30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ان الامام العینی لقد احسن اذاقتصرفی نقل کلام الامام السہیلی علی مامرونعمافعل اذلم یتعدالٰی ما تعدی الیہ الامام القسطلانی وتبعہ العلامۃ الزرقانی حیث اثراکلامہ برمتہ واقرا علیہ ھذالفظھما (اجیب) کما قال السہیلی فی الروض(بان شہادۃ العباس لابی طالب لواداھا بعد مااسلم کانت مقبولۃ و لم ترد) شہادتہ(یقول علیہ الصلوۃ والسلام لم اسمع لان الشاھد العدل اذا قال سمعت وقال من ھو اعدل منہ لم اسمع اخذ بقول من اثبت السماع)قال السھیلی لان عدم السماع یحتمل اسبابا منعت الشاھد من السمع(ولکن العباس شہدبذلك قبل ان یسلم)فلا تقبل شہادتہ[1]۔ اھ اقول:فلیس الکلام فی ان عباسا اثبت والنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نفی |
امام سہیلی کے نقل کلام میں اقتصار کرکے بہت اچھا کیا اُس کی بنیاد پر جو گزرا اور اس کی طرف تجاوز نہ کرکے بھی اچھا کیا جس کی طرف امام قسطلانی نے تجاوز کیا اور ان کی اتباع کی علامہ زرقانی نے کیونکہ ان دونوں نے اس کے کلام کو پورا نقل کیا اور اس پر قائم رہے اور یہ لفظ ان دونوں کے ہیں۔(جواب دیا گیا)جیسا کہ امام سہیلی نے روض میں فرمایا کہ اگر ابوطالب کے بارے میں حضرت عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی شہادت آپ کے اسلام لانے کے بعد ہوتی تو مقبول ہوتی،اس کو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے اس ارشاد کے ساتھ رَدنہ کیا جاتا کہ " میں نے نہیں سُنا" کیونکہ عادل گواہ جب کہے کہ میں " میں نے سُنا ہے"،اور اس سے زیادہ عدل والا کہے کہ " میں نے نہیں سُنا" تو اس کے قول کو قبول کیا جائے گا جو سماع کو ثابت کرنے والا ہے،سہیلی نے کہا:اس کی وجہ یہ ہے کہ عدمِ سماع کئی ایسے اسباب کا احتمال رکھتا ہے جو گواہ کو سننے سے روکتے ہوں،لیکن چونکہ حضرت عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے اسلام لانے سے قبل اس کی شہادت دی لہذا ان کی شہادت قبول نہ ہوگی۔اھ میں کہتا ہوں اس میں کلام نہیں کہ حضرت عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے اثبات کیا اور نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے نفی فرمائی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع