30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے مطابق ہر امورِ حسنہ کو سیئہ سے پاك رہنے کا حال مفصل نہ کہہ سنائیں کہ عوام غلط فہمی سے حق تلفی کرکے امور حسنہ کو بآمیزش ممنوعات کے مذموم نہ کردیں اگر اس کا التزام مذکورین اپنے اپنے وعظ میں نہ کریں تو موردِ الزام ہوسکتے ہیں یا نہیں؟
الجواب:
واعظ کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ مسلمان ہو دیوبندی عقیدے والے مسلمان ہی نہیں ان کا وعظ سننا حرام اور دانستہ انہیں واعظ بنانا کفر علمائے حرمین شریفین نے فرمایا ہے کہ:
|
من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر [1] |
جس نے ان کے کفر اور عذاب میں شك کیا اس نے کفر کیا۔(ت) |
اسی طرح تمام وہابیہ و غیر مقلدین فانّھم جمیعا اخوان الشیاطین۔(کہ وہ سب شیطانوں کے بھائی ہیں۔ت)دوسری شرط سنی ہونا غیر سنی کو واعظ بنانا حرام ہے اگرچہ بالفرض وہ بات ٹھیك ہی کہے۔حدیث میں ہے نبی کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
من وقرصاحب بدعۃ فقد اعان علٰی ھدم الاسلام [2] |
جس نے کسی بدمذہب کی توقیر کی اس نے دین اسلام کے ڈھانے پر مد دد ی۔ |
تیسری شرط عالم ہونا جاہل کو واعظ کہنا ناجائز ہے جیسا کہ ارشا دہے:
|
اتخذالناس رؤسا جہا لا فسئلوا فافتوا بغیر علم فضلوا واضلوا۔[3] |
لوگوں نے جاہلوں کو سردار بنالیا پس جب ان سے سوال کیا گیا تو انہوں نے بے علم احکام شرعی بیان کرنے شروع کیے تو آپ بھی گمراہ ہوئے اور اوروں کو بھی گمراہ کیا۔ |
چوتھی شرط فاسق نہ ہونا۔تبیین الحقائق وغیرہ میں ہے:
|
لان فی تقدیمہ للامامۃ تعظیمہ |
کیونکہ اسے امامت کے لیے مقدم کرنے میں اس کی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع