30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جواب : نہیں ۔ فتاوی عالمگیری میں ہے : ظہار کرنے والا جماع کا اِرادہ کرے تو کفّارہ واجِب ہے اور اگر یہ چاہے کہ وطی نہ کرے اور عورت اُس پر حرام ہی رہے تو کفّارہ واجِب نہیں اور اگر اِرادۂ جماع تھا مگر زَوجہ مر گئی تو واجِب نہ رہا۔ (الفتاوی الہندیۃ، ج۱، ص۵۰۹)
سوال : لِعان کسے کہتے ہیں ؟
جواب : مرد نے اپنی عورت کو زِنا کی تُہمت لگائی اس طرح کہ اگراَجْنَبِیَّہ عورت کو لگاتاتو حدِّقَذف (یعنی تہمتِ زِنا کی حد) اِس پر لگائی جاتی ۔ یعنی عورت عاقِلہ(یعنی عقل والی)، بالِغہ، حُرَّہ(یعنی آزاد)، مُسلِمہ ، عَفِیفہ (یعنی پاک دامن) ہو تو لِعان کیا جائیگا۔ اِس کا طریقہ یہ ہے کہ قاضی کے حُضور پہلے شوہر قَسَم کے ساتھ چار مرتبہ شہادت (گواہی) دے یعنی کہے کہ میں شہادت (گواہی) دیتا ہوں کہ مَیں نے جو اس عورت کو زِنا کی تُہمت لگائی اِس میں خُدا کی قسم مَیں سَچّا ہوں پھر پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ اُس پر خدا کی لعنت اگر اس اَمرمیں کہ اس کو زِنا کی تُہمت لگائی جھوٹ بولنے والوں سے ہو اور ہر بار لفظ اللہ’’اس ‘‘سے عورت کی طرف اِشارہ کرے پھر عورت چار مرتبہ یہ کہے کہ مَیں شہادت (گواہی)دیتی ہوں خدا کی قسم ! اس نے جو مجھے زِنا کی تُہمت لگائی ہے اس بات میں جھوٹا ہے اور پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ اس پراللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا غضب ہواگر یہ اُس بات میں سچا ہو جو مجھے زِنا کی تُہمت لگائی۔ لِعان میں لفظ شہادت (گواہی) شرط ہے اگر یہ کہا کہ خدا کی قسم کھاتا ہوں کہ سچا ہوں لِعان نہ ہوا۔ (بہارشریعت، ج۲، حصہ۸، ص۲۲۰)
سوال : اگرمیاں ، بیوی دونوں یا ان میں سے کوئی ایک گونگا ہو توکیا ان کے درمیان لِعان ہو جائے گا ؟
جواب : جی نہیں ۔ دُرِّمختار میں ہے : ’’اگر میاں بیوی دونوں گونگے ہوں یا کوئی ایک گونگا ہو تو ان کے درمیانلِعان نہیں ہوسکتا۔ ‘‘(الدرالمختار، ج۵، ص۱۶۲)
سوال : اگر لِعان کے بعد ابھی قاضی نے تفریق (جُدائی)نہیں کی تھی کہ ان میں سے کوئی گونگا ہو گیا تو کیا یہ لِعان دُرُست ہو جائے گا، اور ان کے درمیان جُدائی ہو گی ؟
جواب : نہیں ۔ ان کے درمیان تفریق (جُدائی) نہیں ہو گی۔ فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلامفرماتے ہیں : ’’اگر کوئی تفریق سے پہلے اورلِعان کے بعد گونگا ہو گیا تو ان کے درمیان تفریق (جُدائی ) نہ ہو گی۔ ‘‘ (الدرالمختار، ج۵، ص۱۶۲)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع