30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بِمَا تُؤْمَرُ وَاَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِکِیۡنَ ﴿۹۴﴾"[1]۔(تو اعلانیہ کہہ دو جس بات کا تمہیں حکم ہے اور مشرکوں سے منہ پھیرلو۔ت)نازل ہوئی اور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے علانیہ دعوتِ اسلام شروع کی اشرافِ قریش جمع ہو کر ابو طالب کے پاس گئے اور کہا کہ تمام عرب میں سب سے زیادہ خوبصورت اور سب سے بڑھ کر اچھی اٹھان والا لڑکا ہم سے لے لو اُسے بجائے محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پرورش کرو اور انہیں ہم کو دے دو،اور اسی ارادہ فاسد پر عمارہ بن ولید کو لے کر گئے تھے کہ ابوطالب نے مانا تو اسے انہیں دے دیں گے،ابو طالب نے کہا:
|
"واﷲ لبئس ماتسوموننی اتطوننی ابنکم اغذوہ لکم واعطیکم ابنی تقتلونہ ھذا واﷲ مالا یکون ابدا حین تروح الابل فانہ حنت ناقۃ الی غیر فصیلہا دفعتہ الیکم "۔
لخصناہ حدیث ابن اسحٰق ذکرناہ بلاغا ومن حدیث مقاتل ذکر ہ فی المواھب[2] |
خدا کی قسم کیا بُری گاہکی میرے ساتھ کررہے ہو،کیا تم اپنا بیٹا مجھے دو کہ میں تمہارے لیے اسے کھلاؤں پرورش کروں اور میں اپنا بیٹا تمہیں دے دوں کہ تم اسے قتل کرو،خدا کی قسم یہ کبھی ہونی نہیں،جب اُونٹ شام کو نکلتے ہیں تو اگر کوئی ناقہ اپنے بچے کو چھوڑ کر دوسری کی طرف میل کرتی ہو تو میں بھی تم سے اپنا بیٹا بدل لوں۔ (ہم نے اس کو حدیث ابن اسحق سے ملحض کیا جسے انہوں نے مفصل بیان کیا اور ہم نے ملحض کیا اور حدیث مقاتل سے جس کو مواہب میں ذکر کیا گیا ہے۔ت) |
ابوطالب نے صاف بتادیا کہ ان کی محبت وہی ہے جو انسان تو انسان حیوان کو بھی اپنے بچے سے ہوتی ہے،ایسی محبت ایمان نہیں، ایمان حُبِّ شرعی ہے،ابوطالب میں اس کی شان نہیں،محبت شرعی وایمانی ہوتی تو نار کو عار پر اختیار اور دمِ مرگ کلمہ طیبہ سے انکار اور ملتِ جاہلیت پر اصرار کیوں ہوتا۔امام قسطلانی ارشاد الساری میں فرماتے ہیں:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع