30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی مُحمَّد
سوال : اگر بہرے نے کسی کو سلام کیا تو اس کے جواب کی کیا صورت ہوگی ؟
جواب : بہرے کے سلام کے جواب میں صرف ہونٹوں کوجُنبِش دینا(یعنی ہونٹ ہلا دینا) ہی کافی ہے ۔ فقہائے کرام فرماتے ہیں : ’’سلام اِتنی آواز سے کہے کہ جس کو سلام کیا ہے وہ سُن لے اورا گر اِتنی آوازنہ ہو تو جواب دینا واجب نہیں ۔ جوابِ سلام بھی اِتنی آواز سے ہو کہ سلام کرنے والا سُن لے اور اِتنا آہستہ کہا کہ وہ سُن نہ سکا تو واجِب ساقِط نہ ہوا۔ اور اگر وہ (سلام کرنے والا) بہرا ہے تو اس کے سامنے ہونٹ کو جُنبِش دے کہ اس کی سمجھ میں آجائے کہ جواب دے دیا۔ چھینک کے جواب کا بھی یہی حکم ہے۔ (البزازیۃ علی ہامش الفتاوی الہندیۃ، ج۶، ص۳۵۵)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی مُحمَّد
بابُ المدینہ کراچی کے مقیم اِسلامی بھائی نے کچھ اس طرح بتایا کہ عالمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ میں تربیّتی نشست میں شریک گونگے بہرے اِسلامی بھائیوں میں ایک مُبلِّغ اِشاروں کی زبان میں بیان فرما رہے تھے۔ جب انہوں نے دُرُودِ پاک کی فضیلت بتائی کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی خاطِر آپس میں مَحَبَّت رکھنے والے جب باہم ملیں اور مُصافَحَہ کریں (یعنی ہاتھ ملائیں ) اور نبی (صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) پر دُرُودِ پاک بھیجیں تو ان کے جُدا ہونے سے پہلے دونوں کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں ۔ ‘‘(مسند ابی یعلٰی، ج۳، ص۹۵، حدیث ۲۹۵۱) تو ایک گونگے اسلامی بھائی نے بعدِ بیان مُبلِّغ اسلامی بھائی کو اِشارے میں درخواست کی کہ مجھے دُرُودِ پاک اور سلام کرنا سکھائیں ۔ مُبلِّغ اسلامی بھائی نے ان کی خیر خواہی کرتے ہوئے انہیں مذکورہ چیزیں سکھانا شروع کیں ۔ وہ گونگے بہرے اسلامی بھائی پابندی سے نشست میں شرکت فرماتے رہے۔ آخِرکار انہوں نے کچھ ہی عرصے میں اِشاروں کی زَبان میں سلام کرنا اور دُرُودِ پاک پڑھنا سیکھ لیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ انہوں نے اپنا معمول بنا لیا کہ جب بھی کسی سے ملاقات ہوتی ہے تو پہلے سلام کرتے ہیں اور پھر مصافحہ کر کے(یعنی ہاتھ ملا کر ) دُرُودِ پاک ضرور پڑھتے ہیں ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی مُحمَّد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع