30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عالیشان ہے : کوئی بھی شخص ناحق قتل ہوتا ہے تو اس قتل کاگناہ حضرتِ آدم (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کے بیٹے(قابیل) کو ضرور ملتا ہے کیونکہ اُسی نے سب سے پہلے قتل کا طریقہ رائج کیا۔(صحیح البخاری ، الحدیث ۳۳۳۵، ج۲، ص۴۱۳)
عبداللّٰہ کہتے ہیں : ہم چند افراد سَمُندَرِ ی سفر پر روانہ ہوئے ۔اِتِّفاقاً چند روز تک اندھیرا چھایا رہا، جب روشنی ہوئی تو ایک بستی آ گئی۔ میں پینے کیلئے پانی کی تلاش میں روانہ ہوا تو بستی کے دروازے بند تھے، میں نے بَہُت آوازیں دیں ، کوئی جواب نہ آیا، اسی اَثنا میں دوشَہسوار (یعنی دوگھوڑے سُوار) نُمو دار ہوئے، انہوں نے کہا : اے عبداللّٰہ !اس گلی میں داخِل ہو جاؤ تو تمہیں پانی کا ایک حوض ملے گا اس میں سے پانی لے لینا اور وہاں کے منظر کو دیکھ کر خوف زدہ نہ ہونا۔ میں نے اُن سے اُن بند دروازوں کے بارے میں دریافت کیا جن میں ہوائیں چل رہی تھیں ، انہوں نے بتایا : ’’ یہ وہ گھر ہیں جن میں مُردوں کی رُوحیں رہتی ہیں ۔‘‘ پھر میں حَوض پر پہنچا تو میں نے دیکھا کہ ایک شخص پانی پر اُلٹا لٹکا ہوا ہے وہ اپنے ہاتھ سے پانی لینا چاہتا ہے لیکن ناکام ہو جاتا ہے ، مجھے دیکھ کر پکارنے لگا : عبداللّٰہ ! مجھے پانی پلاؤ۔ میں نے برتن لے کر ڈَبویا تاکہ اسے پانی پِلا سکوں لیکن کسی نے میرا ہاتھ پکڑ لیا ، میں نے اُس لٹکے ہوئے آدمی سے کہا : اے بندۂ خدا! تو نے دیکھ لیا کہ میں نے اپنی طرف سے کوشِش کی کہ تجھے پانی پلاؤں لیکن میرا ہاتھ پکڑا گیا، تو مجھے اپنا واقِعہ بتا۔ اُس نے کہا : میں حضرتِ آدم (عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام) کالڑکا (قابیل) ہوں ، جس نے دنیا میں سب سے پہلا قتل کیا۔ (کتاب مَن عاشَ بَعد المَوت مع موسوعۃ لابن اَبِی الدُّنْیا ج۶ ، ص۲۹۶ ، رقم ۴۸)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۵) نیکیوں کے ثواب سے محروم رہنا
مسلمان کی خیرخواہی کرنا، اسے سلام ومصافحہ کرنا، اس کے سامنے عاجِزی کا بازو بچھانا، اس کے دل میں خوشی داخِل کرنا ، اس کے بارے میں حُسنِ ظن رکھنا ، وہ بیمار ہو جائے توعِیادت کرنا، کسی رَنج میں مبتلا ہوتو اس کی تعزیت کرنا ، حسبِ ضرورت اس کے لئے جائز سِفارِش کرنا ، یہ سب ثواب کے کام ہیں مگر حاسِد کب اپنے محسود کا بھلا چاہے گا ! لہٰذاوہ یہ کام نہیں کرتا اور نیکیوں سے محروم رہتا ہے ۔ ؎
عمل کا ہو جذبہ عطا یا الٰہی
گناہوں سے مجھ کو بچا یا الٰہی (وسائل بخشش ص۸۴)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۶) دعا قبول نہ ہونا
عموماً ہم ہر نیک صورت ونیک سیرت کو دعا کے لئے کہتے ہیں تاکہ کسی طرح ہماری مرادیں بَر آئیں مگر حاسِد پر ایسی بدبختی آتی ہے کہ اس کی دعائیں بھی قبول نہیں ہوتیں چنانچہ حضرتِ سیِّدُنا فقیہ ابو للَّیث سمر قندیعلیہ رَحمَۃُ اللّٰہِ القویفرماتے ہیں : تین آدَمیوں کی دُعا قَبول نہیں ہوتی(1)جو مالِ حرام کھاتا ہو (2)جو بکثرت غیبت کرتا ہو(3) جو کہ مسلمانوں سے حَسَد رکھتا ہو۔
(تَنبِیہُ الْغافِلین ص۹۵)
؎ دل کا اُجڑا چمن ہو پھر آباد
کوئی ایسی ہوا چلا یاربّ (وسائل بخشش ص۸۹)
(۷) نُصرتِ الٰہی سے محرومی
لوگ مصیبت وآزمائش میں مددِ خداوندی کے طلب گار ہوتے ہیں لیکن حاسِد اس سے محروم رہتا ہے ، حضرتِ سیِّدُناحاتمِ اصمعلیہ رَحمَۃُ اللّٰہ الاکرم نے ارشاد فرمایا : کینہ پرور کامل دین دار نہیں ہوتا، لوگوں کو عیب لگانے والا خالص عبادت گزار نہیں ہو سکتا ، چُغل خور کو اَمْن نصیب نہیں ہوتا اور حاسِد کی مدد نہیں کی جاتی ۔( منھاج العا بدین، ص۷۵)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۸) ذلّت ورسوائی کا سامنا
عزت پانے اور ذِلّت ورُسوائی سے بچنے کے لئے لوگ کیا کچھ نہیں کرتے مگر حاسِد اپنے ہاتھوں سے اپنی ذِلّت ورُسوائی کا سامان خریدتا ہے ۔امام محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی نَقْل کرتے ہیں : ’’حاسِد شخص مجلس میں ذِلّت اور مَذَمّت پاتا ہے، ملائکہ سے لعنت اور بُغْض پاتا ہے، مخلوق سے غم اور پریشانیاں اٹھاتا ہے، نَزْع کے وَقت سختی اور مصیبت سے دوچار ہوتا ہے اور قِیامت کے دن حَشْر کے میدان میں بھی رُسوائی، توہین اورمصیبت پائے گا۔‘‘(احیاء العلوم ج ۳ص۲۳۳)
؎ تُونے دنیا میں بھی عَیبوں کو چُھپایا یا خدا
حَشْر میں بھی لاج رکھ لینا کہ تُو ستّار ہے (وسائل بخشش ص۱۳۰)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
ایازسلطان محمود غزنوی کا ایک ادنیٰ غُلام تھا پھر ترقی کرتے کرتے اس کا محبوب ترین وزیر بن گیا۔ایاز کی کامیابیاں حاسِد درباریوں کو ایک آنکھ نہ بھاتی تھیں ۔ وہ موقع کی تاک میں رہتے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع