30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہہ دیا جس سے لوگ آپ سے برگشتہ ہوجائیں تو خدا تعالٰی نے اس کا جھوٹ ظاہر کردیا۔پس علماء دین قویم سے بقلب استفسار ہے کہ منشاہر دو آیت کا کیا ہے اور اس بارہ میں کیا اعتقاد رکھنا چاہیے ؟ القوا کلام نفسیکم فی قلبی توجروامن ربیّ(اپنا نفیس کلام میرے دل میں ڈالو میرے رب سے اجر پاؤ گے۔ت)
الجواب:
قلب و ہ عضو ہے کہ سلطان اقلیم بدن و محل عقل و فہم و منشا قصد واختیارورضا و انکار ہے ایك شخص کے دو دل نہیں ہوسکتے دوبادشاہ دراقلیمے نہ گنجند(ایك سلطنت میں دو بادشاہ نہیں ہوتے۔ت)آیۃ کریمہ میں رجل نکرہ ہے اور تحت نفی داخل ہے تو مفید عموم و استغراق ہے یعنی الله عزوجل نے کسی کے دو دل نہ بنائے نہ کہ فقط اس شخص خاص کی نسبت انکار فرمایا ہو۔
رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
|
الا وان فی الجسد مضغۃ اذا صلحت صلح الجسد کلہ واذا فسدت فسد الجسد کلہ الا وھی القلب۔[1] |
سنتے ہو بدن میں ایك پارہ گوشت ہے کہ وہ ٹھیك ہے تو سارا بدن ٹھیك رہتا ہے اور وہ بگڑ جائے تو سارا بدن بگڑ جاتا ہے سنتے ہو وہ دل ہے۔ |
تو اگر کسی کے دو دل ہوں ان میں ایك ٹھیك رہے ایك بگڑ جائے تو چاہیے معًا ایك آن میں سارا بدن بگڑا اور سنبھلا دونوں ہوا اور یہ محال ہے جب دو دل ہیں ایك نے ارادہ کیا یہ کام کیجئے دوسرے نے ارادہ کیا نہ کیجئے تو اب بدن ایك کی اطاعت کرے گا یا دونوں کی یا کسی کی نہیں۔ظاہر ہے کہ دونوں کی اطاعت محال ہے اور کسی کی نہ ہو تو ان میں کوئی قلب نہیں کہ قلب تو وہی ہے کہ بدن اسی کے ارادے سے حرکت وسکون ارادی کرتا ہے اور اگر ایك کی اطاعت کرے گا دوسرے کی نہیں تو جس کی اطاعت کرے گا وہی قلب ہے اور دوسرا ایك بدگوشت ہے کہ بدن میں صورت قلب پر پیدا ہوگیا جیسے کسی کے پنجے میں چھ انگلیاں اور بعض کے ایك ہاتھ میں دو ہاتھ لگے ہوتے ہیں ان میں جو کام دیتا ہے اور ٹھیك موقع پر ہے وہی ہاتھ ہے دوسر ابدگوشت ہے۔ ڈاکٹروں کا بیان اگر سچا ہو تو اس کی یہی صورت ہوگی کہ بدن میں
[1] صحیح البخاری کتاب الایمان باب فضل من استبراء لدینہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۱،صحیح مسلم کتاب المساقات باب اخذ الحلال وترك الشبہات قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع