30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الاول اومنہ علی الثانی باصطلاح الفقہاء واھل الاصول واذا نظفت رجالہ فعندنا وعند الجمھور مقبول کیف و ذلك خلاف الواقع فی روایۃ ابن اسحٰق فان سندہ علٰی مارأیت فی سیرۃ ابن ہشام ونقلہ الحافظ وغیرہ فی الفتح وغیرہ ھکذا حدثنی العباس بن عبداﷲ بن معبد عن بعض اھلہ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما[1] وھذا لا انقطاع فید کما تری و لامساغ لا رادۃ الانقطاع من قبل ان ابن عباس لم یدرك الواقعۃ فانہ انما ولدعام مات ابوطالب ولد قبل الھجرۃ بثلث سنین کما فی التقریب[2]وکذلك ارخ ابن الجزار موت ابی طالب قبل ھجرتہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بثلث سنین کما فی المواھب [3] و ذٰلك لان مراسیل |
وہ مرسل ہے،اور بصورت ثانی مرسل کی ایك نوع ہے فقہاء اور اہلِ اصول کی اصطلاح میں،اور جب اس کے رجل عادل ہوں تو وہ ہمارے نزدیك اور جمہور کے نزدیك مقبول ہے اور جمہور کی اصطلاح میں یہ کیسے منقطع ہوسکتی ہے حالانکہ ابن اسحٰق کی روایت میں معنی مذکور کے خلاف واقع ہے،کیونکہ اس کی سند جیسا کہ میں نے سیرت ابنِ ہشام میں دیکھی اور حافظ وغیرہ نے اس کو فتح الباری وغیرہ میں نقل کیا وہ یوں ہے،مجھے حدیث بیان کی عباس بن عبداﷲ بن معبد نے اپنے بعض گھر والوں سے انہوں نے عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے اور اس مین جیسا کہ تُو دیکھ رہا ہے کوئی انقطاع نہیں اور نہ ہی اس جہت سے انقطاع مراد لینے کی کوئی گنجائش ہے کہ ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے یہ واقعہ نہیں پایا کیونکہ آپ اس سال پیدا ہوئے جس سال ابوطالب کا انتقال ہوا۔آپ کی ولادت ہجرت سے تین سال قبل ہوئی جیسا کہ تقریب میں ہے اور یونہی ابوطالب کی موت کی تاریخ ابن جزار نے بیان کی وہ نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی ہجرت سے تین سال پہلے فوت ہوئے جیسا کہ مواہب میں ہے۔اور یہ اس لیے کہ مراسیل |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع