30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فھما شہادتان جاء تاعندنا احدھما تثبت والاخری تنفی فتقدم التی تثبت لوکان صاحبہا عدلا ومعاذ اﷲ ان تقدم علی قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لم یقبل شہادۃ العباس و لم یرکن الیھا فھو صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قاض لاشاھد اٰخر وانما الشاھد العباس وحدہ،فاذا لم یقبلہا النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فمن یقبلہا بعدہ ھذا ماعندی وانافی عجب عاجب ھٰھنا من کلام ھٰؤلاء الاعلام الاکا برفامعن النظر لعل لہ معنی قصرت عنہ ید فھمی القاصر ۔ |
یہ دو شہادتیں ہمارے پیش نظر ہیں،ایك ثابت کرنے والی اور دوسری نفی کرنے والی،لہذا مثبت گواہی نافی پر مقدم ہوگی جب کہ مثبت گواہی دینے والا عادل ہو اور معاذ اﷲ کہ وہ نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے قول پر مقدم ہو۔نبی اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے حضرت عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی شہادت کو قبول نہیں فرمایا اور نہ ہی اس کی طرف میلان فرمایا،کیونکہ آپ تو قاضی تھے نہ کہ دوسرے گواہ،گواہ تو تنہا حضرت عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہ تھے جب نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اسے قبول نہیں فرمایا تو آپ کے بعد کون قبول کرسکتا ہے۔یہ وہ ہے جو میرے پاس ہے۔مجھے اس مقام پر ان اکابر علماء کے کلام پر سخت تعجب ہے،میں نے گہری نظر سے دیکھا کہ شاید اس کا کوئی معنی بن سکتا ہو مگر میرے فہم قاصر کا ہاتھ اس سے قاصر رہا۔(ت) |
یہ اجوبہ علماء ہیں اور بحمد اﷲ کافی و وافی و صافی ہیں،وانا اقول:وباﷲ التوفیق(میں اﷲ تعالٰی کی توفیق سے کہتا ہوں۔ت)
سادسًا ہم تسلیم کرتے ہیں کہ روایت اُنہیں احادیث صحیحیں کی مثل سندًا ومتنًا ہر طرح اعلٰی درجہ کی صحیح اور شہادت عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہ بھی بروجہ کمال مقبول ونجیح،پھر بھی نہ مستدل کو نافع نہ کفرِ ابی طالب کی اصلًا دافع،آخر جب بحکمِ احادیث جلیلہ آیت قرآنیہ مشرك و ناری بتارہی ہے تو یہ کسی کے مٹائے مٹتا نہیں،یہ دوسری حدیث کہ فرضًا اُسی پلہ کی صحیح و جلیل ہے صرف اتنا بتاتی ہے کہ ابو طالب نے اخیر وقت لا الہٰ الا اﷲ کہا،یہ نہیں بتاتی،کہ وہ وقت کیا تھا،آخر وقت کیا تھا،آخر وقت دو ہیں ایك وہ کہ ہنوز پر دے باقی ہیں اور یہ وقت وقتِ قبول ایمان ہے،دوسرا وہ حقیقی آکر جب حالت غر غرہ ہو،پردے اُٹھ جائیں جنت و نار پیش نظر ہوجائیں۔"یؤمنون بالغیب"کا محل نہ رہے،کافر کا اس وقت اسلام لانا بالاجماع مردود و نامقبول ہے۔اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
|
" فَلَمْ یَکُ یَنۡفَعُہُمْ اِیۡمٰنُہُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاۡسَنَا ؕ سُنَّتَ اللہِ الَّتِیۡ قَدْ خَلَتْ |
تو اُن کے ایمان نے انہیں کام نہ دیا جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا،اﷲ کا دستور جو اس کے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع