30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الصحابۃ مقبولۃ بالاجماع ولا عبرۃ بمن شذ،فی تقریب النووی ھذا کلہ فی غیر مرسل الصحابی اما مرسلہ فمحکوم بصحتہ علی المذھب الصحیح[1]۔ قال فی التدریب قطع بہ الجمھور من اصحابنا و غیرھم واطبق علیہ المحدثون[2]۔ وفی مسلم الثبوت ان کان من الصحابی یقبل مطلقا اتفا قا ولا اعتداد لمن خالف[3]۔اھ وانما سماّہ البیقھی منقطعا علی اصطلاح لہ ولشیخہ الحاکم ان المبھم ایضامن المنقطع فی التقریب و التدریب(اذا قال)الراوی فی الاسناد(فلان عن رجل عن فلان فقال الحاکم) ھو (منقطع لیس مرسلا وقال غیرہ مرسل)قال العراقی کل من القولین خلاف ما علیہ الاکثرون، فانھم ذھبوا الی انہ متصل فی سندہ مجھول،وزاد البیہقی علی ھذا فی سننہ فجعل |
صحابہ کے مقبول ہونے پر اجماع ہے اور جو تنہا اس موقف کے خلاف ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں،تقریب نواوی میں ہے کہ یہ سب گفتگو مرسلِ صحابی کے غیر میں ہے۔رہا مرسل صحابی تو صحیح مذہب میں اس کے صحیح ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔تدریب میں کہا کہ ہمارے اصحاب وغیرہ جمہور نے اس حکم کو قطعی قرار دیا اور محدثین نے اس پر اتفاق کیا ہے۔مسلم الثبوت میں ہے مرسل اگر صحابی سے ہے تو مطلقًا قبول کی جائے گی، اور جس نے مخالفت کی اس کا کوئی اعبتار نہیں اھ بیہقی کا اُسے منقطع کہنا فقط ان کی اپنی اور ان کے شیخ امام حاکم کی اصطلاح ہے کہ ان کے نزدیك مبہم بھی منقطع ہے۔تقریب اور تدریب میں ہے راوی نے اسناد میں جب کہا کہ فلاں نے ایك مرد سے اور اس نے فلاں سے روایت کی تو امام حاکم نے فرمایا کہ یہ منقطع ہے مرسل نہیں ہے جب کہ اس کے غیر نے کہا یہ مرسل ہے۔عراقی نے کہا یہ دونوں قول اکثریت کے مؤقف کے خلاف ہیں کیونکہ اکثر کا مؤقف یہ ہےکہ یہ متصل ہے اس کی سند میں راوی مجہول ہے،امام بہقی نے اپنی سنن میں اس پر اضافہ کیا اور اس حدیث کو مرسل |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع