30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
؟ حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’لَا تَغْضَبْ وَلَکَ الْجَنَّـۃُ‘‘یعنی غصہ نہ کیا کرو، تو تمہارے لئے جنت ہے ۔
(معجم اوسط ج۲ص۲۰حدیث۲۳۵۳)
جامِ کوثر پلانے والے ، شفاعت فرمانے والے پیارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا پیارا پیارا ارشاد ’’بخاری شریف‘‘ میں ہے : ’’طاقت وَر وہ نہیں جو پہلوان ہو، دوسرے کو پچھاڑ دے بلکہ طاقت وَر وہ ہے جوغصےکے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھے ۔ ‘‘(بخاری ج۴ص۱۳۰حدیث ۶۱۱۴)
فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ:اللہپاک فرماتا ہے :’’جو اپنے غصےمیں مجھے یاد رکھے گا میں اُسے اپنے جلال کے وقت یاد کروں گا اور ہلاک (یعنی عذاب )ہونے والوں کے ساتھ اُسے ہلاک(یعنی عذاب ) نہ کروں گا ۔ ‘‘ (اَلْفِرْدَوْس ج۳ص۱۶۹حدیث۴۴۴۸)
غُصّہ پینے کی فضیلت
سرکارِ مدینۂ منوَّرہ، سلطانِ مکّۂ مکرَّمہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ معظّم ہے : جوغصہ نکالنے پر قدرت ہونے کے باوجود پی جائے ، تو اللہپاک قیامت کے دن اس کے دل کو اپنی خوش نودی سے معمور (یعنی بھر پور) فرمادے گا ۔ (جَمْعُ الْجَوامِع ج ۷ ص ۲۶۹ حدیث ۲۲۹۹)
غُصّہ پینے والے کیلئے جنّتی حُور
اللہپاک کے پیارے حبیب، اپنی امت کو بخشوانے والے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا:جس نے غصےکوروک لیا حالانکہ وہ اسے جاری( یعنی نافذ) کر نے پر قدرت رکھتا تھا، تواللہپاک قیامت کے دن اُس کو تمام مخلوق کے سامنے بلائے گااور اِختیار دے گا کہ جس حور کو چاہے لے لے ۔ ( ابو داوٗد ج۴ ص۳۲۵ حدیث۴۷۷۷)
دل میں نورِ ایمان بھر نے کا ایک سبب
نبیِّ محتر م، رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کاارشاد ہے : ’’جس شخص نے غصہ پی لیا، باوجود اِس کے کہ وہ غصہ نافذ کرنے پر قُدرت رکھتا ہے ، اللہپاک اُس کے دل کو سُکون و ایمان سے بھردے گا ۔ ‘‘ (جامع صغیر ص۵۴۱حدیث ۸۹۹۷ )
خدا کی پناہ کے نو حروف کی نسبت سے غصّے کے متعلق9انمول مدنی پھول
{۱}بعضوں کا مزاج ماچس کی تیلی کی طرح ہوتا ہے کہ ذراسی رگڑ پر بھڑک اُٹھتے ہیں {۲}بعضوں کا غصہ حماقت سے شروع ہوکر ندامت پر ختم ہوتا ہے {۳}غصے کے وقت انسان جذبات میں آ کر صحیح و غلط کی تمیز (یعنی فرق) بھول جاتا ہے ٭غصے کی حالت میں فیصلوں سے پرہیز کیجئے کیونکہ اُبلتے پانی میں اپنا عکس(یعنی سایہ) دکھائی نہیں دیتا {۴} خود کو’’ اپ سیٹ‘‘ کرنے والے جملوں سے پرہیز کیجئے مثلاًیہ کہ میں ہرگز برداشت نہیں کرسکتا، میں بہت غصّے والا ہوں ، میرا غصہ بہت خراب ہے {۵}دوسرے کو یہ مت کہا کریں کہ تم جلالی ہو تم کوغصہ بہت آتا ہے ، تم چڑچڑے ہو وغیرہ کہ اس طرح نفسیاتی طور پر ہو سکتا ہے وہ غصےلا(یعنی غصّے والا ) بن جائے {۶}جب غصےکی کیفیت طاری ہو تو زور زور سے سانس لینے کے بجائے دھیمے انداز میں سانس لیں ، اِنْ شَاءَ اللہ اس سے پٹھوں (Muscles) کو آرام ملے گا اور جسم ایسے کیمیکلزخارج نہیں کرے گا جو آپ کو بے قابو کرکے سزا دینے یا بدلہ لینے پر اُکسانے کا سبب بنیں {۷}غصے کی حالت میں کسی پرسُکون مقام مثلاً مکّے مدینے ، خانۂ کعبہ یا سبز سبز گنبد شریف کا تصوُّر کیجئے ، یہ تصوُّر جتنا بڑھے گا ، اِنْ شَاءَ اللہ آپ کا غصہ اُتنا ہی کم ہوتاچلا جائے گا {۸}غور کیجئے کہ کیا چیز آپ کو غصے کی حالت میں بے قابو کردیتی ہے ، اُس سے جان چھڑانے کا طریقہ طے کر لیجئے ، جب کبھی غصہ آتا محسوس ہو فوراً اس طریقے پر عمل شروع کردیجئے {۹} غصہ کرنا ہی ہے تو اللہ پاک کے مومن بندوں پر نہیں ، نفس و شیطان پر کیجئے جو گناہوں پر اُبھارتے رہتے ہیں ۔
تم نہ بندوں پہ ’’غصّہ‘‘ برادر کرو
نفس و شیطان پہ ’’غصّہ‘‘ برابر کرو
(’’برابر ‘‘کے ایک معنٰی ’’ ہمیشہ‘‘ بھی ہے )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع