30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صورت اُولٰی ظاہر البطلان،لہذا شق اخیر ہی لازم الاذعان،اور فی الواقع اگر یہ روایت مطابق واقع تھی تو قطعًا یہی صورت واقعی ہوئی اور وہ ضرور قرینِ قیاس بھی ہے،حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان کے قریب مرگ ہی جلوہ افروز ہوئے ہیں،اسی حالت میں کفارِ قریش سے وہ محاورات ہوئے سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے بار بار باصرار دعوتِ اسلام فرمائی کفار نے ملتِ کفر پر قائم رہنے میں جان لڑائی،آخر پچھلا جواب وہ دیا کہ ابو طالب ملتِ جاہلیت پر جاتا ہے،یہاں تك بات چیت کی طاقت تھی اب سینے پر دم آیا پر دے اُٹھے غیب سامنے آیا اُس نار نے جس پر عار کو اختیار کیا تھا اپنی مہیب صورت سے منہ دکھایا لیس الخبر کالمعاینۃ[1] (خبر مشاہدہ کی مثل نہیں۔ت) اب کھلا کہ یہ بلا جھیلنے کی نہیں،ڈوبتا ہوا سوار پکڑتا ہے،اب لا الٰہ الا اﷲ کی قدر آئی،کہنا چاہا طاقت نہ پائی،آہستہ لبوں کو جنبش ہوئی مگر بے سود کہ وقت نکل چکا تھا۔
|
انّا اﷲ وانّا الیہ راجعون ولا حول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔ |
ہم اﷲ تعالٰی کے لیے ہیں اور اسی کیطرف لوٹ کر جانے والے ہیں،نہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نی نیکی کرنے کی قوت ہے مگر بُلندی و عظمت والے خدا کی توفیق سے۔(ت) |
تو حضرت عباس رضی ا ﷲ تعالٰی عنہ بھی سچے کہ کلمہ پڑھا،اور قرآن و حدیث تو قطعًا سچے ہیں کہ حکمِ کفر بدستور رہا۔والعیاذ باﷲ ربّ العالمین۔(اﷲ کی پناہ جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا۔ت)
سابعًا:اس سے بھی در گزر یے،یہ بھی مانا کہ حالتِ غرغرہ سے پہلے ہی پڑھا ہے پھر حضرت عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہ تو ظاہر ہی کی گواہی دیں گے،دل کے حال کا عالم خدا ہے،کیا اگر کوئی شخص روزانہ لاکھ بار کلمہ پڑھے اورا ﷲ عزوجل اسے کافر بتائے تو ہم اس کے کلمہ پڑھنے کو دیکھیں گے یا اپنے رب عزوجل کے ارشاد کو،ایمان زبان سے کلمہ خوانی کا نام نہیں،جب دلوں کا مالك اس کے کفر پر حاکم تو قطعًا ثابت کہ اس کے قلب میں اذعان و اسلام نہیں،آخر نہ سُنا کہ جیتے جاگتے تندرستوں کے بڑی سے بڑی قسم کھا کر " نَشْہَدُ اِنَّکَ لَرَسُوۡلُ اللہِ ۘ"[2](ہم گواہی دیتے ہیں کہ حضور بے شك یقینًا اﷲ کے رسول ہیں۔ت)کہنے پر کیا ارشاد ہوا:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع