30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سوال : گونگے کا نِکاح کس طرح ہو گا ؟
جواب : گونگے کانِکاح اشارے کے ذَرِیعے ہو گا جبکہ اس کا اِشارہ سمجھ میں آتا ہو۔ فتا ویٰ عالمگیری میں ہے : نِکاح جس طرح بول کر ہوتا ہے اسی طرح گونگے کے اِشارے سے بھی ہوجائے گا ، جبکہ اس کے اِشارے سمجھ میں آتے ہوں ۔ (الفتاوی الہندیۃ، ج۱، ص۲۷۰)
سوال : کیاگونگے ایسوں کے نِکاحکے گواہ ہو سکتے ہیں جو بولنے پر قادِر ہوں ؟
جواب : فتاوٰی عالمگیری میں ہے : ’’گونگے(نکاح کے) گواہ نہیں ہو سکتے کہ جو گونگا ہوتا ہے بہرا بھی ہوتا ہے ہاں اگر گونگا ہو بہرا نہ ہوتو ہوسکتا ہے۔ ‘‘(الفتاوی الہندیۃ، ج۱، ص۲۶۸)
سوال : دو گواہوں میں سے اگر ایک گواہ بہرا ہو اور کوئی اس کے کان پر چیخ کر کہے اور وہ سُن لے تو کیا اب نکاح دُرُست ہو جا ئے گا ؟
جواب : اگرچِہ ایک ہی گواہ بہرا ہو اور کوئی اس کے کان پر چیخے تو وہ سُن لے تب بھی نکا ح اُس وَقت تک دُرُست نہیں ہو گاجب تک کہ دونوں گواہ ایک ساتھ ایجا ب وقبول نہ سن لیں ۔ فتاوی خانیہ میں ہے : ’’ایک گواہ سُنتا ہوا ہے اور ایک بہرا۔ بہرے نے نہیں سُنا اور اس سُننے والے یا کسی اور نے چِلّاکر اس کے کان میں کہا نکاح نہ ہوا جب تک دونوں گواہ ایک ساتھ عاقِدین (یعنی معاملے کے دونوں فریقین مَثَلاً دولہا ووکیل یا دولہا اور دولہن ) سے نہ سُنیں ۔ (الفتاوی الخانیۃ، ج۱، ص۱۵۶)
سوال : نکاح میں ایجاب و قبول سے کیامرادہے ؟
جواب : ایجاب و قبول مثلاً ایک کہے میں نے اپنے کو تیری زوجیت میں دیا، دوسرا کہے میں نے قبول کیا۔ یہ نکاح کے رکن ہیں ۔ پہلے جو کہے وہ ایجاب ہے اور اُس کے جواب میں دوسرے کے الفاظ کو قبول کہتے ہیں ۔ یہ کچھ ضرور نہیں کہ عورت کی طرف سے ایجاب ہو اور مرد کی طرف سے قبول بلکہ اِس کا اُلٹا بھی ہوسکتا ہے۔
(الدرالمختار وردالمحتار، ج۴، ص۷۸)
سوال : اگرعاقِدین (ایجاب و قبول کرنے والے دونوں ) گونگے ہوں تو کیا گونگے اس نِکاح کے گواہ بن سکتے ہیں ؟
جواب : جی ہاں ، اگرمردوعورت دونوں گونگے ہوں تو گونگے اور بہرے بھی اس نکاح کے گواہ ہوسکتے ہیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع