30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کوشش کیجئے : حضرتِ سیِّدُنا مالک بن دینار رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ نے ایک مکان کر ائے (Rent) پر لیا ۔ اُس مکان کے بالکل مُتَّصِل (یعنی مِلا ہوا) ایک یہودی کا مکان تھا ۔ وہ یہودی دشمنی کی بنیاد پرپرنالے کے ذَرِیعے گندہ پانی آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ کے مبارک مکان میں ڈالتا رہتا ۔ مگر آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ خاموش ہی رَہتے ۔ آخرکا ر ایک دن اُس نے خود ہی آکر عرض کی: جناب !میرے پرنالے سے گِرنے والی گندگی کی وجہ سے آپ کوکوئی شکایت تو نہیں ؟آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ نے نہا یت ہی نرمی کے ساتھ فرمایا: ’’پر نالے سے جو گندگی گر تی ہے اُس کو جھاڑودے کر دھوڈالتا ہوں ۔ ‘‘ اُس نے کہا: آپ کو اتنی تکلیف ہونے کے با وجود غصہ نہیں آتا؟ فرمایا: آتا تو ہے ، مگر پی جاتا ہوں کیونکہ (پارہ4 سُوْرَۂ اٰلِ عِمْرَان آیت 134 میں ) خدائے رحمن کا فرمانِ مَحَبَّت نشان ہے :
وَ الْكٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِؕ-وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَۚ(۱۳۴)
ترجَمۂ کنزالایمان : اور غصہ پینے والے اور لوگوں سے در گزر کرنے والے اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں ۔
جواب سن کر وہ یہودی مسلمان ہوگیا ۔ (تذکِرۃُ الاولیاء ص۴۵)
نگاہِ ولی میں وہ تاثیر دیکھی
بدلتی ہزاروں کی تقدیر دیکھی
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
غصّہ پینے کے مُتعلِّق آیت کی تفسیر
اے عاشقانِ اولیا!دیکھا آپ نے ! نرمی کی کیسی برکتیں ہیں ! نرمی سے مُتَأَ ثِّر ہوکر وہ یہودی مسلمان ہوگیا ۔ حکایت میں بیان کردہ آیتِ مبارَکہ کے تحت مفسرشہیرحکیمُ الْاُمَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ فرماتے ہیں : متقی لوگوں (یعنی پرہیز گاروں ) کی ایک صفت یہ بھی بیان فرمائی ہے کہ وہ سخت غصے کی حالت میں آپے سے باہر نہیں ہوجاتے بلکہ نفسانی غصہ پی جاتے ہیں کہ باوجود قدرت کے غصہ جاری نہیں کرتے اور اپنے ماتحتوں کی خطاؤں یا دوسروں کی اِیذاؤں یا مجرموں کے جرموں کو بخش دیتے ہیں کہ باوجود قادِر ہونے کے اپنے نفس کا بدلہ نہیں لیتے ، اللہ پاک ایسے نیک کاروں کو جو مخلوق کے لیے مضر (نقصان دہ ) نہ ہوں بلکہ مفید ہوں ، بہت ہی پسند فرماتا ہے کہ ان پر اس اِحسان کے بدلے اِحسان فرمائے گا اور انہیں اِنعام دے گا، یہ لوگ اپنی حیثیت کے لائق نیکیاں کر لیں ، رَبّ تَعالیٰ اپنی شان کے لائق انہیں انعام دے گا ۔ (تفسیرِ نعیمی ج۴ ص۱۸۷)
زخمی کرنے والے کو اِنعام(حکایت)
غصہ پی جانے کی حقیقت یہ ہے کہ کسیغصہ دلانے والی بات پر خاموش ہوجائے اور غصے کے اظہار اور سزا دینے اور بدلہ لینے کی قدرت کے باوجود صبر وسکون کے ساتھ رہے ۔ حضرت سیِّدُنا امام زین العابدین رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ کو ان کی کنیزوضو کروا رہی تھی کہ اچانک اس کے ہاتھ سے لوٹا گرگیا جس سے وہ زخمی ہوگئے ، انہوں نے اس کی طرف سر اٹھا کر دیکھا تو اس نے عرض کی : اللہپاک ارشاد فرماتا ہے : وَ الْكٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ ’’اور غصّہ پینے والے ‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ نے فرمایا: قَدْ کَظَمْتُ غَیْظِیْ یعنی میں نے اپنا غصّہپی لیا ۔ اس نے پھر عرض کی: وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِؕ- ’’ اور لوگوں سے در گزر کرنے والے ‘‘ ارشاد فرمایا: قَدْ عَفَا اللّٰہُ عَنْکِیعنی اللہپاکتجھے معاف کرے ۔ پھر عرض گزار ہوئی: وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَۚ ’’ اور نیک لوگ اللہکے محبوب ہیں ‘‘ ارشاد فرمایا: اِذْہَبِیْ فَاَنْتِ حُرَّۃٌ یعنی جا! تو آزاد ہے ۔ (شُعَبُ الْاِیمان ج۶ص۳۱۷حدیث۸۳۱۷ ملخّصاً)
کیوں میری خطاؤں کی طرف دیکھ رہے ہو!
جس کو ہے مِری لاج وہ لج پال بڑا ہے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
نیک بندے چیونٹیوں کو بھی اِیذا نہیں دیتے
اللہکے نیک بندے کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ مسلمانوں کو تو کیا تکلیف دے گا چیونٹیوں تک کو اِیذا دینے سے گریز کرتا(یعنی بچتا) ہے ۔ چنانچِہ حضرتِ سیِّدُناامام حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ سے اَبرار(یعنی نیک بندوں ) کے متعلق پوچھا گیاتو فرمایا: نیک بندے وہ ہیں جو چیونٹیوں تک کو بھی اَذِیت (یعنی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع