30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مبارکش لم اسمع حالانکہ نہ چنان ست بلکہ ایں تتمہ ہماں روایت ابن اسحٰق ست بریں معنی آگاہ بایدبود[1]۔ |
سُنا"حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ یہ اسی روایت ابن اسحٰق کا تتمہ ہے،اس معنی پر آگاہ ہونا چاہیے۔(ت) |
ثالثًا:خود قرآنِ عظیم اسے رَد فرمارہا ہے اگر اسلام پر موت ہوتی سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو استغفار سے کیوں ممانعت آئی۔یہ جواب حافظ الشان کا ہے اور اُسے خمیس میں بھی ذکر کیا۔اصابہ میں بعد عبارت مذکورہ قریبہ ہے:
|
"اذ لو کان قال کلمۃ التوحید مانھی اﷲ تعالٰی نبیہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن الاستغفار لہ[2]۔ |
اگر اس نے کلمہ توحید کہہ لیا ہوتا تو ا ﷲ تعالٰی اپنے نبی کو اُس کے حق میں استغفار سے منع نہ فرماتا۔(ت) |
اقول:استغفار سی نہی کفر میں صریح نہیں حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ابتدائے اسلام میں میت مدیون کے جنازہ پر نماز پڑھنے سے ممنوع تھے۔علمائے متاخرین نے حدیث استاذنت ربی ان استغفرلا می فلم یا ذن لی[3]۔ (میں نے اپنے رب سے اذن طلب کیا کہ میں اپنی ماں کے لیے استغفار کروں تو اُس نے مجھے اذن نہ دیا۔ت)
کا یہی جواب دیا ہے استدلال اسی آیت کریمہ کے لفظ للمشرکین و لفظ اصحٰب الجحیم سے اولٰی وانسب ہے اگر کلمہ اسلام پر موت ہوتی تو رب العزۃ ابو طالب کو مشرك کیوں بتاتا،اصحابِ نار سے کیوں ٹھہراتا۔لاجرم یہ روایت بے اصل ہے۔
رابعًا اقول:اس میں ایك علّت اور ہے،حدیث صحیح چہارم دیکھئے خود یہی عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہ جن سے یہ حکایت ذکر کی جاتی ہے موت ابی طالب کے بعد حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے پوچھتے ہیں۔یارسول اﷲ ! حضور نے اپنے چچا ابوطالب کو بھی کچھ نفع دیا وہ حضور کا غمخوار طرفدار تھا ارشاد ہواہم نے اُسے سراپا جہنم میں غرق پایا اتنی تخفیف فرمادی کہ ٹخنوں تك آگ ہے میں نہ ہوتا تو اسفل السافلین اس کا ٹھکانا تھا[4]۔
سُبٰحن اﷲ! اگر عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہ اپنے کانوں سے مرتے وقت کلمہ توحید پڑھنا سُنتے تو
[2] الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ حرف الطاء القسم الرابع ابوطالب دارصادر بیروت ۴ /۱۱۷
[3] صحیح مسلم کتاب الجنائز فصل فی جواز زیارۃقبور المشرکین الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۱۴
[4] صحیح البخاری مناقب الانصار باب قصّہ ابی طالب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۵۴۸،صحیح مسلم کتاب الایمان باب شفاعۃ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لابی طالب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۵،مسند احمد بن حنبل عن العباس المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۲۰۷ و ۲۱۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع