30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرتِشیخ سعدی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ؎
بَدی رابدی سَہْل با شُد جزا
اگر مَردی، اَحْسِن اِلٰی مَن اَسا
(بوستان سعدی ص۹۱)
(یعنی بُرائی کا بدلہ برائی سے دینا آسان ہے اگر تُو مَرد ہے تو بُرائی کا بدلہ بھلائی سے دے )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!دیکھاآپ نے ! نرمی کا برتاؤ کرنے والے پر اللہ پاک کی کس قَدَررَحمت ہوتی ہے ۔ کاش !ہم بھی اپنی بے عزتی کرنے والوں یا ستانے والوں کو معاف کرنا اِختیار کریں ۔ ’’مسلم شریف‘‘ میں فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے : جس چیز میں نرمی ہوتی ہے اُسے زینت بخشتی(یعنی خو ب صورت بناتی) ہے اور جس چیز سے جُدا کرلی جاتی ہے اُسے عیب دار بنادیتی ہے ۔ (مسلم ص۱۳۹۸حدیث۲۵۹۴)
پیشگی مُعاف کرنے کی فضیلت
’’اِحیاء العُلُوم‘‘ میں ہے : ایک شخص دُعا مانگ رہاتھا: ’’اللہ پاک! میرے پاس خیرات کیلئے کوئی مال نہیں ، بس یہی کہ جو مسلمان میری بے عزتی کرے میں نے اُسے معاف کیا ۔ ‘‘ مکی مَدَنی آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر وَحی آئی: ’’ہم نے اِس بندے کو بخش دیا ۔ ‘‘ (احیاء العلوم ج۳ ص۲۱۹)
حسابِ قِیامت میں آسانی کے تین اسباب
حضرتِ سیِّدُنا ابو ہُریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ سے روایت ہے ، صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: تین باتیں جس شخص میں ہوں گی اللہپاک (قیامت کے دن) اُس کا حساب آسان طریقے سے لے گا اور اُس کو اپنی رَحمت سے جنت میں داخل فرمائے گا ۔ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی: یارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! وہ کون سی باتیں ہیں ؟فرمایا: {۱}جو تمہیں محروم کرے تم اُسے عطا کر واور{۲} جو تم سے قطع تعلُّق کرے (یعنی تعلُّق توڑے ) تم اُس سے تعلُّق جوڑو اور {۳}جو تم پر ظلم کرے تم اُس کومعاف کردو ۔ (معجم اوسط ج۴ص۱۸حدیث ۵۰۶۴ ملخّصاً)
گالیوں بھرے خُطوط پر اعلٰی حضرت کا حوصلہ(حکایت)
کاش!ہمارے اندر یہ جذبہ پیدا ہوجائے کہ ہم اپنی ذات اور اپنے نفس کی خاطر غصے کا اظہار کرناہی چھوڑ دیں ۔ جیسا کہ ہمارے بزُرگوں کا جذبہ ہوتاتھا کہ ان پر کوئی کتنا ہی ظلم کرے یہ حضرات صبر، صبرا ور صرف صبرہی فرماتے تھے ۔ چُنانچِہ ’’حیاتِ اعلیٰ حضرت ‘‘ میں ہے : میرے آقا اعلیٰ حضرت، امام اَحمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ کی خدمت میں ایک بار جب ڈاک پیش کی گئی تو بعض خطوط مغلظات (یعنی گالیوں ) سے بھرپور تھے ۔ معتقدین (یعنی عقیدت رکھنے والے ) برہم(غصّے ) ہوئے کہ ہم ان لوگوں کے خلاف مقدمہ دائر (یعنیCase) کریں گے ۔ امامِ اَہلِ سنَّت شاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ نے ارشاد فرمایا:’’جو لوگ تعریفی خطوط لکھتے ہیں پہلے ان کو جاگیریں (Properties) تقسیم کردو ، پھر گالیاں لکھنے والوں پر مقدمہ (Case)دائر کردو ۔ ‘‘ (حیات اعلیٰ حضرت ج۱ص۱۴۳ مُلَخَّصاً) مطلب یہ کہ جب تعریف کرنے والوں کو انعام نہیں دیتے پھر بُرائی کرنے والوں سے بدلہ کیوں لیں !
احمد رضا کا تازہ گلستاں ہے آج بھی
خورشید علم اُن کا درخشاں ہے آج بھی
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مالک بن دینار کے صَبْر کے انوار(حکایت)
ہمارے بزرگانِ دین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِم ظلمِ ظالمین وستم کا فرین پر صَبْر فرماتے اور کس طرح غصےکو بھگاتے تھے اسے اس حکایت سے سمجھنے کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع