30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ولم تعرف فلا نطیل الکلام بایرادھا و لنطوھا علی غرھالمیعا دھا "۔ |
کہ نہ تو اُس کا تعرض کیا گیا ہے اور نہ ہی وہ معروف ہے،چنانچہ ہم اس کو وارد کرکے کلام کو لمبا نہیں کرتے۔لہذا چاہیے کہ ہم اس کے مقررہ وقت تك اس کو اس کے شکن پر لپیٹ دیں۔(ت) |
اب بقیہ سوال کا جواب لیجئے اور اس رسالہ میں جن ائمہ و علماء و کتب سے یہ مسئلہ ثابت کیا آخر میں اُن کے اسماء شمار کردیجئے کہ جسے رسالہ دیکھنے میں کاہلی آئے ان ناموں ہی کو دیکھ کر خلاف سے ہاتھ اٹھائے لہذا تین فصل کا وصل اور مناسب کہ تلك عشرۃ کاملۃ(یہ پورے دس ہوئے۔ت)جلوہ دکھائے۔
فصل ہشتم
جب ابوطالب کا کفرادلّہ کالنہّار سے آشکار تو رضی اﷲ تعالٰی عنہ کہنے کا کیونکراختیار،اگر اخبار ہے تو اﷲ تعالٰی عزوجل پر افترا،کفار کو رضائے الٰہی سے کیا بہرہ،اور اگر دُعا ہے کما ھو الظاھر(جیسا کہ ظاہر ہے۔ت)تو دعا بالمحال حضرت ذی الجلال سے معاذ اﷲ استہزاء،ایسی دُعا سے حضور سرور عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے نہی فرمائی۔
|
کما فی الصحیحین [1] وقد بیّنّاہ فی رسالتنا "ذیل المدعاء لاحسن الوعاء" التی ذیلنا بہار سالۃ "احسن الوعاء لاٰداب الدعاء" لخاتمۃ المحققین سیدنا الوالد قدس سرہ الماجد"۔ |
جیسا کہ صحیحین میں ہے،اور ہم نے اس کو اپنے رسالہ "ذیل المدعاء لاحسن الوعاء" میں بیان کردیا۔اس رسالے کو ہم نے حاشیہ بنایا رسالہ "احسن الوعادء لآداب الدعاء"کا جو تصنیف ہے خاتمۃ المحققین ہمارے سردار والد گرامی قدس سرّہ کی۔ت) |
علماء نے کافر کے لیے دُعائے مغفرت پر سخت اشد حکم صادر فرمایا اور اس کے حرام ہونے پر تو اجماع ہے،پھر دعائے رضوان تو اس سے بھی ارفع و اعلٰی۔
|
فان السید قدیعفوعن عبدہ |
اس لیے کہ مالك بعض دفعہ اپنے غلام کو معاف |
[1] صحیح البخاری کتاب التفسیر سورۃ البراء ۃ باب ماکان للنبی والذین اٰ منوا لخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۶۷۵،صحیح مسلم کتاب الایمان باب الدلیل علٰی صحۃ الاسلام من حضرہ الموت الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع