30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیٹیگریز
کیٹیگریز
مصنف:
Mufti Ali Asghar
پبلشر: Maktaba-tul-Madina
تاریخ اشاعت:
September 7 ,2013
کیٹیگری:
Fiqh-o-Usool-e-Fiqh
آن لائن پڑھیں صفحات: 7
پی ڈی ایف صفحات: 7
ISBN نمبر: n/a
یہ کتاب عمرہ اور حج کے بنیادی اعمال کو سادہ اور قابلِ فہم انداز میں بیان کرتی ہے۔ اس میں عمرہ اور حج کی نیت کا طریقہ، طواف کے صحیح اصول، صفا و مروہ کی سعی کے مراحل اور ان عبادات کی ادائیگی کی رہنمائی شامل ہے۔ ساتھ ہی روضہ رسول ﷺ پر حاضری کے آداب اور طریقہ بھی بتایا گیا ہے تاکہ ہر عمل درست ترتیب اور احترام کے ساتھ انجام دیا جا سکے۔
عمرہ کی نیت دل کے ارادے کا نام ہے، زبان سے مخصوص الفاظ کہنا ضروری نہیں، البتہ کہنا بہتر ہے۔
نیت کا طریقہ:
• احرام باندھنے کے بعد دل میں ارادہ کریں کہ: “میں اللہ کی رضا کے لیے عمرہ ادا کرنے کی نیت کرتا ہوں”
• زبان سے کہنا چاہیں تو یوں کہہ سکتے ہیں: “اللّٰهُمَّ إِنِّي أُرِيدُ الْعُمْرَةَ فَيَسِّرْهَا لِي وَتَقَبَّلْهَا مِنِّي”
• اس کے بعد تلبیہ پڑھیں: “لبیک اللہم لبیک…”
دلیل:اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے )صحیح بخاری( نیت دل کا عمل ہے، اصل چیز اخلاص ہے۔
حج کی نیت بھی دل کے ارادے سے ہوتی ہے، اور احرام کے ساتھ کی جاتی ہے۔
نیت کا طریقہ:
• دل میں ارادہ کریں: “میں اللہ کی رضا کے لیے حج ادا کرنے کی نیت کرتا ہوں”
• زبان سے کہنا چاہیں تو: “اللّٰهُمَّ إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ فَيَسِّرْهُ لِي وَتَقَبَّلْهُ مِنِّي”
• اس کے بعد تلبیہ پڑھیں .
اقسام کے لحاظ سے:حج افراد، تمتع یا قران کی نیت کے مطابق الفاظ میں معمولی فرق ہو سکتا ہے
نیت کے ساتھ تلبیہ کہنا حج کے آغاز کی علامت ہے۔
طواف بیت اللہ کے گرد سات چکر لگانے کا نام ہے، جو عبادتِ عظیم ہے۔
طواف کا مکمل طریقہ:
• حجرِ اسود کے سامنے کھڑے ہو کر نیت کریں
• اگر ممکن ہو تو حجرِ اسود کو بوسہ دیں یا ہاتھ لگا کر اشارہ کریں
• کعبہ کو بائیں جانب رکھتے ہوئے سات چکر مکمل کریں
دورانِ طواف: قرآن کی تلاوت، ذکر، درود شریف اور دعائیں کریں ۔رکنِ یمانی اور حجرِ اسود کے درمیان یہ دعا پڑھنا مسنون ہے:
“رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّفِي الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ” طواف میں ادب، خشوع اور ذکر اصل روح ہے۔
سعی کے دوران کوئی مخصوص دعا لازم نہیں، بلکہ ہر وہ دعا افضل ہے جو دل سے مانگی جائے۔
مسنون اذکار: “اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللّٰهِ” پڑھنا ۔ اللہ کی حمد، تکبیر اور درود شریف ۔ اپنی ضروریات کے لیے دعائیں
خاص ذکر: “لا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ…”ہر چکر میں مختلف دعائیں مانگ سکتے ہیں ۔دنیا و آخرت دونوں کی بھلائی مانگیں
سعی میں دعا کی قبولیت کا خاص موقع ہوتا ہے، اس لیے اخلاص ضروری ہے۔
روضۂ رسول ﷺ پر حاضری ایک عظیم سعادت اور ادب و محبت کا مقام ہے۔
حاضری کا مسنون طریقہ:مسجدِ نبوی میں داخل ہو کر دو رکعت نفل ادا کریں ۔انتہائی ادب اور عاجزی کے ساتھ روضۂ اقدس کے سامنے حاضر ہوں
• سلام عرض کریں: “السلام علیک یا رسول اللہ ﷺ” پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بھی سلام پیش کریں
دعا کا طریقہ: درود شریف پڑھیں ۔ اللہ تعالیٰ سے اپنی حاجات مانگیں ۔ آواز پست رکھیں اور ادب کا مکمل خیال کریں
یہ مقام ادب، محبت اور روحانی تعلق کا ہے—یہاں خشوع و خضوع انتہائی ضروری ہے۔