30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
القوی فرماتے ہیں : ’’خطبۂ جُمُعہکیلئے یہ شرط ہے کہ اِتنی آواز سے ہو کہ پاس والے سُن سکیں اگر کوئی امر مانع (یعنی رکاوٹ) نہ ہو تواگر زوال سے پیشتر خطبہ پڑھ لیا یا نماز کے بعد پڑھا، یا تنہا پڑھا یا عورتوں بچوں کے سامنے پڑھا تو ان سب صورتوں میں جمعہ نہ ہوا اور اگر بہروں یا سونے والوں کے سامنے پڑھا یا حاضرین دُور ہیں کہ سنتے نہیں یا مسافریا بیماروں کے سامنے پڑھا جو عاقِل بالِغ مرد ہیں تو ہوجائے گا۔ ‘‘(الدر المختار و رد المحتار، ج۳، ص۲۱، وبہارشریعت، ج۱، حصہ۴، ص۷۶۶)
سوال : جُمُعہ کیلئے شرط ہے کہ اِمام کے علاوہ کم از کم تین افراد ہوں ، اگر وہ تینوں گونگے ہوں تو کیا جمعہ دُرُست ہوجائے گا ؟
جواب : اگر جُمُعہ میں امام کے علاوہ تین مقتدی گونگے ہوں جب بھی جمعہ دُرست ہوجائے گا۔ صَدرُالشَّریعہ، بَدرُالطَّریقہحضرتِ علّامہ مولیٰنا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللّٰہ القویفرماتے ہیں : ’’اگرتین غلام یا مسافر یابیمار یاگونگے یا اَن پڑھ مقتدی ہوں تو جُمُعہہو جائے گا، صرف عورتیں یا بچے ہوں تونہیں ۔‘‘(الفتاوی الہندیۃ، ج۱، ص۱۴۸، و رد المحتار، ج۳، ص۲۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی مُحمَّد
سوال : نیت کرنے کے بعداحرام کیلئے ایک بارزَبان سے ’’لبَّیْک ‘‘کہنا ضَروری ہے ، گونگے کیلئے کیا حکم ہوگا ؟
جواب : صدرُالشَّریعہ، بدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولیٰنا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللّٰہ القوی فرماتے ہیں : ’’اِحرام کے لئے ایک مرتبہ زَبان سے لبَّیک کہنا ضَروری ہے اور اگر اس کی جگہ سُبْحٰنَ اللّٰہِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ یا اور کوئی ذکر ِ الٰہی کیا اور اِحرام کی نیّت کی تو احرام ہوگیا مگر سُنَّت لبَّیک کہنا ہے ۔ گونگا ہو تو اُسے چاہئے کہ ہونٹ کو جُنبِش دے۔ ‘‘(الفتاوی الہندیۃ، ج۱، ص۲۲۲، وبہارشریعت، ج ۱، حصہ۶، ص ۱۰۷۴)
سوال : کیا مسلمان گونگے کا ذَبح کیا ہوا جانور حلال ہے ؟
جواب : جی ہاں ۔ صَدرُالشَّریعہ، بَدرُالطَّریقہحضرتِ علّامہ مولیٰنا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللّٰہ القوی فرماتے ہیں : ’’گونگے کا ذَبیحہ حلال ہے۔ ‘‘ (الفتاوی الہندیۃ، ج۵، ص۲۸۶، وبہارشریعت، ج۳، حصہ ۱۵، ص۳۱۶)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع