30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جوپہلے تھی ، یہ دیواراب بدصورت ہو چکی ہے ، سنو! جب تم غصے کی حالت میں چیختے چلّاتے ہو اور دوسروں کو بُرا بھلا کہتے ہو تو اسی طرح کے بدنما اثرات اُن کے دلوں پر چھوڑتے ہوجیسے ان کیلوں کے لگنے اور اُکھڑنے سے اس دیوار پر ہیں ، بیٹا! یاد رکھو! خنجر کے لگائے ہوئے زخم بھر جاتے ہیں مگرزبان کا لگا ہوا زخم کبھی نہیں بھرتا ۔
سن لو! نقصان ہی ہوتا ہے بِالآخِر اُن کو
نفس کے واسطے ’’ غصّہ‘‘ جو کیا کرتے ہیں (وسائل بخشش ص ۲۹۴)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
کسی پر غُصّہ آئے تو یوں علاج کیجئے
غصے کی تباہ کاریوں کوپیش نظر رکھئے کیونکہغصہ ہی اکثر لڑائی جھگڑے ، دوبھائیوں میں جدائی، میاں بیوی میں طَلاق، آپس میں نفرت اورقتل و غارت کا سبب ہوتا ہے ۔ جب کسی پر غصہ آئے اور مار دھاڑ اور توڑ تاڑ کر ڈالنے کو جی چاہے تو اپنے آپ کو اس طرح سمجھائیے : مجھے دوسروں پر اگر کچھ قدرت حاصل بھی ہے تو اس سے بے حد زیادہاللہکریم مجھ پر قادِر(یعنی قدرت رکھنے والا) ہے اگر میں نے غصے میں کسی کی دل آزاری یا حق تلفی کر ڈالی توقیامت کے روز اللہپاک کے غضب (یعنی ناراضی)سے میں کس طرح محفوظ رہ سکوں گا!
غلام نے دیر کر دی(حکایت)
نبیوں کے سردار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ایک غلام کو کسی کام کیلئے بلوایا، وہ دیر سے حاضر ہوا ۔ اللہپاک کے پیارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے برکت والے ہاتھ میں مِسواک تھی فرمایا:’’اگر قیامت میں انتقام (یعنی بدلہ )نہ لیا جانا ہوتاتو میں تجھے اِس مسواک سے مارتا ۔ ‘‘( ابو یَعلٰی ج۶ ص۹۰ حدیث ۶۸۹۲)
دیکھا آپ نے ! ہمارے پیارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کبھی بھی اپنے نفس کی خاطر انتقام(یعنی بدلہ )نہیں لیتے تھے اور ایک آج کل کا مسلمان ہے کہ اگر نوکر کسی کام میں غلطی کردے تو اس پرگالیوں کی بوچھاڑ کر دیتا اور کبھی تومار دھاڑ پر اُتر آتا ہے ۔
......تو تمہیں دوزخ کی آگ جلاتی(حکایت)
’’مسلم شریف‘‘ میں ہے ، حضرتِ سیِّدُنا ابو مسعود انصا ری رَضِیَ اللہُ عَنْہُ فرماتے ہیں : میں اپنے غلام کی پٹائی کر رہا تھا کہ میں نے اپنے پیچھے سے آواز سنی :’ ’ اے ابو مسعود! تمہیں علم ہونا چاہیے کہ تم اس پر جتنی قدرت رکھتے ہواللہپاک اس سے زیادہ تم پر قدرت رکھتا ہے ۔ ‘‘ میں نے پیچھے مُڑ کر دیکھا تو وہ رَسُوْل اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تھے ۔ میں نے عرض کی: یارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! ھُوَحُرٌّ لِّوَجْہِ اللّٰہ یعنی یہاللہپاک کی رضا کے لئے آزاد ہے ۔ سرکارِ مدینۂ منوّرہ ، سردارِ مکّۂ مکرّمہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا:’’اگر تم یہ نہ کرتے توتمہیں دوزخ کی آگ جلاتی ۔ ‘‘ یا فرمایا کہ’’ تمہیں دوزخ کی آگ پہنچتی ۔ ‘‘(مسلم ص۹۰۵ حدیث ۳۵ ۔ ۱۶۵۸)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مُعاف کرنے ہی میں عافِیَت
اے عاشقانِ صحابہ و اہلِ بیت !آپ نے دیکھا! ہمارے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اللہ و رسول عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کس قدر پیار کرتے تھے ۔ حضرتِ سیِّدُنا ابو مسعود انصاری رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے جُوں ہی حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ناراضی محسوس کی فوراً نہ صرف غلام کی پٹائی سے اپنا ہاتھ روک لیا بلکہ اپنے غلام ہی کو آزاد کردیا ۔ آہ! آج جواپنے ہاتھ کے نیچے ہوتا ہے لوگ اُس کو بلاضرورتِ شرعی جھاڑتے ، لتاڑتے ، اُن پر دَہاڑتے چنگھاڑتے وقت اس بات کی طرف بالکل توجہ نہیں دیتے کہ اللہپاک جو ہم سے زبردست ہے وہ ہمارا ظلم و ستم دیکھ رہا ہے ۔ یقینا اپنے ماتحتوں کے ساتھ نرمی وحسن سُلوک اور عَفوو درگزر(یعنی بھول چُوک معاف کر دینے ) سے کام لینے ہی میں عافیت (یعنی سلامتی) ہے ۔ چُنانچِہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع