30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قدجاء بامرقبلہ الجنان وانکرہ اللسان مخافۃ الشناٰن[1]۔ |
محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہمارے پاس وہ بات لے کر آئے جسے دل نے مانا اور زبان نے انکار کیا اس خوف سے کہ لوگ دشمن ہوجائیں گے۔ |
علامہ زرقانی اس کی شرح میں فرماتے ہیں:
|
لما تعیرونہ بہ من تبعیتہ لابن اخیہ[2]۔ |
یعنی وہ خوف یہ ہے کہ تم عیب لگاؤ گے کہ وہ اپنے بھیتجے کا تابع ہوگیا۔ |
یعنی بھتیجا تو بیٹے کی مثل ہے انہیں امام بناتے آپ غلام بنتے عار آتی ہے،تم طعنہ کرو گے اس لیے اسلام سے انکار ہے اگرچہ دل پر اُن کا صدق آشکار ہے۔
ثالثًا: نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے باب میں اُن سے بعض وصایا ضرور منقول مگر جب اوروں کو وصیت ہو خود جاہلی حمیت ہو تو اس سے کیا حصول۔قال اﷲ تعالٰی:
|
" کَبُرَ مَقْتًا عِنۡدَ اللہِ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا مَا لَا تَفْعَلُوۡنَ ﴿۳﴾"[3]۔ |
اﷲ کو سخت دشمن ہے یہ بات کہ کہو اور نہ کرو۔ |
تندرستی میں بھی یہی برتاؤ تھا کہ اوروں کو ترغیب دینا اور آپ بچنا وہی انداز وقتِ مرگ برتا۔اصابہ میں فرمایا:
|
وھوامرابی طالب ولدیہ باتباعہ فترکہ ذلك ھو من جملۃ العناد وھو ایضًا من حسن نصرتہ لہ و ذبہ عنہ و معاداتہ قومہ بسببہ[4]۔ |
رہا یہ کہ ابو طالب کا اپنے بیٹوں حیدر کرار و جعفر طیار رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے کہنا کہ سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی پیروی کرو تو خود اس کا ترك کرنا یہ عناد میں سے ہے اور یہ ترغیب پیروی بھی اُن کی اُسی خوبی مدد و حمایت اور حضور کے باعث اپنی قوم سے مخالفت ہی میں داخل ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع