30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مثل سلیمان علیہ السلام کو تخت اور لڑائی کے لیے گھوڑے اور اونٹ،اور ہمارے محمد صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نہیں پیدل چل کر لڑتے تھے۔بہت ساری باتیں عرض حال ہے جس سے طول ہونے کا خیال ہے۔تسلی بخش جواب بادلیل عنایت کیجئے اور وہ آیت مع ترجمہ جس سے کہ علمِ غیب معلوم ہوتا ہے اور حدیث شریف جس سے علمِ غیب پایا جاتا ہے اور وہ مثل حضرت عائشہ صدیقہ(رضی اﷲ تعالٰی عنہا)کی جو تہمت لگائی گئی تھی اگر علمِ غیب ہوتا تو آپ کو کیوں خبر نہ ہوئی۔
سوال سوم:اگرکسی عورت کا خاوند شراب پیتا ہے اور شراب پی کر عورت سے جماع کرے تو اس عورت کو کیا کرنا چاہیے؟
سوال چہارم:اگر کوئی ہندو کوئی چیز میرے پاس نقد یا سامان رکھ گیا تو اس کو نہ دینا چاہیے،جائز ہے یا ناجائز ؟ یا کوئی چیز بھول گیا تو میں نے اس کو اٹھالیا تو دینا چاہیے یا نہیں؟ غرض ہندوؤں کا مال چوری دھوکا دے کرلینا جائز ہے یا نہیں؟
سوال پنجم:یہ جو مشہور ہے کہ عورت کو خواہش نفس مرد سے نو حصے زیادہ ہے،اس کا پتہ شریعت سے چلتا ہے یا نہیں؟
سوال ششم:کنگھاداڑھی میں کس کس وقت کیا جائے؟
سوال ہفتم:مولوی اشرفعلی تھانہ بھون والے کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟
سوال ہشتم:وہ کون سی باتیں ہیں جن کی وجہ سے کتاب تقویۃ الایمان خراب ہے؟
الجواب:
جوابِ سوال اوّل:
رنڈیوں کا ناچ بے شك حرام ہے،اولیائے کرام کے عرسوں میں بیقید جاہلوں نے یہ معصیت پھیلائی ہے۔
جوابِ سوال دوم:علم غیب ذاتی کہ اپنی ذات سے بے کسی کے دیئے ہوئے اﷲ عزوجل کے لیے خاص ہے اُن آیتوں میں یہی معنٰی مراد ہیں کہ بے خدا کے دیئے کوئی نہیں جان سکتا اور اﷲ کے بتائے سے انبیاء کو معلوم ہونا ضروریاتِ دین سے ہے،قرآن مجید کی بہت آیتیں اس کے ثبوت میں ہیں،از انجملہ سورہ جِن میں فرماتا ہے:
|
" عٰلِمُ الْغَیۡبِ فَلَا یُظْہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ اَحَدًا ﴿ۙ۲۶﴾ اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنۡ |
اﷲ ہے غیب کا جاننے والا تو اپنے خاص غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتا سوائے اپنے پسند یدہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع