30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اقول:اولًا یہ نصرت وحمایت کا قصہ بارگاہِ رسالت میں پیش ہوچکا،عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے عرض کی:یارسول اﷲ!ابو طالب چنیں و چنان کرتا اسے کیا نفع ملا ؟ جواب جو ارشآد ہوا۔حدیث چہارم میں گزرا۔
ثانیًا:بلکہ تفسیر ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما پر خود رب العزت جواب دے چکا کہ اوروں کو نبی کی ایذا سے روکتے اور خود ایمان لانے سے بچتے ہیں،دیکھو آیت وحدیث سوم۔
ثالثًا:اعتبار خاتمہ کا ہے"انما الاعمال بالخواتیم"[1]۔(اعمال کا دارو مدار خاتموں پر ہے۔ت)جب ابوطالب کا کفر پر مرنا قرآن وحدیث سے ثابت تو اب اگلے قصّے سنانا اور گزشتہ کفالت و نصرت سے دلیل لانا محض ساقط۔صحاح ستہّ میں حضرت عبداﷲ بن مسعود سے ایك حدیثِ طویل میں ہے،رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
"فواﷲ الذی لا الٰہ غیرہ ان احدکم لیعمل بعمل اھل الجنۃ حتی مایکون بینہ وبینہا الاذراع فیسبق علیہ الکتاب فیعمل بعمل اھل النار فید خل النار "[2]۔ |
قسم اﷲ کی جس کے سوا کوئی خدا نہیں تم میں کوئی شخص جنتیوں کے کام کرتا رہتا ہے یہاں تك کہ اس میں اور جنت میں صرف ایك ہاتھ کا فرق رہ جاتا ہی اتنے میں تقدیر غالب آجاتی ہے کہ وہ دوزخیوں کے کام کرکے دوزخ میں جاتا ہے۔ (والعیاذ باﷲ رب العالمین)۔ |
رابعًا:نہ صرف اسلام مستلزم اسلام نہ ثبوت خاص نہ ثبوت عام،صحیحین میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہی غزوہ خیبر میں ایك مدعِی اسلام نے ہمراہ رکاب اقدس سخت جہاد اور کافروں سے عظیم قتال کیا،صحابہ اس کے مداح ہوئے،حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:وہ دوزخی ہے۔اس پر قریب تھا کہ بعض لوگ متزلزل ہوجاتے۔(یعنی ایسے عالی درجہ کے عمدہ کام ایسی جلیل وجمیل نصرت اسلام اور اس پر ناری ہونے کے احکام)بالاخر خبر پائی کہ وہ معرکہ میں زخمی ہوا درد کی تاب نہ لایا رات کو اپنا گلا کاٹ کر مر گیا۔حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع