے مدِّ مُقابِل کو قدرتی صلاحیتوں اور نعمتوں سے مالا مال پاتا ہے چنانچہ وہ بھرپور کوشِش کے باوجود اس سے آگے نکلنے میں ناکام رہتا ہے۔ یہ ناکامی اسے اِحساسِ کمتری میں مبتلا کردیتی ہے اور وہ مسلسل ذہنی دباؤ کا شکار رہتا ہے جس کا واحد حل اس کی نظر میں یہی ہوتا ہے کہ کسی طرح سامنے والا بھی ان نعمتوں سے محروم ہوجائے جو مجھے حاصِل نہیں ہیں اور یوں یہ نادان حَسَد کی دلدل میں دَھنستا چلا جاتا ہے ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
جب بہت سے لوگ ایک ہی مقام ومَنصَب کے حصول کے تمنائی ہوں تو وہ آپس میں حَسَد میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔شوہر کا دل جیتنے کے لئے سوتنوں کا ایک دوسرے سے حَسَدکرنا، ماں باپ کے دل میں جگہ حاصِل کرنے کے لئے بھائیوں کا ایک دوسرے سے حَسَد کرنا بھی اسی زُمرے میں آتا ہے ۔اسی طرح شاگردوں کا استاد کے ہاں مقام حاصِل کرنے کے لئے ایک دوسرے سے حَسَد کرنااوربادشاہ کے درباریوں کا بادشاہ کے دل میں جگہ پانے کیلئے ایک دوسرے سے حَسَد بھی اسی قسم کا ہوتا ہے تاکہ وہ مال اور مرتبہ حاصِل کریں ۔اسی طرح حَسَد کا اظہار الیکشن میں بھی خوب ہوتا ہے، اگر کسی کی پوزیشن مضبوط ہو تو کمزور نُما یندہ صِرف تمنّا ہی نہیں بلکہ پورا زور لگاتا ہے کہ کسی طرح مدِّمقابل کی ’’پوزیشن نُما نعمت‘‘ اُس سے چِھن کر مجھے مل جائے اور اُس کو ملنے والی ’’ کُرسی ‘‘ مجھے حاصِل ہو جائے ۔ خواہ اِس کی خاطر ، بلیک میلنگ کرنی پڑے ، جھوٹ بولنا پڑے ، غَلَط افواہیں اُڑانی پڑیں ، غَلَط الزامات دھرنے پڑیں ، ووٹر خریدنے پڑیں ، یا اَسْلِحَہکی طاقت استِعمال کرنی پڑے۔ اَلْغَرَضْ شیطان اُس کو باؤ لا بنا دیتا ہے اور حَسَد کے مارے وہ نہ کوئی چھوٹا گناہ چھوڑتا ہے نہ بڑا، اللّٰہ ورسول عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نافرمانی اور آخِرت کی بربادی کی اُسے کوئی پرواہ نہیں ہوتی ، نَزْع کی سختیوں ، قَبْر کی وَحْشتوں ، قِیامت کی ہولناکیوں اور جھنَّم کے اُٹھتے ہوئے خوفناک شُعلوں سے قَطْعِ نظر وہ صِرْف ایک ’’عارِضی کُرسی‘‘ کی خاطِر سر دھڑ کی بازی لگا دیتا ہے! یہ نادان اتنا نہیں سوچتا کہ اگر دل آزاریاں ، ووٹرو ں کی خریداریاں اور طرح طرح کی دھاندلیاں کرکے میں ’’ کُرسی‘‘ پا بھی گیا تب بھی بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی ؟ اور میں اس ’’ کُرسی‘‘ پر کب تک بِراجمان رہوں گا؟ (ماخوذ از’’ شیطان کے چار گدھے‘‘، ص۴۴)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
حبِّ جاہ بھی حَسَد کا ایک سبب ہے ، بعض اوقات کوئی انسان اپنے عِلم، حیثیت، عہدے ، مرتبے اور دیگر صلاحیتوں میں ممتاز ہوتا ہے ، جب کوئی اس کی یوں تعریف کرے کہ ’’جناب ! آپ تو یکتائے زمانہ ہیں ، اس فن میں آپ کا ثانی نہیں ‘‘تو اسے بڑا مزا آتا ہے لیکن جب اسے معلوم ہو تا ہے کہ دنیا میں کوئی اور بھی اس کا ہم پلہ ہے تو اسے بُرا لگتا ہے اور اس کے دل میں حاسِدانہ خیالات پروان چڑھنے لگتے ہیں پھر وہ اُس شخص کی موت یا کم از کم اس نعمت کا زوال چاہتا ہے جس کی وجہ سے وہ اس کے مقابلے میں آیا ہے ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
قَلْبی خباثت بھی حَسَد کا سبب بنتی ہے مثلاً جب ایک شخص کے سامنے کسی کو ملنے والی نعمتِ الٰہی کا تَذکِرہ کیا جائے تواس کے دل میں خواہ مخواہ جلن ہونے لگتی ہے جبکہ اس کے بَرعکس کسی کی بدحالی یا مصیبت کا ذِکر کیا جائے تو وہ اس پر خوش ہوتا ہے۔ ایسا شخص ہمیشہ دوسروں کے نقصان کو پسند کرتا ہے اوراللّٰہ تَعَالٰی نے اپنے بندوں کو جو نعمتیں عطا فرمائی ہیں ان پر اس طرح بخل کرتا ہے جیسے وہ نعمتیں اس کے خزانے سے دی گئی ہوں ۔ اس قسم کے حَسَد کا کوئی ظاہری سبب نہیں ہوتا صِرف حاسِد کی نفسانی خباثت اور طبعی کمینگی وجہ بنتی ہے، بہرحال حَسَد کے اس سبب کا عِلاج بہت مشکل ہے۔ (احیاء العلوم ، ج۳، ص۴۳۴تا۴۳۸ملتقطاً)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
یوں تو کسی کو کسی سے بھی حَسَد ہوسکتا ہے لیکن اس شخص سے حَسَد ہوجانے کا اِمکان زیادہ ہوتا ہے جس سے انسان کا زیادہ میل جول ہوتا ہے یا وہ اس کا ہم پیشہ یا ہم پلہ ہوتا ہے یا پھر اس سے کوئی قریبی تعلُّق ہوتاہے، مثلاً ٭تاجِر کاروباری ترقی کی وجہ سے دوسرے تاجِر سے حَسَد کرتا ہے کسی ڈاکٹر سے نہیں ٭ ایک ڈاکٹر عِلاج میں مہارت وکامیابی کی وجہ سے دوسرے ڈاکٹر سے حَسَد کرتا ہے کسی ٹرانسپورٹرسے نہیں ٭ایک ٹرانسپورٹر مسافروں کو اپنی طرف مائل کرلینے میں کامیابی کی بنا پر دوسرے ٹرانسپورٹر سے حَسَد کرتا ہے کسی سیاستدان سے نہیں ٭ایک سیاستدان انتخابات میں کامیابی اور
حکومتی عہدے کی وجہ سے دوسرے سیاستدان سے حَسَد کرتا ہے کسی طالبِ عِلم سے نہیں ٭ ایک طالبِ عِلم ذہانت ، اچھے حافظے ، علمی مقام، امتحانات میں ملنے والی پوزیشن اور استاذ کی طرف سے ملنے والی شاباش اور دیگر صلاحیتوں کی وجہ سے دوسرے طالبِ عِلم سے حَسَد کرتا ہے کسی نعت خواں سے نہیں ٭ایک نعت خواں اچھی آواز ، پُرسوز انداز اور نوٹوں کی برسات کی وجہ سے دوسرے نعت خواں سے تومبتلائے حَسَد ہوسکتا ہے مدرسے میں پڑھانے والے کسی استاذ سے نہیں ٭ایک استاذ اچھے اندازِتدریس اور طلبہ وانتظامیہ میں مقبولیت کی وجہ سے دوسرے استاذ سے توحَسَد میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع