30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!غصے کا عملی علاج اس طرح ہوسکتا ہے کہ غصہپی جانے اور درگزر سے کام لینے کے فضائل کی معلومات حاصل کیجئے ، جب کبھیغصہ آئے ان فضائل پر غور وفکر کرکے غصےکو پینے کی کوشِش فرمایئے ۔ ’’بخاری شریف‘‘میں ہے ، ایک شخص نے بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں عرض کی: یارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! مجھے وصیت فرمائیے ۔ ارشاد فرمایا:لَا تَغْضَبْ یعنی ’’غصہ مت کیا کرو ۔ ‘‘ اس نے باربار یہی سوال کیا ، جواب یہی ملا: ’’ غصہ مت کیا کرو ۔ ‘‘ (بخاری ج۴ ص۱۳۱ حدیث ۶۱۱۶)
شرحِ حدیث:حضرتِ علّامہ خَطّابی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ لکھتے ہیں : لَا تَغْضَبْ یعنی ’’غصّہ مت کیا کرو‘‘کے معنٰی ہیں کہ غصے کے اَسباب (یعنی جن چیزوں سے غصّہ آ جاتا ہے اُن) سے بچو یا تم وہ کام نہ کرو جس کام کا حکم تمہیں غصّہ دیتا ہے ۔ (اعلام الحدیث للخطابی ج۳ص۲۱۹۷)
اللہ قیامت کے دن عذاب روک دے گا
فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ:جو شخص اپنے غصے کو روکے گا، اللہپاک قیامت کے دن اُس سے اپنا عذاب روک دے گا ۔ (شعب الایمان ج۶ص۳۱۵حدیث۸۳۱۱)
جوابی کاروائی پر شیطان کی آمد
اے عاشقانِ رسول!جب کوئی ہم سے اُلجھے یابرا بھلا کہے اُس وَقت خاموشی ہی میں ہمارے لئے عافیت ہے اگر چہ شیطان لاکھ وَسوَسے ڈالے کہ تو بھی اس کو جواب دے ورنہ لوگ تجھے بزدل کہیں گے ، میاں ! شرافت کا زمانہ نہیں ہے اِس طرح تو لوگ تجھ کو جینے بھی نہیں دیں گے وغیرہ وغیرہ ۔ میں ایک حدیث مبارکہ بیان کرتا ہوں اس کو غور سے سنئے ، سن کر آپ کو اندازہ ہوگاکہ دوسرے کے بُرا بھلا کہتے وَقت خاموش رہنے والارحمتِ الٰہی کے کس قدر نزدیک ہوتا ہے ۔ چنانچہ’’ مسند امام احمد بن حنبل‘‘میں ہے ، سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی موجودگی میں کسی آدمی نے حضرتِسیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کو نامناسب الفاظ کہے ، جب اُس نے بہت زِیادَتی کی تو حضرتِ ِسیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے اُس کی بعض باتوں کا جواب دیا (حالانکہ آپ کی جوابی کاروائی گناہ سے پاک تھی مگر) حضورِ انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ وہاں سے اُٹھ کر چل دیئے ، سیِّدُنا ابوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللہُ عَنْہُ حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پیچھے پہنچے ، عرض کی: یارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ!وہ مجھے نامناسب الفاظ کہتا رہا آپ تشریف فرما رہے ، جب میں نے اُس کی بات کا جواب دیا تو آپ اُٹھ گئے ! فرمایا: ’’تیرے ساتھ فرشتہ تھا ، جو اُس کا جواب دے رہا تھا، پھر جب تونے خود اُسے جواب دینا شروع کیا تو شیطان درمیان میں آکُودا ۔ ‘‘ (مسند امام احمد بن حنبل ج۳ص۴۳۴حدیث۹۶۳۰)
اے عاشقانِ رسول!آپ کو بول کر بارہاپچھتانا پڑا ہوگا مگر خاموش رَہ کر کم ہی شرمندگی اُٹھائی ہوگی ۔ ’’ترمذی شریف‘‘ میں فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے : مَنْ صَمَتَ نَجَا ۔ یعنی ’’جو چُپ رہا اُس نے نَجات پائی ۔ ‘‘ (ترمذی ج۴ص۲۲۵حدیث ۲۵۰۹) اور یہ محاوَرہ بھی خوب ہے :’’ ایک چپ سو کوہرائے ۔ ‘‘
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
کر بھلا ہو بھلا
حضرتِسیِّدُناشیخ سعدی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ’’بوستانِ سَعدی‘‘ میں نقل کرتے ہیں : ایک نیک شخص اپنے ذاتی دشمنوں کا ذِکر بھی بُرائی سے نہ کرتا تھا ۔ جب بھی کسی کی بات چھڑتی، اُس کی زبان سے اچھی بات ہی نکلتی ۔ مرنے کے بعد اُسے کسی نے خواب میں دیکھا تو سوال کیا:مَافَعَلَ اللّٰہُ بِکَ؟ یعنی اللہپاک نے تیرے ساتھ کیامعاملہ فرمایا؟ بولا: ’’دنیا میں کوشش ہوتی تھی کہ میری زبان سے کسی کے بارے میں کوئی بُری بات نہ نکلے ، منکر نکیر نے بھی قبر میں مجھ سے کوئی سخت سوال نہ کیااور یوں میرا معاملہ بہت اچھا رہا ۔ ‘‘ (بوستان سعدی ص۱۴۹ ملخّصاً)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع