30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قد کان ابوطالب یحوطہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم و ینصرہ ویحبہ حبا طبعیا لاشرعیا فسبق القدرفیہ واستمر علی کفرہ وﷲ الحجۃ السامیۃ[1]۔ |
یعنی ابو طالب نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی نصرت و حمایت سب کچھ کی،طبعی محبت بہت کچھ رکھی۔ مگر شرعی محبت نہ تھی،آخر تقدیرِ الٰہی غالبآئی اور معاذ اﷲ کفر پر وفات پائی اور اﷲ ہی کے لیے ہے حجت بُلند۔ |
نسیم الریاض میں ہے:
|
حنونہ علی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم و محبتہ لہ امر مشہور فی السیروکان یعظمہ ویعرف نبوتہ ولکن لم یوفقہ اﷲ للاسلام و فی الامتناع ان فیہ حکمۃ خفیۃ من اﷲ تعالٰی لانہ عظیم قریش لایمکن احدامنھم ان یتعدی علی ما فی جوارہ فکان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی بدء امرہ فی کنف حمایتہ یذبھم عنہ کما قال: ؎ واﷲ لن یصلواالیك بجمعہم حتی اوسد فی التراب دفینا فلواسلم لم یکن لہ ذمۃ عندھم ولذالم یکن لہ صلی اﷲ علیہ علیہ وسلم بعد موتہ بد من الھجرۃ[2] |
نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ ابوطالب کی مہرو محبت مشہور ہے اور تعظیم و معرفت نبوت معلوم،مگراﷲ تعالٰی نے مسلمان ہونے کی توفیق نہ دی،اور کتاب الامتاع میں فرمایا: ابوطالب کے مسلمان نہ ہونے میں اﷲ تعالٰی کی ایك باریك حکمت ہے وہ سردارِ قریش تھے کوئی ان کی پناہ پر تعدی نہ کر سکتا تھا حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ابتدائے اسلام میں ان کی حمایت میں تھے وہ مخالفوں کو حضور سے دفع کرتے تھے،خود ایك شعر میں کہا ہے۔ خدا کی قسم تمام قریش اکٹھے ہوجائیں تو حضور تك نہ پہنچ سکیں گے جب تك میں خاك میں دبا کر لٹا نہ دیا جاؤں۔ تو اگر وہ اسلام لے آتے قریش کے نزدیك ان کی پناہ کوئی چیز نہ رہتی،آخر ان کے انتقال پر حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ و سلم کو ہجرت ہی فرمانی ہوئی۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع