30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رسول اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں یہودکا تَذکِرہ ہواتوآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : بے شک وہ لوگ کسی چیزمیں ہم سے حَسَدنہیں کرتے جتناجمعہ پرہم سے حَسَدکرتے ہیں جس کی طرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ہماری رہنمائی فرمائی اورانہوں نے اسے کھودیااورقِبلہ پرحَسَدکرتے ہیں جس کی طرف رب تَعَالٰی نے ہمیں ہدایت فرمائی اورانہوں نے اسے کھودیااورامام کے پیچھے ہمارے ’’اٰمِین ‘‘کہنے پرہم سے حَسَدکرتے ہیں ۔(الترغیب والترھیب، ج۱، ص۱۹۴ ، الحدیث : ۲)
ایک اورمقام پر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : یہود اپنے دین سے اُکتاگئے اوروہ حاسِدقوم ہیں اوروہ مسلمانوں سے تین چیزوں پرزیادہ حَسَدکرتے ہیں ، سلام کا جواب دینے، صفوں کے کھڑاہونے اورفَرْض نمازمیں اِمام کے پیچھے اٰمِین کہنے پر۔ (الترغیب والترھیب، ج۱، ص۱۹۴ ، الحدیث : ۲)
اٰمِین کہنے والیکیگناہ مُعاف ہوجاتے ہیں
رسولِ اَکرم، نُور مجسّم صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلم کا فرمانِ بخشش نشان ہے : امام جب ’’ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ۠ ‘‘کہے تو تم لوگ اٰمِین کہو جس کی اٰمِین فِرشتوں کی اٰمِین کے مُوافق ہوتی ہے ، اُس کے پچھلے گناہ مُعاف ہوجاتے ہیں ۔(بخاری ، ج۱، ص۲۷۵ ، الحدیث ۷۸۰)
صَدرُ الشَّریعہ ، بدرُ الطَّریقہحضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی لکھتے ہیں : آمین آہستہ کہی جائے کہ اگر زور سے کہنا ہوتا تو امام کے اٰمِین کہنے کا پتہ اور موقع بتانے کی کیا حاجت ہوتی کہ جب وہ ’’ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ ‘‘ کہے، تو اٰمِین کہو۔(بہار شریعت ، ج۱، حصہ۳ ، ص۵۰۲)
یہودی معالِج کا امام مازری کے ساتھ حَسَد
اعلیٰ حضرت مولانا شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن ’’فتاوٰ ی رضویہ‘‘ جلد21 صَفْحَہ 243 پر لکھتے ہیں : ’’امام مازری رَحِمَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی علیل(یعنی بیمار) ہوئے (تو) ایک یہودی مُعالِج(یعنی طبیب ، آپ کا عِلاج کررہا ) تھا، اچھے ہوجاتے پھر مَرَض عَود کرتا(یعنی دوبارہ ہوجاتا) ، کئی بار یوں ہی ہوا، آخِر اُسے تنہائی میں بُلاکر دریافت فرمایا ، اُس نے کہا : اگر آپ سچ پوچھتے ہیں تو ہمارے نزدیک اِس سے زیادہ کوئی کارِ ثواب نہیں کہ آپ جیسے امام کو مسلمانوں کے ہاتھ سے کَھودُوں ۔ امام رَحِمَہُ اللّٰہُ تَعَالٰینے اسے دَفع (یعنی دُور)فرمایا، مولیٰ تَعَالٰی نے شِفا بخشی، پھر امام رَحِمَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی نے طِب کی طرف توجُّہ فرمائی اور اس میں تصانیف کیں اور طَلَبہ کو حاذِق اَطِبّا (یعنی ماہِر طبیب)کردیا اور مسلمانوں کو مُمَانَعَت فرمادی کہ کافِر طبیب سے کبھی عِلاج نہ کرائیں ۔ [1]؎ (فتاوی رضویہ ج۲۱ ص۲۴۳)
منافقین بھی مسلمانوں سے حَسَد کرتے تھے
سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سامنے زبان سے اسلام کا اِقرار اور دل سے اِنکار کرنے والے منافقین نفاق جیسی ایمان لیوا بیماری کے ساتھ ساتھ مسلمانوں سے حَسَد میں بھی مبتلاتھے ۔ان کے حَسَد کا تَذکِرہ پارہ 4سورۂ اٰل عمران کی آیت 119 اور120میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے :
وَ اِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَیْكُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَیْظِؕ-قُلْ مُوْتُوْا بِغَیْظِكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ(۱۱۹)اِنْ تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ٘-وَ اِنْ تُصِبْكُمْ سَیِّئَةٌ یَّفْرَحُوْا بِهَاؕ
ترجمۂ کنزالایمان : اور اکیلے ہوں تو تم پر انگلیاں چبائیں غصہ سے تم فرما دو کہ مرجاؤ اپنی گھٹن میں اللہ خوب جانتا ہے دلوں کی بات ۔ تمہیں کوئی بھلائی پہنچے تو انہیں بُرا لگے اور تم کو بُرائی پہنچے تو اس پر خوش ہوں ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
خود ساختہ عزت کے جاتے رہنے کا خوف
اس کا مطلب یہ ہے کہ حاسِد دوسروں کو اپنے سے بلند مقام ومرتبے پر دیکھ کر دل میں بوجھ محسوس کرتا ہے۔ جب اس کے ہم پلہ آدمی کو حکومت یامال ودولت یا عِلم یا مال یا کوئی عہدہ وغیرہ ملتا ہے تو اسے ڈرہوتا ہے کہ اب دوسرا شخص اس سے آگے بڑھ جائے گا ، لوگ اسی کی تعریفیں کریں گے اور مَحافِل میں اسے نمایاں مقام پر بٹھایا جائے گا ، ہر کوئی اس سے ملنے اور بات چیت کرنے میں فخر محسوس کرے گاجبکہ مجھے کوئی گھاس بھی نہیں ڈالے گا ۔یوں خود ساختہ عزت کے جاتے رہنے کا خوف اس کے دل ودماغ پر چھا جاتا ہے چنانچہ وہ محسود کی ترقی پرجلنے کُڑھنے اور اس سے زوالِ نعمت کی تمنا کرنے لگتا ہے ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
تکبرجو بذات خود ایک خطرناک باطِنی بیماری ہے ، یہ بھی حَسَد میں مبتلا کروا دیتا ہے کیونکہ حاسِد فطری طور پر دوسروں پر بَرتری چاہتا اورانہیں ذلیل وحقیر سمجھتا ہے اوریہ توقع رکھتا ہے کہ کوئی اس کے سامنے سر نہ اٹھا سکے ۔ وہ سمجھتا ہے کہ دنیا کی ہر نعمت اور کامیابی پر اس کا حق ہے لہٰذا جب دوسرے شخص کو نعمت ملتی ہے تو اسے خوف ہوتا ہے کہ اب وہ اس کی بات نہیں سنے گا یا اس کی برابری کا دعویٰ کرے گا یا اس سے بلندمرتبہ ہوجائے گاتو وہ اس سے حَسَد کرنے لگتا ہے ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع