30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سوال : گونگے کیلئے قِراءَ ت (قراٰنِ پاک کی تلاوت)کے بارے میں کیا حکم ہے ؟
جواب : گونگا چُونکہ قرآنِ مجید پڑھنے پر قادِر نہیں ہوتااس لئے اس پرقِراءَت کرنا لازِم نہیں ہے ۔
(الدر المختار و رد المحتار، ج۲، ص۲۲۰ ماخوذاً)
سوال : گونگا بہرہ قیام میں کیا کرے گا ؟ کیا بمقدارِ فرض و واجب قراء ت، چُپ کھڑا رہے گا ؟
جواب : جی ہاں ! قیام میں بمقدار فرض و واجب قراء ت چُپ کھڑا رہے گا۔
سوال : اگر کسی گونگے نے غسل فرض ہونے کی حالت میں قِراءَت(قراٰنِ پاک کی تلاوت) کا اِشارہ کیا تو کیا وہ گناہ گار ہوگا ؟
جواب : جی ہاں ، اس صورت میں یہ گناہ گار ہوگا کیونکہ اس کے حق میں اِشارہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے کسی بولنے والے کا کلام(بات) کرنا۔ لہٰذا جس طرح بولنے والے کیلئے ناپاکی (یعنی غسل فرض ہونے )کی حالت میں قِراءَتکرنا حرام ہے اسی طرح گونگے کیلئے بھی قِراءَت کا اِشارہ کرنا ناجائز وگناہ ہے ۔ عُلَمائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السّلام فرماتے ہیں : ’’اگر کسی گونگے نے ناپاکی(یعنی غسل فرض ہونے) کی حالت میں قِراءَت کا اِشا رہ کیا تو اس کایہ عمل حرام ہوگا ۔ ‘‘ (قرۃ عیون الاخیار تکملۃ ردالمحتار، ج۱۲، ص۱۴۶)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی مُحمَّد
سوال : کیا گونگا بولنے پر قدرت رکھنے والوں کی اِمامت کر سکتا ہے ؟
جواب : جی نہیں ۔ فتاوٰی عالمگیری میں ہے : قاری (یعنی درست قراٰن پڑھنے والا جس کی نماز درست قراٰن پڑھنے کی وجہ سے فاسدنہ ہوتی ہو) کو گونگے اور اُمّی (یعنی غلط قراٰن پڑھنے والا جس کی نمازغلط قراٰن پڑھنے کی وجہ سے فاسد ہوتی ہو)کی اقتِدا کرنا صحیح نہیں ہے۔ ‘‘(الفتاوی الہندیۃ، ج۱، ص۸۶)
سوال : توکیا گونگا گونگوں کا بھی اِمام نہیں ہوسکتا ؟
جواب : گونگا گونگوں کا اِمام ہو سکتا ہے۔ فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السّلام فرماتے ہیں : ’’ اگر گونگا گونگوں کی اِمامت کرے تو سارے گونگوں کی نَماز ہو جائے گی۔ ‘‘ (الفتاوی الہندیۃ، ج۱، ص۸۳)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع