30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قَطَعَکَ یعنی ’’جو تجھ سے رِشتہ کاٹے تو اس سے جوڑ ۔ ‘‘ (شعب الایمان ج۶ ص۲۲۲حدیث ۷۹۵۷ )
حضرتِ مولانا رُوم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ؎
تو برائے وَصْل کر دن آمدی
نے برائے فَصْل کردن آمدی(مثنوی شریف دفتردوم ص۱۷۳)
(یعنی تو جوڑ پیدا کرنے کیلئے آیا ہے ، توڑ پیدا کرنے کیلئے نہیں آیا)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
غصے کا ایک علاج یہ بھی ہے کہ غصہ لانے والی باتوں کے موقع پر بزرگانِ دین رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ کے طرز ِعمل اور سبق آموز حکایات کو ذِہن میں دوہرایا جائے :
غصّے کی عادت خراب ہے کے پندہ حروف کی نسبت سے 15حکایات
{۱}مجھ سے یہ ہر گز نہ ہو گا؟
حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمد بن محمد بن محمد غزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ نقل فرماتے ہیں : کسی شخص نے (تابعی بزرگ) امیرُالْمُؤمِنِین حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ سے سخت کلامی کی(یعنی برا بھلا کہا) ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ نے سرجھکا لیا اور فرمایا: ’’کیا تم یہ چاہتے ہوکہ مجھے غصہ آجائے اورشیطان مجھے حکومت کے غرور میں مبتلا کرے اور میں تم کو ظلم کا نشانہ بناؤں اورقیامت کے دن تم مجھ سے اِس کا بدلہ لو، مجھ سے یہ ہر گز نہیں ہوگا ۔ ‘‘ یہ فرما کر خاموش ہوگئے ۔ (کیمیائے سعادت ج۲ص۵۹۷)
{۲}تو مجھے تمہاری گالی کی کوئی پروا نہیں
کسی شخص نے (صحابیِ رسول )حضرت ِ سیِّدُناسلمان فارسی رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کو گالی دی ۔ اُنہوں نے فرمایا: ’’اگر بروزِقیامت میرے گناہو ں کاپلہ بھاری ہے تو جو کچھ تم نے کہا میں اُس سے بھی بدتر (یعنی زیادہ برا)ہوں اور اگر میرا وہ پلہ ہلکا ہے تو مجھے تمہاری گالی کی کوئی پروا نہیں ۔ ‘‘ (اتحاف السادۃ ج۹ ص۴۱۶ ملخّصاً)
{۳}تو تمہاری گالی میرے لئے ناکافی ہے
(تابعی بزرگ) حضرت ِسیِّدُنا رَبیع بنخَیْثَم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ کو کسی نے گالی دی ۔ آپ چ نے فرمایا: ’’اللہ پاک نے تیری بات سن لی ہے ، میرے اور جنت کے درمیان ایک گھاٹی حائل(یعنی بہت مشکل راستہ) ہے ، اگر طے کرنے میں کامیاب ہوگیا تو مجھے تمہاری گالی کی کیا پروا ! اور اگر اسے طے کرنے میں ناکام رہا تو تمہاری گالی میرے لئے ناکافی (یعنی کم) ہے ۔ ‘‘ (ایضاً)
{۴}میرے اور بھی عیب ہیں
امیرُالْمُؤمِنِین حضرتِ سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کو کسی نے گا لی دی ، ارشاد فرمایا: ’’میرے تو اس طرح کے اور بھی عیب ہیں جواللہکریم نے تجھ سے چھپائے ہوئے ہیں ۔ ‘‘ (احیاء العلوم ج۳ص۲۱۲)
{۵}اللہ کریم تیری مغفِرت فرمائے
کسی شخص نے حضرت سیِّدُنا شَعْبی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ کو گالی نکالی، آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ نے فرمایا: اگر تو سچ کہتاہے تو اللہپاک میری مغفرت فرمائے اور اگر تو جھوٹ کہتا ہے تواللہکریم تیری مغفرت فرمائے ۔ (ایضاً)
{۶}میں تو شیطان کو ناراض ہی کروں گا
حضرتِ سیِّدُنافضیل بن غزوان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ کی خدمت میں عرض کی گئی: حضور! فلاں آپ کوبرا بھلا کہہ رہا تھا ۔ فرمایا: خدا کی قسم ! میں تو شیطان کو ناراض ہی کروں گا، پھر دُعا مانگی: اللہ پاک! اس شخص کومُعافی سے نوازدے ۔ (احیاء العلوم ج۳ص۳۸۶ ملخّصاً)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع