30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حَسَد کے مزید نقصانات
مذکورہ بالا نقصانات کے ساتھ ساتھ حاسِد دُنیاوی اِعتبار سے بھی خسارے میں رہتاہے کیونکہ ٭اس کے تعلُّقات کسی کے ساتھ بھی خوشگوار نہیں رہتے کیونکہ وہ اپنی مَنْفی سوچ کی وجہ سے ہرایک سے حَسَد وبدگمانی میں مبتلاہونے لگتا ہے ٭حاسِد ذہنی اِنتشار کا شکار ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے وہ مختلف جسمانی بیماریوں مثلاًہائی بلڈپریشر اور دل کے مَرَض میں بھی مبتلاہوسکتا ہے ٭ دوسروں کی تَنَزُّلِی کی کوشِشمیں وہ اپنی ترقی سے محروم رہتا ہی٭ لوگوں کو ذلیل کرنے کی کوشِشمیں رہتا ہے جواباً اسے بھی اِحترام نہیں ملتا ٭ لوگ اس سے نفرت کرنے لگتے ہیں اور اسے اپنی خوشیوں میں شریک نہیں کرتے کیونکہ نہ وہ خود خوش رہتا ہے نہ کسی کو خوش دیکھ سکتا ہے ٭دوسروں کے دُکھ میں خوش رہنے والے کو کبھی سچی خوشی نصیب نہیں ہوتی ٭حاسِد کے حَسَد کے نتیجے میں بعض اوقات ہنستے بستے گھر ناچاقیوں کا شکار ہوجاتے ہیں ٭ چونکہ فرد سے معاشرہ بنتا ہے اس لئے حاسِد کا بگاڑ معاشرتی زندگی کو بگاڑ دیتا ہے اور جس علاقے یا ملک کے لوگ ایک دوسرے سے حَسَد کرنے لگیں تو ذاتی نقصانات کے ساتھ ساتھ معاشرتی ترقی کا پہیہ بھی رُک جاتا ہے کیونکہ ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کا عمل تعمیری صلاحیتوں کو تخریبی مقاصد میں اِستِعمال ہونے پر مجبور کردیتا ہے ٭ حَسَد کا ناسُوراگر کسی اِدارے یا تحریک کے اَفراد کے دلوں میں جَڑ پکڑجائے تو وہ ادارہ یا تحریک پے دَر پے نقصانات کا شکار ہونے لگتی ہے ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اتنے سارے دُنیوی واُخرَوِی نقصانات کا سبب بننے والا مَرَضِ حَسَد یونہی بیٹھے بٹھائے پیدا نہیں ہوجاتا بلکہ اس کے بہت سارے اَسباب ہوتے ہیں مثلاً بعض اوقات حاسِد کی محسود سے کوئی دشمنی ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ نہیں چاہتا کہ اس کے دشمن (یعنی محسود )کو کوئی نعمت ملے ، یا حاسِد محسود پر اپنی بَرتری قائم رکھنا چاہتا ہے تاکہ وہ فخر وتکبر سے اپنے نَفْس کو لذّت دے سکے اس لئے وہ یہ برداشت نہیں کرسکتا کہ محسود کو کوئی ایسی نعمت حاصِل ہو جس کی وجہ سے وہ اس کا ہم پلہ ہوجائے ، یا حاسِد محسود پر بڑائی حاصِل کرنے کا تمنائی ہوتا ہے لیکن محسود کے پاس موجود نعمتیں اس میں رُکاوٹ ہوتی ہیں اس لئے وہ محسود سے نعمت چھن جانے کی خواہش کرتا ہے تاکہ وہ اس نعمت کو حاصِل کرکے اسے نیچا دکھا سکے اور اپنی خود پسندی کو تسکین دے سکے ۔یوں سات چیزیں حَسَد کی بنیاد بن سکتی ہیں : (۱)بُغْض وعداوت (۲) خود ساختہ عزت (۳) تکبر (۴) احساسِ کمتری(۵) من پسند مقاصد کے فوت ہونے کا خوف (۶)حبِّ جاہ (۷)قلبی خباثت ۔
(احیاء علوم الدین، ج۳، ص۲۳۷تا۲۳۹ ملخصًا)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
یہ حَسَد کا سخت ترین سبب ہے کیونکہ جب ایک شخص کو دوسرے سے کوئی تکلیف یا رنج وغم پہنچتا ہے تو اسے تکلیف دینے والے پر غصہ آتا ہے پھر اگر وہ سامنے والے پر اپنا غصہ نہ ’’اُتار‘‘ سکے تو اس کے دل میں بُغْض وعداوت اور کینہ جَڑ پکڑ لیتا ہے جو عِلاج نہ کرنے کی صورت میں وَقت کے ساتھ ساتھ تَن آور درخت کی شکل اِختیار کرلیتا ہے ۔پھر اس شخص کی حالت ایسی ہوجاتی ہے کہ وہ اپنے دشمن کی غمی پر خوشی اور خوشی پر غمی محسوس کرتا ہے اور اسے کوئی نعمت ملتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا ۔ اسی لئے کبھی وہ چاہتا ہے کہ میرے دشمن سے یہ نعمت زائل ہو جائے چاہے مجھے حاصِل ہویا نہ ہو اور کبھی یہ تمنا ہوتی ہے کہ یہ اس سے چِھن کر مجھے مل جائے۔ یوں وہ خود کوبُغْض وکینہ کے ساتھ ساتھ حَسَد جیسے ہلاکت خیز باطِنی مَرَض میں بھی مبتلا کر لیتا ہے ۔ اس کی بقیہ زندگی اپنے مخالف سے نعمت کے اِزالے کی تمناؤں ، اس کی تباہی وبربادی کی سازِشوں ، عیب جوئیوں ، پردہ دَریوں اور اسی قسم کے دوسرے گناہوں بھرے کاموں میں گزر جاتی ہے ۔ اس طرح کی مثالیں موجودہ معاشرے میں بکثرت دیکھی جا سکتی ہیں مثلاً اگر کسی کو اپنے رشتہ دار سے بُغْض وعداوت ہو جائے تو وہ قرابت داری کوپسِ پشت ڈال کرکچھ اس طرح کی حاسِدانہ تمنائیں کرنے لگتا ہے کہ کاش!کسی طرح اس کا کاروبار، زمینیں اور فصلیں تباہ و برباد ہو جائیں ، یااس کی نوکری خَتم ہو جائے ، یا ان کے ہنستے بستے گھر میں ناچاقیاں شروع ہوجائیں ، یااس کا ایسا ایکسیڈنٹ ہو کہ اس کے ہاتھ پاؤں ٹوٹ جائیں اور یہ عمر بھر کے لئے معذور ہوجائے ، یااس کے گھر میں ایسا ڈاکہ پڑے کہ گھر میں پُھوٹی کَوڑی بھی باقی نہ رہے اوریہ لوگوں سے بھیک مانگتا پِھرے اور اس کی اولاد دَر دَر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوجائے ، وغیرہ وغیرہ۔ اگراس کی یہ تمنائیں کسی حد تک پوری ہوجاتی ہیں تو وہ اپنے دل میں شیطانی سکون محسوس کرتا ہے لیکن اگر اس کی یہ مذموم خواہشات اَز خودپوری نہ ہوں تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ حاسِد اِن تمناؤں کو حقیقت کا رُوپ دینے کے لئے بھیانک ترین کاوِشیں کرنے لگتا ہے ، وہ اس طرح کہ اپنے مُخالِف کے گھر میں ڈاکہ ڈلوادیتا ہے یا اس کی زمینوں پر کھڑی تیار فصلوں میں آگ لگوا دیتا ہے یا اُس کے بچے کو قتل کروا دیتا ہے یا ناجائز مقدمات دَرج کروا کر انہیں کورٹ کچہری کے چکر میں پھنسا دیتا ہے پھر جب اس کے مُخالِف کو موقع ملتا ہے تو وہ بھی اسی قسم کی شیطانی حرکتیں کرتا ہے پھر یہ دشمنی نسل دَر نسل چلتی ہے، مارکٹائی ہوتی ہے، لاشیں گرتی ہیں اور ایسے ایسے گھناؤنے کام کئے جاتے ہیں کہ شیطان بھی شرما جائے ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
یہودیوں کے مسلمانوں سے حَسَد کی وجہ
جب مَدَنی آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی دعوتِ اسلام پر لَبَّیْک کہتے ہوئے لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد دامنِ اِسلام میں آگئی تو یہودی اِسی دشمنی والی عِلّت کے باعث مسلمانوں سے حَسَد کی لعنت میں گرفتار ہوئے جیسا کہ پارہ 1سورۂ بقرہ آیت 109میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے :
وَدَّ كَثِیْرٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ یَرُدُّوْنَكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِكُمْ كُفَّارًا ۚۖ-حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْحَقُّۚ
ترجمۂ کنز الایمان : بہت کتابیوں نے چاہا کاش تمہیں ایمان کے بعد کفر کی طرف پھیر دیں اپنے دلوں کی جلن سے ، بعد اس کے کہ حق ان پر خوب ظاہر ہو چکا ہے۔
اس آیتِ پاک کے تحت ’’ تفسیرِ خزائن العرفان‘‘ میں صدرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی لکھتے ہیں : اسلام کی حقانیت جاننے کے بعد یہود کا مسلمانوں کے کُفر و اِرتداد کی تمنا کرنا اور یہ چاہنا کہ وہ ایمان سے محروم ہو جائیں ، حَسَد کے طور پر تھا۔(خزائن العرفان، ص۳۷)
یہودیوں کے حَسَدکی مزید وجوہات
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع